مینارہ نور لوگ (حسب منشا ) تحریر : منشا قاضی

سماجی، ادبی، ثقافتی، عسکری اور عبقری شخصیات

0 526

قوم کے حقیقی خیر خواہوں کی تعداد بہت کم ہے اور اُن لوگوں کو ہم دنیا کے جمِ غفیر سے تلا ش کرتے ہیں تو اُن کے کردار و عمل کی یکسانیت لاکھوں میں انہیں ممتاز کرتی ہے۔ ہمارے ہمدم و دمساز فاروق تسنیم ایک ایسے ہی منصف مزاج انسان ہیں جو سماج میں مثبت سوچ لگن اور شوق سے بھلائی نیکی کے کام کرنے والے جلیل القدر انسانوں کے حوالے سے بات کرتے رہتے ہیں بلکہ بہت ساری شخصیات کی نیک نامی کے تو وہ چلتے پھرتے اشتہاربن جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے اپنی تنظیم سٹیزن انٹرنیشنل فورم کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملک کے اُن سماجی، ادبی، ثقافتی، عسکری اور عبقری شخصیات کو تلاش کیا اور اُن کی خدمات کے اعتراف میں گذشتہ سال 2019 میں منتخب شخصیات کی جہد مسلسل کی سرگرمیوں پر مبنی ایک رپورٹ میں انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا جن میں سر فہرست اردوڈائجسٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہی کہوں گا کیونکہ اس یونیورسٹی کے فارغ التحصیل شاگردوں کی لا محدود تعداد پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور آج بقول مولانا عبدالرؤف ملک صاحب کے کہ اس وقت آپ پوری دنیا میں چراغ رخ زیبا لے کر مجھے ڈھونڈ کے لا دو ایسا صحافی جو فضیلت مآب الطاف حسن قریشی کا ہم پلہ ہو۔

یہ حقیقت ہے مولانا کی بات آج تک حرف آخر ہے الطاف حسن قریشی صاحب کے عہد میں ہم سانس لے رہے ہیں ہمارے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ فاروق تسنیم کا انتخاب لاجواب رہا اور سرفہرست الطا ف حسن قریشی کا نام نامی اسم گرامی 2019 میں کام کرنے والوں میں نمایاں ہے۔ جنہوں نے ملت پاکستانیہ کے لئے راہنمائی ہی نہیں مسیحائی کی ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا افتخار اور وقار مسلم ہے۔ آپ کی ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ فرض شناسی کا مداح وزیر اعظم پاکستان عمران خان ہو تو اُن کی کارکردگی کے چاند کو کون گہنا سکتا ہے۔ تھر کو سر سبز و شاداب وادی میں بدلنے والے مسیحائے ملت ڈاکٹر آصف محمودجاہ کا کردار چراغ حق کی طرح روشن ہے۔ جنرل غلام مصطفی اذکار رفتہ اور کل وقتی ملت کی فلاح اور معاشرے کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ایک عسکری دانشور تجزیہ نگار کے طور پر 2019 میں مصروف ترین پائے گئے۔ دنیائے سیاحت کے نامور سکالر اور سیاحت کی وادی کو دلداریئ جنت پاکستان میں بدلنے کی مکمل حکمت عملی سے مالا مال جناب مسعود علی خاں کو بھی آپ نے 2019 میں ایک لحظہ بھی فارغ الاوقات نہیں پایا۔ آپ نے آب و ماحول پر شاندار کام کیا ہے جس پر آپ کی پوری ٹیم ڈاکٹر سمیعہ سمیت مبارک باد کی مستحق ہیں۔

غلام مصطفی خان میرانی کی طبع روانی میں جود و سخا کی فراوانی ہے اور آپ نے ہمیشہ فکری میدان میں گراں قدر کام کیا ہے۔ 2019 آپ کی مصروفیات سے ہمیشہ سرفراز رہا ہے۔ ریاض چوہدری کی قلم کی کاٹ اور ملک کے دشمنوں کے گھات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں آپ کو 2019 میں فاروق تسنیم نے مصروف پایا۔ اس طرح خواتین میں آپ نے محترمہ صباحت رفیق کا بڑا عمیق نظری سے انتخاب کیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صباحت نے 2019 کیا، وہ تو ہر لحظہ کچھ نہ کچھ کرتی ہی رہتی ہیں البتہ 2019 میں تو آپ نے سہل پسندی اور تن آسانی کو قریب نہیں پھٹکنے دیا۔ کئی کانفرنسز گورنر ہاؤس سے لے کر شاہی قلعہ میں تو ہم سب اس کے عینی شاہدرہے ہیں کہ صباحت رفیق نے نسل نو کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں او راپنے کمال ہنر کا ثبوت دیا اور یہ کمال آپ کو نوید شیروانی کی رفاقت سے بھی ملا ہے اس لئے صباحت رفیق بجا کہتی ہے کہ
میرا کمال میرا ہنر پوچھتے ہیں لوگ
اک باکمال شخص میری دسترس میں ہے

