گمنام خدمت گزاروں کو سلام ۔ ( حسب منشا ) تحریر : منشاقاضی

مطمئن دل ھو تو ویرانوں کے سناٹے بھی گیت دل اجڑ جائے تو شہروں میں تنہائی بہت

0 109

غربت انسان کو معاشرے میں بے توقیر نہیں کر سکتی اس وقت تک جب تک آپ ایماندار اور با اخلاق ھیں اس لیئے دیانت دار آدمی کتنا ھی غریب کیوں نہ ھو اس کے باوجود وہ انسانوں کے درمیان ایک سلطان کا درجہ رکھتا ھے اور ایک امیر ترین جو بد دیانت ھے وہ حقیقی تکریم سے محروم ھے ۔ ھمارے ھاں وہ سرکاری یا نیم سرکاری ادارے جن کے ھاں امرا غربا اور حکومتوں کی امانتیں موجود ھیں وہ قوم کے اجتماعی ضمیروں میں خوش نظری اور حقیقی احترام کے سزاوار ھیں ان اداروں کا عملہ منجملہ گرانمایہ سرمایہ ء افتخار سے معمور و مسحور ھے ۔ ان کا تعلق کتاب سے بھی ھے اور حساب سے بھی ان کی خوش مزاجی دیانت داری اخلاق ھمدردی وعدہ اصول مشورہ کردار یاداشت کفایت شعاری محنت کامیابی ھمت اور دوراندیشی ھی ان کی نیک نامی کا اشتہار ھے ۔

 

 

اور آج جب کہ کورونا وار نے ملکی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ھے اور ھر کوئی اپنی جان بچانے کی ھدایات پر عمل کر رھا ھے یہ وہ واحد ادارہ ھے جسے ھم عرف عام میں بنک کہتے ھیں جہاں ھم سب کی امانتیں کرنسی اور گولڈ کی صورت میں موجود ھیں ۔ امین لوگوں کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاھتا ھے جنہوں سماجی فاصلوں کو دیانت داری کی راہ میں دیوار نہیں بننے دیا بلکہ اپنے کرم فرماوں کی خدمت گزاری میں بھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور قائد کے فرمان پر عمل کر رھے ھیں ۔ اپنا اخلاق ھر صورت میں بلند رکھوکیونکہ ھمارا مذھب یہی سکھلاتا ھے

 

آج صبح میرے ایک عزیز نے میری توجہ بینکوں میں کام کرنے والے ملازمین کی جانب مبذول کراتے ھوئے بڑی جگر سوزی دلگداز لہجے کی شرافت کا ثبوت دیتے ھوئے کہا کہ حفظان صحت کی سرحدوں پر صرف میڈیکل سٹاف ھی پہرہ نہیں دے رھا بلکہ کرونا وار سے دو بدو جو لوگ لڑ رھے ھیں وہ بینکار ھیں جن کے ھاتھوں میں جرثومہ نوٹوں کی وصولی کرتے وقت چھو جاتا ھے ۔ یہ الگ بات ھے پرھیز احتیاطی تدابیر اور حفاظتی ھدایات پر عمل ھو رھا ھے لیکن پھر بھی میڈیا نے خوف اور ڈر کی جو ھولناک لہر پورے ملک میں چلا رکھی اس نے بڑے بڑے جگر داروں کی جگرداری کو مشکوک بنا دیا ھے

 

 

