کرتارپور۔۔۔جہاں محبتیں مسکراتی ہیں! تحریر:فاطمہ شیروانی(لاہور)

نارووال میں صغریٰ شفیع ہسپتال کو دیکھ کر لگتا ہے کہ مسیحائی اپنے دامن میں ڈھیر سارے ستارے لے کر کھڑی ہو اور ستارے تقسیم کرتی جا رہی ہو۔

0 282

جب سے کرتارپور راہداری کا افتتاح ہوا تھا۔تب سے دل میں ایک خواہش تھی کہ اس راہداری کو شرف ملاقات بخشا جائے اوردیکھا جائے کہ نفرتوں کے اس دور میں محبتوں اور عبادتوں کے راستے کھل کر کیسے لگتے ہیں۔وہ راستے جن پر صرف نفرت اور مایوسی کی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہوں جب وہ ان رکاوٹوں سے آزاد ہوئے ہوں تو آزادفضاؤں میں مسکراتے ہوئے وہ کتنے دلکش لگتے ہیں۔ان راستوں سے جڑی ایک خوبصورت عمارت کی مسکراہٹ دیکھنے کی بہت خواہش تھی جو ہر آنے جانے والے کو دیکھ کر محبت بھرے کچھ گیت گنگناتی تھی۔ان گیتوں کے اندر جو خوشی گونجتی تھی۔جو زندگی رقص کرتی تھی۔اندھیروں کے بعد جو روشنی آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی۔ان گیتوں اور روشنیوں نے کرتاپور کے آسمانوں پر میرا نام لکھا اور میں نے رخت سفر باندھ لیا۔ آل پاکستان رائٹرز ویلفیر ایسوی ایشن کے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر میں نے ان راستوں کی مہک اپنے اندر اتارنے کے سفر کا آغاز کیا۔دسمبر کے پہلے سورج کے دستک دیتے ہی ہم محبت کے اس معجزے کو دیکھنے چل پڑے۔یہ آٹھ لوگوں کا گروپ تھا جس میں مجھ سمیت آل پاکستان رائٹرز ایسوی ایشن کے بانی ایم ایم علی،فنانس سیکرٹری اسلم سیال،معروف شاعرہ ریحانہ عثمانی،حفظہ خالد،عبداللہ ملک اور زینب ملک ندیم شامل تھیں۔

صبح ساڑھے نو بجے ہمارا قافلہ لاہور سے روانہ ہوا۔موسم خوشگوار تھا اور دسمبر کی دھوپ اپنے رنگ اتارنے میں مصروف تھی۔میرے دائیں طرف ریحانہ آپا اور بائیں طرف بیٹھی حفظہ کی گفتگو سے سفر مزید خوشگوار لگنے لگا۔گاہے بگاہے علی بھائی بھی گفتگو میں اپنا حصہ ڈال لیتے۔کچھ ہی دیر میں موسیقی نے بھی اپنا رنگ جمانا شروع کر دیا۔راستے میں ریحانہ آپا کے خریدے گئے کیلے بھی یاد رہیں گے۔ان کیلوں میں اتنی برکت تھی کہ یہ واپسی تک ہمارے کام آتے رہے۔ کامونکی کے قریب دو نئے مسافروں نے ہمارے قافلے میں شمولیت اختیار کی۔یہ زینب ملک ندیم اور ان کی والدہ تھیں۔زینب سے میں پہلے بھی مل چکی تھی۔لیکن اب جس زینب سے میں مل رہی تھی وہ نہ صرف بہت خاموش طبع بلکہ اپنی ذات میں گم لڑکی تھی۔اس پورے سفر کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ لڑکی بہت صبر والی ہے۔ہماری گاڑی اب تیزی سے نارووال کی طرف گامزن تھی۔دسمبر کی دھوپ اپنے جوبن پر تھی۔راستوں میں جگہ جگہ مسکراتی ہوئی فصلیں نظر آئیں۔اجڑی ہوئی دوشیزہ کی طرح آدھی ادھوری سڑکیں اپنی تکمیل کی منتظر تھیں۔ حکومتیں بدلتی رہیں مگر ان سڑکوں کی ٹوٹی پھوٹی تقدیر نہ بدل سکی۔نارووال کی اداس تصویرکو پہلی مسکراہٹ ابرارالحق کے سہارا ویلفیرٹرسٹ اور صغریٰ شفیع ہسپتال کی شاندار عمارتوں نے دی۔مجھے ہسپتال دیکھ کر ہمیشہ خوف آتا تھا مگر لاہور میں شوکت خانم اور اب نارووال میں صغریٰ شفیع ہسپتال کو دیکھ کر لگتا ہے کہ مسیحائی اپنے دامن میں ڈھیر سارے ستارے لے کر کھڑی ہو اور ستارے تقسیم کرتی جا رہی ہو۔ ہسپتال سے اب ہم آگے نکل آئے تھے۔نارووال کے بازاروں میں رونقیں عروج پر تھیں۔

