اسلاف کی پاکیزہ روایتوں کے امین حضرت مولانانورالاسلام رحمة اللہ علیہ تحریر:مولانامحمد طارق نعمان گڑنگی

مولانامرحوم عبادت گزار،تہجد گزارتھے ۔روزانہ تہجد میں تین پارے پڑھا کرتے تھے

0 191

مجھے حکم ہوا ہے کہ حضرت مولانا نورالاسلام رحمة اللہ علیہ کے بارے میں کچھ لکھوں،مجھ بے بساط سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ میں اس سلسلے میں موضوع سے پوری طرح انصاف کرسکوں گا، جو کچھ بھی میرا قلم لکھے اس کے بارے میں یہی کہوں گا کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔
مولانانورالاسلام رحمة اللہ علیہ 1961ء کو مولاناحکیم فضلِ حق مرحوم بن مولانامحمد حسین مرحوم کے ہاں مرادپور مانسہرہ ہوئے ۔مولاناحکیم فضلِ حق مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے پانچ بیٹے عطا کیے جن کے نام درج ذیل ہیں
1۔حضرت مولانانورالاسلام مرحوم
2۔حضرت قاضی عبدالسلام صاحب جوکہ تاتارمانسہرہ میں سرکاری سکول ٹیچر ہیں ۔
3۔حضرت قاری شمس الاسلام صاحب حال ریاض سعودی عرب
4۔حضرت قاری ضیاء الاسلام صاحب ۔امام وخطیب جامع مسجد حسین بن علی رضی اللہ عنہ غازیکوٹ ٹائون شپ مانسہرہ۔
5۔حضرت مولاناپیر احسان الحق نقشبندی صاحب،امام وخطیب جامع مسجدستارہ خانقاہ نقشبندیہ باہتر روڈواہ کینٹ ضلع راولپنڈی ۔
مولانانورالاسلام رحمة اللہ علیہ بھائیوں میں سب بڑے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیک سیرت اولاد سے نواز ا۔
آپ کی اولاد میں تین بچے اور دو بچیاں ہیں۔

1۔مولانازکریا اسلام صاحب جوکہ لندن میں امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔
2۔مولانامحمد اسامہ اسلام صاحب جوکہ لندن میں درس تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔
3۔حافظ طلحہ اسلام صاحب یہ بھی لند ن ہی میں مقیم ہیں ۔
مولانانورالاسلام رحمة اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے گائوں میں ہی حاصل کی بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ فرقانیہ کوہاٹی بازار راولپنڈی کا رخ کیا ۔جہاں حکیم ملت مولاناعبدالحکیم رحمة اللہ علیہ کے زیر سایہ تعلیم حاصل کی ،پھر جامعہ فاروقیہ کراچی میں چلے گئے اور وہاں اکابرعلماء کرام سے فیضیاب ہوئے اس کے بعدسعودی عرب چلے گئے اور جامعہ الملک سعود الریاض یونیورسٹی الریاض میں داخلہ لیا جہاں آپ نے 11سال پڑھا۔وہیں پر مسجد عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ میں نائب امام اور مئوذن کے فرائض سر انجام دیے ۔
اس کے بعد آپ پاکستان آگئے یہاں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد آپ کو لندن میں ایک کانفرنس میں مدعو کیا گیا ۔چنانچہ آپ لندن چلے گئے وہاں اس کانفرنس میں موجود حضرات علماء کرام اور عوام الناس سے ملاقاتیں بھی ہوئیں حضرت کے علم وعمل کو دیکھ کر وہاں کے لوگ آپ کے گرویدہ ہوگئے اوروہاں کے مقیم لوگوں نے آپ کو وہیں رہنے پر مجبور کر دیا جس کی وجہ سے آپ نے لندن میں ہی امامت وخطابت کا آغاز کر دیا ۔11سال وہاں گزارنے کے بعد2011ء میں دوبارہ آپ پاکستان آگئے ۔یہاں اپناذاتی پلاٹ وقف کر کے مسجدحسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بنیا د رکھی جس کام آپ نے اپنی موجودگی میں شروع کر دیا تھا اور اپنی زندگی کے ہی اندر اس مسجد کو تعمیر کر لیا ۔ان کی دلی خواہش تھی کہ مسجد کے ساتھ ایک دینی ادارہ بھی ہو جس میں قرآن پاک کی تعلیم اور درسِ نظامی بھی ہو ۔حضرت کی اس خواہش کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے چھوٹے بھائی قاری ضیاء الاسلام صاحب امام وخطیب جامع مسجد حسین بن علی نے مدرسہ نوالاسلام کا آغاز بھی کر دیا جس میں فی الحال شعبہ حفظ و ناظرہ کی کلاس ہے اور پندرہ طلباء ہاسٹل میں موجود ہیں ۔

