وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا (جواں عزم) تحریر:محمد فاروق عزمی

کتنے لوگ ہوں گے جنازے میں؟ بس اتنے جتنی پاکستان کی آبادی ہے! توبہ…… کیا مبالغہ آرائی ہے!!!

0 297

یہ مبالغہ آرائی نہیں، حقیقت ہے۔ وہ لوگ جو ظاہری طور پر جنازے میں شامل تھے، ان کی تعداد کا اندازا ساٹھ سے ستر لاکھ کے قریب ہے، بی بی سی کے مطابق لیاقت باغ اور قرب و جوار کی تمام سڑکوں پر لوگوں کا اژدہام تھا۔ اس سفر آخرت میں شرکت کے لیے توفرشتے بھی آسمانوں سے اتر آئے ہوں گے۔ وہ لوگ جو بظاہر جنازے میں شریک نہ تھے، جنہیں حکومتِ وقت نے خبر نہ ہونے دی۔ جن کے راستے بند کر دیئے گئے، رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں، جن کی راہ میں زمینی اور جغرافیائی فاصلے حائل تھے۔دل سے تووہ لوگ بھی اس معمولی سیکورٹی گارڈ کے جنازے میں شریک تھے۔

 

ایک گمنام سے سیکورٹی گارڈ کے جنازے میں اتنے لوگ کیسے جمع ہوگئے؟؟؟
اس حقیقت کو جاننا اور سمجھنا ہو تو ہمیں تقریباً 90،91 سال پیچھے ماضی کے ایک اور جنازے کا منظر یاد کرنا ہوگا۔ وہ بھی ایک عام سے ترکھان میاں طالع مند کے نوجوان بیٹے کے جنازے کا منظر تھا۔ سرخ و سفید رنگت، سیاہ گھنگریالے بال اور چوڑی پیشانی کے اس خوبصورت نوجوان علم الدین کو بھی پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔
جمعرات 31 اکتوبر 1929 کو شہادت کے بلند رتبے پر فائز ہونے والے لاہور کے غازی علم الدین شہیدؒ اور راولپنڈی بارہ کہو کے ملک محمد ممتاز قادری شہیدؒ کے جنازوں میں شریک لاکھوں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیاوی عہدے، گریڈ یا طبقاتی رتبہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا، یہ لوگ تو عاشقانِ رسول ﷺ کی محبت میں کھنچے چلے آئے تھے۔ وہ عاشقانِ رسول ﷺ جنہوں نے ناموسِ رسول ﷺ کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں اور شہادت کے رتبوں پر فائز ہو کر اپنے سروں پر عشق رسول ﷺ کا تاج سجالیا۔

 

 

غازی علم الدین شہیدؒ نے گستاخِ رسول ملعون راجپال کو شمشان گھاٹ پہنچا دیا تو ملک ممتاز قادری نے جذبہ عشقِ مصطفی ﷺ سے سرشار ہو کر وقت کے ایک فرعون، لبرل اور لا دین لابی کے متحرک گستاخِ رسول کو جہنم واصل کیا۔ جو گورنری کا ”کراؤن“ سر پر رکھے، مسلسل کم و بیش ڈیڑھ برس تک قانونِ تحفظِ ناموسِ رسالت کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا رہا اور جس نے دفعہ 295-C ت پ کو (نعوذ باللہ) ”کالا قانون“ کہا اور اس کے تحت سزائے موت کو غلط قرار دیا تھا۔ پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ ایک طرف شاتمِ رسول کا جنازہ پڑھنے پڑھانے کے لیے کوئی تیار نہ تھا جب کہ وہ جہنم رسید ہوتے وقت ”گورنر“ جیسے ایک اہم حکومتی عہدے پر براجمان تھا تو دوسری جانب ایک معمولی سیکورٹی گارڈ کے فرائض سر انجام دینے والے عاشق رسول کا جنازہ تھا، جس میں ظاہری اور باطنی طور پرہر وہ مسلمان شریک تھا، جس کے سینے میں حُبِ رسول ؐ اور عشقِ مصطفی ﷺ کی شمع روشن ہے۔ میرا ایمان اور یقین ہے کہ لا تعداد نوری مخلوق بھی آسمان سے اتر کر ناموس رسالت پر قربان ہونے والے ملک ممتازقادریؒ کے جنازے میں شریک تھی جسے آج لوگ غازی ملک ممتازحسین قادری شہید ؒ کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔

 

 