لاہور کی نسبت یہاں مہنگائی اتنی خوش دکھائی نہیں دی۔ہماری منزل اب قریب ہی تھی۔کرتارپور کی حدود کا آغاز ہو چکا تھا۔بابا گرونانک کے نام لیواؤں کی عبادتیں اب ہم سے زیادہ دور نہیں تھیں۔کرتارپور سامنے آتے ہی ذہن کئی برس پیچھے چلا گیا جب بابا گرونانک نے اس علاقے کی بنیاد رکھی تھی۔اٹھارہ سال تک یہ علاقہ ان کی خوشبو سے مہکتا رہا۔ہماری گاڑی جیسے ہی کرتارپور کے دامن میں پہنچی۔گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آئیں جنہیں چیکنگ کے بعد کلیئر کیا جا رہا تھا۔آپ اگر یہ راہداری دیکھنے کے خواہشمند ہیں تو کوشش کریں کہ ویک اینڈ کے علاوہ کسی دن کا انتخاب کریں۔جمعہ،ہفتہ اور اتوار ان تین دنوں میں یہاں بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔جس کے باعث چیکنگ کے مراحل میں بہت وقت لگ جاتا ہے۔ہم نے بھی اتوار کے دن کو منتخب کیا تھا۔اس لئے ہمیں چیکنگ میں بہت وقت لگ گیا۔گاڑی کے کلیئر ہوتے ہی ہم لوگ راہداری کے اندر داخل ہو گئے۔ہمارے ایک ممبر عبداللہ اس داخلی راستے کی ویڈیو بنانے میں مصروف تھے کہ اچانک سے رینجرز کے ایک جوان نے عبداللہ سے کیمرہ چھین لیا۔یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ ہم بھی پریشان ہو گئے۔گو کہ ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کے بعد کیمرہ واپس کر دیا گیا تھا۔مگر اس واقعے نے ہمیں کافی حد تک خوفزدہ کر دیا تھا۔اس کے بعد میں جب بھی میں حفظہ کو کہتی کہ حفظہ ویڈیو بنا دو، حفظہ دوسری طرف دیکھنے لگتی چاروناچار مجھے خود ہی یہ کام کرنا پڑا۔اندر داخل ہوتے ہی آپ کو سب سے پہلے اینٹری پاس لینا پڑتا ہے۔جس کے لئے ایک طویل قطار میں لگنا پڑتا ہے۔یہ اینٹری پاس آپ کے آئی ڈی کارڈ کو دیکھ کر دیا جاتا ہے۔اینٹری پاس کی فیس دو سو پاکستانی روپے ہے جبکہ دیگر غیر ملکی یاتریوں کے لئے بیس ڈالر فیس ہے۔