مولانامرحوم کی تعلیم وتعلم کے ساتھ خاص نسبتیں رکھتے تھے ۔پاکستان آکر مختلف مدارس میں تدریسی فرائض سرانجام دیے ۔جامعہ محمودیہ مانسہرہ میں شعبہ کتب کے مدرس تھے اور ساتھ ہی جامعہ حفصہ للبنات مانسہرہ میں بخاری شریف پڑھاتے رہے ۔جامع مسجد حسین بن علی رضی اللہ عنہ میں رمضان المبارک میں تین سال خود قرآن پاک تراویح میں سنایا ۔
مولانامرحوم عبادت گزار،تہجد گزارتھے ۔روزانہ تہجد میں تین پارے پڑھا کرتے تھے ۔تقریباً چالیس سال تک رمضان المبارک میں نمازِ تراویح کے اندر قرآن پاک سنایا۔
مولانامرحوم والدمحترم (مولاناقاضی محمد اسرائیل گڑنگی صاحب ) کے بہت قریبی دوست تھے ۔دومرتبہ ہماری جامع صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں درسِ قرآن دیا بھی دیا ۔مولانامرحوم کی یہ خواہش تھی کہ آئندہ سال دو اسباق جامعةُ البنات صدیقہ کائنات میں دیے جائیں اور والد صاحب کا بھی ارادہ تھا کہ مولانا آئندہ سال یہاں پڑھا لیں لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا یقینا حضرت کو ان نیک خواہشات کااجرو ثواب مل گیا ہوگا۔
مولانا ایک ممتاز عالمِ دین تھے جنہوں نے اپنی ساری حیات ومتاع کو دینِ اسلام کے لیے وقف کر دیاتھا۔ہمیشہ قال اللہ وقال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ترانے آپ کی زبان مبارک سے سنا کرتے تھے ۔آپ ایک سچے معلم ومدرس تھے، خود ان کی شخصیت ان کے اسلوب درس کی طرح مختلف پھولوں کے عطر کا مجموعہ، اہل دل کے دلوں کی تپش، شبوں گداز، شعروادب کے قلم کا ساز، اہل فکروعمل کا ذوقِ جستجو اور مجاہدین کی روح عمل یہ سب کچھ ان کی ذات میں اس طرح جمع ہوگیا کہ ان کی شخصیت سب سے منفرد اور سب سے ممتاز ہوگئی تھی، ان میں جامعیت بھی تھی اور اعتدال بھی، جمال بھی تھا اور کمال بھی۔

citytv.pk
citytv.pk

مثل خو ر شید سحر فکر کی تا با نی میں
شمعِ محفل کی طرح سب سے جدا سب کا رفیق
اللہ تعالیٰ نے ممدوح مکرم کو بیشمار کمالات وخوبیوں سے نوازا تھا، وہ جہاں ایک متبحر صاحبِ نظر عالم، دیدہ ورفقیہ، عظیم محدث ومفسر، صاحبِ طرز ادیب اوربے مثال معلم ومدرس تھے، وہیں عملی دنیا میں زہدوتقوی ، انابت الی اللہ، تواضع وانکساری، حلم وبردباری، بے نفسی وخداترسی، رحمدلی وہمدردی جیسی عظیم ملکوتی صفات ان کی ذات میں اس طرح پیوست تھی جیسے گلوں میں خوشبو،آفتاب میں روشنی ، بندگانِ خدا سے ا لفت ومحبت، ہمدردی ورحمدلی ، آں محترم کی طبیعت اور دونوں جہانوں میں ان کی کامیابی کی سرخروئی کی فکروتڑپ، بے تابی وبے قراری فطرت بن گئی تھی۔
مولانا کی شخصیت وہ ہیرا تھی کہ جس نے بہت سی خصوصیات اور کمالات کو اپنے اندر جمع کر لیا تھا، حب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مولانا ہمیشہ سرشار رہتے، کھانے پینے میں، لباس اور وضع قطع میں سنتوں کا خیال فرماتے، میں نے کبھی انھیں کسی کی غیبت کرتے ہوئے نہیں سنا، اور نہ اپنے سامنے کسی کی غیبت کرنے دیتے ، وعدہ خلافی کا تو خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔مولانا عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبے ہوئے ایک سچے عاشقِ رسول تھے ۔
واقف ہو اگر لذت بیداری شب سے
اونچی ہے ثریا سے بھی یہ خاک پر اسرار