ہمارے ہمدم دیرینہ، ہمدم و دمساز سلمان عابد کی قومی معاملات میں دلچسپی شاندار رہی ہے او رآپ نے نہ صرف اپنے قلم کے ذریعے بلکہ اپنی زبان و بیان سے بھی معاشرے کو ہر حال میں بہتر کرنے کا کردار ادا کیا ہے۔ آپ کا 2019 مصروفیت کا سال ہی نہیں وہ تادم زیست ایک مصروف انسان ہیں۔ محترمہ شاہدہ لطیف کی مصروفیت بھی 2019 میں ناقابل فراموش رہی ہے۔ آپ کی شخصیت اورآپ کے فن پر بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیبوں، شاعروں اور انشا پردازوں نے شاعر علی شاعر کے”رنگِ ادب نمبر“ میں شاندار مضامین لکھے ہیں اور شاندار خدمات کا ادبی، صحافتی اور سیاحتی اعتراف کیا ہے۔ شاہدہ لطیف ایک ایسی نیک طینت خاتون ہیں جو اپنے حصے کی شمع جلانے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں۔ ایک اور ہستی جس کی پوری زندگی درد میں مبتلا انسانوں کے درماں میں گزری ہے۔ کبھی وہ کراچی، پشاور، لندن، دوبئی اور لاہور میں موجود ہوتے ہیں رحمن فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر وقار نیاز کے ساتھ ہماری بڑی عقیدت ہے وہ فرشتہ صفت انسان ہی نہیں بلکہ زندہ ولی ہیں۔ آپ کی کئی کرامات کا میں خود شاہد ہوں۔

فاروق تسنیم نے آپ کو 2019 میں دکھی انسانیت کی شاندار خدمات کے اعتراف میں خراج تحسین پیش کیا ہے اور تھنک ٹینک کی پوری مجلس عاملہ ڈاکٹر وقار نیاز کی نیاز مند ہے۔2019 میں ملک کے نامور صحافی اسد اللہ غالب بھی تن آسانی اور سہل پسندی پر غالب رہے اور اسے قریب نہیں آنے دیا۔ آپ نے قلم کے جہاد سے دکھی انسانوں کے دلوں کو آباد کیا ہے اور اچھے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی غالب کی سرشت میں موجود ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ پر آپ کے کالموں پر مبنی ایک کتاب بھی آرہی ہے۔ جناب سردار مراد علی خاں ایک خوش اخلاق صحافی ہی نہیں بلکہ بہت بڑے انسان ہیں۔ آپ ایک قومی اخبار کے مدیر اور دل گیر جلیل القدر انسان دوست ہیں۔ سردار مراد علی خاں کے انکسار میں ہم نے ہمیشہ افتخار اور وقار تلاش کیا ہے۔ مسلم ہینڈز انٹر نیشنل کے سربراہ پیر سید لخت حسنین شاہ کی خدمات کے اعتراف میں دل کھول کر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ پوری دنیا میں آپ کی خدمات کا شاندار ریکارڈ بولتا ہے۔ بندہئ مومن کا یہ ہاتھ بڑا فراخ اور کشادہ ہے۔ میں نے آپ کی ذات گرامی کو بڑے قریب سے دیکھا ہے اور فکر وعمل میں یکساں پایا ہے۔ ایسے لوگ قوموں کو قسمت سے ملتے ہیں قیمت سے نہیں۔

آپ نے صحت، تعلیم، ماحول، ہنر اور مہارت کے میدانوں میں شاندار خدمات کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا ہے جو قابل ستائش بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔ آپ کے کارناموں اور شخصیت کا احاطہ چند سطور میں نہیں کیا جاسکتا اس کے لئے ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے اور انشاء اللہ اس پر کام ہورہا ہے۔ ایک اور جواں سال، جواں فکر اور جواں ہمت ماہر تعلیم کا تذکرہ بھی فاروق تسنیم صاحب کے تھنک ٹینک نے کیا ہے جن کا بھی کوئی جواب نہیں ہے بہت کم عمری میں وہ وہ کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ہیں جس کی مثال 2019میں نہیں ملتی اور حقیقت یہ ہے کہ 2019 میں اس جواں سال ماہر تعلیم فہد عباس نے کتنے ہی گراں قدر منصوبوں کو جو صرف خیال تھے اُن کو پیکر محسوس میں ڈھال دیا اور آج آپ کے تعلیمی ادارے کی مرکزی شاخ میں چین سے آئے ہوئے ماہر تعلیم بھی موجود ہیں۔ ایسے جواں سال ماہر تعلیم کے لئے فاروق تسنیم صاحب کا تھنک ٹینک حکومت پاکستان کو پُر زور سفارش کر رہا ہے کہ ان لوگوں کو صدارتی ایوارڈ سے نوازا جائے جن کا تذکرہ تھنک ٹینک کی مجلس عاملہ نے کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.