الائیڈ بنک کے ممتاز ماھر اقتصادیات و معاشیات جنہوں نے اسی مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ھے ڈاکٹر طاھر احمد خان نے فون پر بتلایا ھے کہ کرنسی کو ھاتھ میں پکڑنا اپنی جان ھتیلی پر رکھ کر ھی یہ خدمت سرانجام دی جا رھی ۔ڈاکٹر طاھر احمد خان نے بتایا کہ ھم ملک و ملت کے امین ھیں ھم پر جو اعتماد کیا جا رھا وھی ھماری متاع عزیز ھے ۔ انہوں نے کہا ھماری وسعت قلبی اور ھمدردانہ خدمات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ھیں کہ ھم نے کبھی اپنی خدمات کی تشہیر نہیں کی ھماری خاموش خدمات کی خوشبو ھی ھمیں روحانی مسرت سے سرفراز کرتی ھے ۔ اس افراتفری کے عالم میں جو لوگ اطمینان سے دفتروں میں کام کر رھے ھوں ان میں بینکوں کے ملازمین کی خدمات کا آپ کو کوئی متبادل نظر نہیں آئے گا

 

 

یہ وہ ادارہ ھے جس میں بیمہ کمپنیاں بھی آتی ھیں ان کے ملک میں سب سے زیادہ ھمدرد اس لیئے ھیں کہیہ خود دوسروں سے ھمدردی کا برتاو کرتے ھیں ۔اور ھمدردانہ برتاو میں یہ سماجی فاصلہ بھی احتیاط کے لیئے ضروری ھے ۔ ھمارے علی بابا کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ھے جو روزانہ کی باز پرس اور حساب و کتاب میں الجھ کر بھی ایک سلجھے ھوئے بینکار ھیں ۔اور احساس کی روشنی کی دولت سے مالا مال ھیں ۔میں تو اس شفیق انسان کی سورج کی کرنوں سے زیادہ روشن محبتوں کا مقروض ھوں ۔ پھر آپ حسین مجروح کی روح پرور شخصیت کا بھی جائزہ لیں تو وہ نہ صرف حبیب بینک کے اذکار رفتہ وائس پریذیڈنٹ ھیں بلکہ حساب کے استاد بھی ھیں وہ موجودہ وبا اور بلا کی موجودگی میں بینک ملازمین کی احتیاطی تدابیر پر زور دے رھے ھیں ۔اس کے لیئے ضروری ھے بینک کے اندر کرم فرماوں کو بالکل نہ آنے دیا جائے اور آن لائین جدید عہد کے ریاضی ویپن کا استعمال کیا جائے ۔

 

 

لگن اور اعتماد پر بھی یہ وبا اثر انداز ھو رھی ھے ۔ ڈاکٹر طاھر احمد خان نے بڑے پتے کی بات کی ھے کہ سب سے زیادہ متاثر ھم لوگ ھیں اگر ھمارا دل مطمئن نہ ھوتا تو آپ کو بنک ویران دکھائی دیتے ۔ واقعی دنیا ایسے ولولہ انگیز انسانوں کی ھے جن کی پر جوش سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اطمینان کی دولت بھی موجود ھو
۔۔ مطمئن دل ھو تو ویرانوں کے سناٹے بھی گیت
۔۔ دل اجڑ جائے تو شہروں میں تنہائی بہت ۔

 

ویسے بہت سارے بینک ملازمین سودی نظام کی وجہ سے بھی پریشان ضرور ھیں مگر اپنی فرض شناسی کے حوالے سے انہیں ایک لحظہ بھی اپنی کسی حرکت پر ندامت نہیں ھے ۔ اس وقت ارباب اختیار وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر خزانہ کی توجہ انتہائی حساس ترین اور سنگین ترین صورت حال کی جانب مبذول کروائی جاتی ھے کہ ان حسابی لوگوں پر رحم فرمائیں اور ان کو کورانا وار کی تباہ کاریوں سے پیشگی بچانا اس لیئے ضروری ھے کہ ان کے ھاتھ میں مالی معاملات کی بھاگ ڈور ھے اور یہ وہ حساس ترین معاملہ جس کی باز پرس سے روز حساب بھی جان نہیں چھوٹے گی ۔

 

۔۔۔ دنیا کی باز پرس سے اب تک نہیں نجات
الجھا ھوا ھوں حشر کے دن بھی حساب میں

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.