مولانامرحوم مجسم عبادت وریاضت، زہد واستغنا اور خوف ِآخرت اور خشیت الٰہی کا پیکر، صلاح وتقوے کا ماہتاب، اسلاف کی پاکیزہ روایتوں کا ا مین،جادہ عشق وفا کا بے باک پاسبان، سرمایہ تعلیم وتربیت کا مخلص نگہبان اور ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے ۔
آ! عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں
تو ہائے گل پکار میں پکاروں ہائے دل
متعدد بار راقم الحروف کو مولانا محترم کی مجلسوں میں شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ہے ،لیکن آخری بار مولانا سے ملاقات فیصل شاپنگ آرکیڈ پنجاب چوک مانسہرہ میں شہادت سے ایک ماہ قبل ہوئی ۔نمازِ مغرب وہاں ادا کی تو اس کے بعد مسجد میں کھڑے کھڑے ایک علمی گفتگو شروع ہوگئی جس میں مولاناسید اکرم شاہ صاحب بھی موجود تھے دونوں علمی شخصیات نے کافی مدلل گفتگو کی جس سے بڑا لطف حاصل ہوا۔یہ گفتگو مغرب سے عشاء تک جاری رہی ۔۔۔حضرت کو اللہ پاک نے کمال کا حافظہ عطا کیا تھا وہ جب گفتگو کرتے ایسا محسوس ہوتا کہ رومی وغزالی کو انہوں نے جیسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔۔۔
مولانا کی نجی محفلیں ہوں یا پندونصائح کی محفلیں جب زبانِ حق بیان کھلتی تو وہ علمی جواہر پارے بکھیرتے کہ آنکھیں خیرہ اور دل ششدررہ جاتے، اہل شعور کہہ اٹھتے
علومِ د ین پر ا للہ ا کبر اتنی قدرت ہے
زباں میں کوثر وتسنیم کی شامل حلاوت ہے

جس طرح ذہانت وفراست اور تعلیم وتعلم میں مولانا کی ایک انفرادی شان تھی اسی طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں مختلف بھی پڑھا اور گنگنایا کرتے تھے ۔جب بھی کوئی نعت خوان آپ کے ہاں تشریف لاتا تو ضرور اس سے نعتیہ کلام سنا کرتے تھے ۔
ہر ایک سے مسکرا کر ملنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں منقول ہے کہ آپ کے پاس آنے والا ہر شخص یہ محسوس کرتا تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زیادہ محبت کرتے ہیں، یہی حال حضرت مولانا کا تھا آنے والے سے مسکرا کر ملتے تھے، اس کی تواضع فرماتے تھے، مولانا محترم کی پوری زندگی ورع وتقوی، عزم واستقلال اور زہدو استغنا سے عبارت تھی،دنیا اور متاعِ دنیا کی طرف کبھی آپ کی نگاہ نہیں ا ٹھی، مال ودولت، جاہ ومرتبہ کی ذرا بھی محبت آپ کے دل میں نہیں تھی۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آپ کے قدموں میں لاکر رکھ دیا تھا ۔۔
علماء ورفقاء کا اکرام