یہاں آسانی یہ بھی تھی کہ ایک شخص اپنی باری آنے پر اپنا آئی ڈی کارڈ دکھا کر اپنے ساتھ اپنے سب ساتھیوں کا اینٹری پاس بھی لے سکتا تھا۔سو یہ مرحلہ طے ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔اس کے بعد ایک عدد شٹل بس سروس کے ذریعے ہم ایک اور جگہ پہنچے۔کرتارپور کی یہ راہداری میلوں پھیلی ہوئی ہے۔شٹل بس سروس بالکل فری ہے۔اس پر سوار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا بلاشبہ ایک منفرد تجربہ ہے۔دوسرے مرحلے میں ہماری بائیو میٹرک چیکنگ ہونی تھی۔یہ بہت تھکا دینے والا مرحلہ تھا۔سخت دھوپ اور لمبی لمبی قطاریں بہرحال اس مرحلے کے بعد ہمیں ایک سکین شدہ کارڈ دیا گیا۔جسے پہن کر ہمیں گھومنے پھرنے کی آزادی مل گئی تھی۔حکومت کو بائیو میٹرک کے لئے مزید کاؤنٹرز بنانے چاہیئے تاکہ طویل انتظار کی کوفت سے بچا جا سکا۔کرتارپور دربار ہمارے سامنے تھا۔مگر ابھی ایک اور مشکل مرحلہ تھا۔یہاں آپ کو ننگے پاؤں گھومنا ہے۔جوتوں کے ساتھ دربار کے اندر داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ہمارے باقی ممبرز تو نجانے کیسے اس مرحلے سے گزرے۔مگر مجھے کچھ ضرورت سے زیادہ ہی دقت ہوئی۔ریحانہ آپا تو بڑا سا بیگ لے کر آئی تھیں۔انہوں نے تو اپنے جوتے بیگ میں رکھ لئے مگر میرا بیگ چھوٹا تھا۔یہاں جوتے رکھوانے کا صرف ایک کاؤنٹر ہے اور خلقت بے شمار۔لوگوں نے جوتے ایک کونے میں پھینک رکھے تھے۔ظاہر سی بات ہے جب کاؤنٹر ایک ہوگا تو لوگ جوتوں کے لئے رسک ہی لیں گے۔میں یہ رسک لینا نہیں چاہتی تھی۔کاؤنٹر پر جانے کی کوشش میں میں اپنے باقی ساتھیوں سے پیچھے رہ گئی۔اپنی ہر کوشش میں ناکامی کے بعد چارونا چار اپنے نئے جوتے میں نے ایک کونے میں پڑی ایک ٹوکری میں تھوڑا نیچے کرکے رکھ دئیے۔میں بھاگتی ہوئی اب دربار کے سائے میں تھی۔میرے دوست مجھ سے بچھڑ چکے تھے۔یہاں فون کے سگنلز بھی مشکل سے ہی ملتے ہیں۔میں اس خوبصورت عمارت کے سحر میں گم تھی۔