انسان کی عظمت وبزرگی اور اس کے قد کی بلندی کا راز یہ ہے کہ جس طرح وہ اپنے بزرگوں کے تقدس اور ادب واحترام کے پاس ولحاظ کو سعادت اور خوش بختی تصور کرتا ہے، اسی طرح اپنے چھوٹوں پر شفقت ومحبت، رحم دلی ومہربانی کی فرحت بخش چادر ڈال کر ان کی تعمیر وترقی کے لیے ہر وقت کوشاں رہتا ہے، جناب موصوف کی تمام مجلسوں میں انسانیت کی یہ صفت نمایاں طور پر محسوس ہوتی تھی، وہ اپنے علماء و رفقا ء سے ٹوٹ کر محبت کرتے تھے، عام آدمی کے ساتھ بھی آپ کا رویہ انتہائی کریمانہ ہوتا تھا،اس کے کیف آگیں لمحات پر ا ظہارِ مسرت کے ساتھ نا مساعد حالات پر دل گرفتہ اور بے قرار ہوجاتے تھے،اور بلا امتیاز تمام انسانوں کے تابناک مستقبل کے لیے ہمیشہ فکر منداور بے تاب نظرآتے تھے۔ مہمان نوازی میں ان کا کوئی مثیل نہیں تھا، ان کی مہمان نوازی کو دیکھ کر عربوں کی مہمان نوازی کی یادتازہ ہوجاتی تھی، افراد چاہے کتنے ہی ہوں وہ تواضع میں فرق آنے نہیں دیتے تھے ۔آج کے اس دور میں بہت کم لوگوں میں یہ صفت پائی جاتی ہے بلکہ مہمان کو بوجھ تصور کیا جاتا ہے ۔لیکن اللہ والے وہی ہیں جو مہمانوں کے اعزاز واکرام میں کمی نہیں آنے دیتے
بہت جی لگتا تھا صحبت میں ان کی
وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے
وہ صفت ہے جو نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے

مولانا کے اعمال وافعال خلوص وللہیت کے آئینہ دار تھے، انھوں نے اپنی پوری زندگی ایک مردِ مومن کی طرح اور قلندرانہ طریقہ سے گزاری ،نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پرواہ، نہ عہدے کی طمع نہ دولت کی خواہش اورنہ شہرت کی آرزو ، انھوں نے اپنے دامن کو حرصِ دنیا سے آلودہ ہونے نہیں دیا، وہ ہمیشہ حق پسند، حق شناس ، حق گو، حق نوشت اور حق سرشت رہے۔
اس لیے وہ ہمیشہ جری اور بے باک بھی تھے، کوئی چیز ان کو حق بات کہنے سے نہیں روک سکتی تھی، وہ لومة لائم کی پرواہ نہیں کرتے تھے، وہ جس بات کو صحیح سمجھتے اسی کے طرف دار اور علمبردار ہوا کرتے تھے۔
مولانا علیہ الرحمہ کے اوصافِ حمیدہ بہت ہیں،ان کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہمیشہ تعصب اور تنگ نظری سے بلند تھے، اعتدال اور میانہ روی ان کے مزاج اور سرشت میں داخل تھی، نہ کسی مسلک سے تعصب نہ کسی ادارے، نہ کسی تنظیم وجماعت کے لیے تنگ دلی اور نہ اس کے خلاف کینہ پروری، یہ وہ صفت ہے جو نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے، ہمارے معاشرے میں اعتدال پسندی اور میانہ روی کی صفت تقریبا عنقا ہے، حال یہ ہے کہ جو شخص جس ادارے، جس مسلک اور جس تنظیم سے خود کو وابستہ کرلیتا ہے وہی اس کے لیے کامل حق اور صداقت کا معیار بن جاتا ہے، دوسرے ادارے یا تنظیم کی تعریف کرنے اور اس کا اعتراف کرنے کے لیے اس کا ظرف وسیع نہیں ہوتا ہے۔

مولانا علیہ الرحمہ کا ایک اور وصف جو بہت کم کسی میں پایا جاتا ہے وہ مولانا مرحوم کا استغنا ہے، حضرت سہیل بن سعدی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)!
مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جو مجھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اور لوگوں کی نظروں میں بھی محبوب بنادے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ازھد فی الدنیا یحبک اللہ وازھد فیما فی ایدی الناس یحبوک ۔
دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو اللہ تعالی تمہیں اپنا محبوب بنائے گا اور لوگوں کے مال ودولت سے نظریں پھیر لو تو لوگوں کے نزدیک بھی محبت اور قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاو گے۔ (ابن ماجہ:ابودائو)
زہد واستغنا سے متصف ہوئے بغیر لوگوں کے قلوب متوجہ ہوہی نہیں پاتے، جہاں دینی ودنیوی منصب کی ذرا سی لالچ کا شبہ ہو عزت داغدار ہوجاتی ہے اور جب طبیعت میں استغنا ہوتا ہے تو یہی دنیا جس کے لیے در در کی ٹھوکریں کھائی جاتی ہیں انسان کے قدموں میں آکر گرتی ہیں۔
خدا کے نیک بندوں کو فقیری میں حکومت میں
زر ہ کو ئی ا گر محفو ظ ر کھتی ہے تو ا ستغنا