اس کے کھلے برآمدوں اور راہداریوں کے اندر گھومتے پھرتے سکھ یاتریوں کے روشن چہرے دیکھ کر دل کو ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہوا۔یہاں پر سکھ برادری سے زیادہ مجھے مقامی لوگ ہی نظر آئے جو دربار دیکھنے کے لئے بہت دور دور سے آئے تھے۔یہاں سب سے پہلے ہم نے بابا گرونانک کا تاریخی کنواں دیکھا۔اس کنویں کے پانی سے بابا جی اپنے کھیتوں کو سیراب کیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ یہاں ایک ایسا کنواں بھی ہے جس کے اندر سکھ یاتری منت کے پیسے پھینکتے ہیں۔بابا گرونانک کا چھوٹا سا مزار بھی ہے جہاں پر بابا جی کی چادر اور پھول دفنائے ہوئے ہیں۔ایک روایت کے مطابق بابا جی کی وفات کے بعد سکھ اور مسلمان آپس میں جھگڑنے لگے کہ ہم بابا جی کی آخری رسومات اپنے اپنے عقیدے کے مطابق ادا کریں گے۔ایک درویش کے کہنے پر بابا جی کے جسم پر چادر ڈال دی گئی۔جب چادر اُٹھائی گئی تو وہاں پر پھول پڑے تھے۔جنہیں دو حصوں میں بانٹ لیا گیا۔مسلمانوں نے اپنی مذہبی رسومات کے مطابق چادر اور پھولوں کو دفن کرکے مزار بنا دیا جبکہ سکھوں نے چادر اور پھولوں کو جلا کر سمادھی بنا دی۔مزار کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جہاں سکھ ماتھا ٹیکتے ہیں۔مسلمانوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔کرتارپور دربار کا جس جگہ افتتاح ہوا تھا وہاں ایک تاریخی توپ نصب کی گئی ہے جس کے اوپر عمران خان کا نام بھی لکھا ہے۔یہاں ہم نے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے گفتگو بھی کی۔وہ سب بہت خوش تھے۔سب عمران خان کو دعائیں دے رہے تھے۔کپتان کا ذکر وہ جس عقیدت و احترام سے کر رہے تھے۔اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ خان نے یہ راہداری کھول کر ان کو ایک سچی اور انمول خوشی دے دی ہے۔اس ٹور کی خاص بات ہماری تنظیم کے وائس پریذیڈنٹ علی بھائی اور فنانس سکیرٹری اسلم بھائی کا سکھوں والی پگڑیاں پہننے کر سکھ برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کا انداز تھا۔لوگ انہیں سکھ سمجھ کر ان کے ساتھ تصویریں بنواتے رہے۔یہ تمام مناظر خاصے دلچسپ تھے۔یہ گوردوارہ ابھی نامکمل ہے۔

بہت سے مہمان خانے مکمل ہونے کے قریب ہیں۔ گوردوارے سے نکلتے وقت وہ پاسز ہم نے واپس کر دئیے۔اب باری تھی جوتے پہننے کی۔میں نے ٹوکری کو دیکھا تو وہ خالی تھی۔اب میری پریشانی بڑھنے لگی۔ایک شخص سے پوچھا تو وہ کہنے لگا سارے جوتے باہر نکال کر رکھ دئیے ہیں۔اب ان جوتوں میں اپنا جوتا ڈھو نڈنا خاصا مشکل کام تھا۔خاصی تگ و دو کے بعد مجھے میرے جوتے مل ہی گئے۔جنہیں دیکھ کر بے اختیار کلمہ شکر میری زبان سے نکلا۔ورنہ مجھے تو لگ رہا تھا کہ اب بغیر جوتوں کے ہی واپس جانا پڑے گا۔گیٹ سے باہر نکلنے سے پہلے ہم راہداری میں موجود ایک بازار میں گئے۔یہاں کھانے پینے کی شاپس کے علاوہ ہاتھ سے تیارکردہ اشیا کی دکانیں بھی ہیں۔بازار میں کچھ وقت گزارنے کے بعد ہم نے کرتارپور کو الوداع کہا اور وہاں سے چل پڑے۔واپسی پر ہماری گاڑی کو کلیئر ہونے میں بہت وقت لگ گیا۔یہاں پارکنگ کا بہت مسئلہ ہے۔پارکنگ کے لئے کوئی الگ سے جگہ مختص نہیں کی گئی۔امید کی جا سکتی ہے کہ بہت جلد یہاں پر باقاعدہ پارکنگ کے لئے بھی جگہ مختص کی جائے گی۔راستے میں نارووال کے ایک ہوٹل سے پی گئی چائے کی مہک کو میں ابھی تک بھول نہیں پائی۔اس چائے نے سفر کی ساری تھکن لمحوں میں اتار دی۔رات گئے تک ہم اپنے اپنے گھروں میں موجود تھے۔کرتارپور گوردوارہ وزیراعظم عمران خان کا دیا جانے والا سکھ کمیونٹی کو دیا جانے والا وہ تحفہ ہے جو کہ بہت انمول ہے۔محبت کے اس معجزے کو دیکھنے ضرور جائیں کیونکہ بلا شبہ یہ عمارت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.