مولانامرحوم نے زندگی کے آخری دو دن اپنے چھوٹے بھائی حضرت مولاناپیر احسان الحق الحسینی کے ہاں خانقاہ نقشبندیہ واہ کینٹ میں گزارے ۔آخری دن بھی اپنے سارے معمولات ادا کیے ۔واپسی کے لیے رخت سفر باندھا ۔خود گاڑی چلا رہے تھے جب شاہ مقصود حویلیاں ہزارہ میں پہنچے تو گاڑی ٹریفک حادثہ کا شکار ہوگئی جس میں مولانا ،ان کی اہلیہ اور ان کی بہو،اوردوصاحبزادیاں بھی ساتھ تھیں جو کہ شدید زخمی ہوگئیں۔فوراً سب کوہسپتال پہنچایا گیا لیکن مولاناجانبر نہ ہوسکے اور 12 فروری 2018ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے (انا للہ وانا الیہ راجعون )
13فروری 2018کودن 4بجے مولانا کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی گائوں مراد پور میں شیخ الحدیث مولاناسید غلام نبی شاہ صاحب کی امامت میں ادا کی گئی کثیر تعداد میں علماء کرام ،سیاسی وسماجی شخصیات وعوام الناس نے شرکت کی ۔بعد ازاں آبائی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔

14 فروری 2018 کو مولانا کے آبائی گائوں مرادپور خواجگان مانسہرہ والد محترم مولانا قاضی محمد اسرائیل گڑنگی صاحب مدظلہ اور برادر اصغر حافظ ثاقب برہان کے ہمراہ حضرت کی تعزیت کے لیے جانا ہوا جہاں خطیب اسلام مولانا قاضی محمد یونس انور صاحب حفظہ اللہ، مولانا نوالاسلام صاحب کے برادرپیر طریقت حضرت مولانااحسان الحق نقشبندی صاحب مدظلہ العالیہ سے ملاقات ہوئی اور ان سے تعزیت بھی کی
(مولاناکہ اہلیہ اس وقت بھی برمنگھم برطانیہ کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔قارئین کرام سے ان کی صحتیابی کے لیے دعائوںکی بھی اپیل ہے )
بوقت وصال حضرت کے چھوٹے بھائی مولاناپیراحسان الحق صاحب پاس موجود تھیاور بڑے بھائی قاری شمس الاسلام صاحب حال مقیم الریاض سے بھی بات ہوئی وہ فرماتے ہیں کہ آخری وقت تک ان کی زبان پہ کلام اللہ و ذکر اذکا ر جاری تھے اور یہ کلمات پڑھتے رہے اللھم اجرنی من النار ۔۔۔اللھم اجرنی من النار ۔۔۔عظیم انسان کی عظیم موت کی یہی دلیل ہوا کرتی ہے

مولانا مرحوم کے انتقال کی خبر جب راقم الحروف کو ملی تو سن کر ایسا محسوس ہوا کہ شاخِ گل سے پھول ٹوٹ کر گر گیا، کوئی مرغ خوش نوا شاخ پر بیٹھا چہچہایا اور اڑ گیا، ایک مردِ صالح رخصت ہوا، انھوں نے بڑی جاں فشانی اور سرگرمی اور خلوص کے ساتھ تادمِ آخردین ِ اسلام اورمسلمانوں کی خوب خدمت کی ۔بس اب میرا قلم ان کے بارے میں یہ الفاظ لکھنے پر مجبور ہو چکا ہے کہ
زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ا یو ا نِ سحر مرقد فروزاں ہو تیرا
نو ر سے معمور یا خاکی شبستاں ہو تیرا

اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ اپنے اس محبوب بندے کو بے پایاں رحمتوں اور نوازشات سے سرفراز فرمائے ، جنت الفردوس میں انبیاء وصالحین کی معیت عطا فرمائے ، ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی ہم لوگوں کو توفیقِ ارزانی نصیب فرمائے (آمین یارب العالمین بحرمة سیدالانبیاء والمرسلین )

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.