بارہ کہوہ کے مقام اٹھال میں جن کا مزار غلامانِ مصطفی ؑکی توجہ محبت اور عقیدت کا مرکز ہے۔ مجھے اس مرکزِ تجلیات پر پہلی بار حاضری کا شرف یکم مارچ 2020 کو ان کے چوتھے سالانہ عرس مبارک کے موقع پر حاصل ہوا۔ میرے ہمراہ قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے چیئرمین علامہ عبدالستار عاصم، فیض سرور یوسفی صاحب اور ہمارے دوست مظہر حسین شریکِ سفر تھے۔ ہم نے اس مبارک سفر کا آغاز لاہور سے شہید ناموسِ رسالتؐ غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری سے کیا۔
قصہ یوں ہے کہ تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کا قانون اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حضور نبی اکرم ﷺ کے فرامینِ مقدسہ پر مبنی ہے، توہینِ رسالت ایک سنگین اور بڑا جرم ہے، جس کی سزا موت ہے۔ آئین پاکستان میں یہ قانون دفعہ 295-C کی شکل میں تعزیرات پاکستان کا حصہ ہے۔ لبرل سیکولر اور لادین ذہنیت کے لوگ اس قانون کو ہدفِ تنقید بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ جبکہ واضح حقیقت یہ ہے کہ توہینِ رسالت (نعوذ باللہ) سنگین ترین فقہی جرم ہے اور یہ قانون قرآنی آیات مبارکہ اور احادیثِ مقدسہ کی روشنی میں بنایا گیا ہے۔

 

 

لہٰذا اس کے خلاف ہرزہ سرائی اور اسے ”کالا قانون“ کہنا اللہ تعالیٰ اور رسول پاک ﷺ کی توہین ہے۔ کیونکہ اس قانون کے ماخذ قرآن اور حدیث ہیں اگر اس قانون کو ”کالا قانون“ کہا جائے تو اس سے کتاب و سنت کی توہین لازم آتی ہے اس لیے کہ اس قانون کے مصادر کتاب و سنتہی ہیں۔
ایک ایسا شخص جس کا ذاتی کردار سرا سر اسلامی تعلیمات کے خلاف اور بد اخلاقی کا مرقع تھا جس کے کردار کے بارے میں اُس کا اپنا بیٹا اپنی ہی ایک کتاب "STRANGER OF HISTORY” جو لندن کے ایک چھاپہ خانہ نے شائع کی ہے، میں لکھتا ہے:
”میرا باپ(سلمان تاثیر) ہر شام سکاچ وہسکی پیتا تھا، نماز پڑھتا نہ روزے رکھتا اور سؤر کا گوشت کھاتا“۔
یہ شخص توہینِ رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کی تائید و حمایت میں جیل پہنچ گیا جہاں آسیہ ملعونہ کو اپنے پاس بٹھا کر میڈیا کے نمائندوں کے سامنے اُسے بے گناہ قرار دیا۔ اس کی معافی کی درخواست لے کر صدر کے پاس جانے کا وعدہ کیا او رایک بار پھر اس نے 295-C ت پ کے تحت سزا کو ظالمانہ قرار دیا اور یوں کروڑوں پاکستانی مسلمانوں کی دل آزاری کی اور مذہبی جذبات کو مجروح کیا۔ جب علمائے کرام نے اس کے بیانات کی مذمت کی تو اس نے تکبر اور رعونت سے کہا کہ وہ علمائے کرام کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے (نعوذ باللہ)۔

 

 

4 جنوری 2011 کی سہہ پہر جب مذکورہ گستاخ شخص اپنے ایک دوست کے ساتھ اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کر نکلا تو غیرتِ ایمانی اور عشقِ نبی ﷺ سے سر شار غازی ممتاز قادری نے اس بااثر اور متکبر حاکم کو، ناموسِ رسالت کے قانون کو ”کالا قانون“ کہنے سے باز رہنے کے لیے تنبیہہ کی جس پر مقتول نے ایک بار پھر انتہائی زیادہ سخت اور متکبرانہ لہجے میں اس مقدس قانون کو (نعوذ باللہ) MY SHIT کہا، اس پر ممتاز قادری نے حُبِ رسول کی وجہ سے غیض و غضب اور جذبہ عشقِ نبی ﷺسے مغلوب ہو کر فوری طور پر فائرنگ کرکے اسے جہنم رسید کر دیا۔ ان کے ا س جرأت مندانہ اور مجاہدانہ کردار نے پورے ملک میں غلامانِ ﷺ کا کلیجہ ٹھنڈا کر دیا۔ البتہ لا دین، لبرل لابی کی زبانیں گنگ ہوگئیں۔
مقتول کے بیٹے کی تحریری درخواست پر 4 جنوری 2011 کو ہی اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں فوجداری مقدمہ زیر دفعہ302/109 تعزیرات پاکستان اور دفعہ 7 انسداد دہشت گردی ایکٹ درج ہوا۔ غازی ممتاز قادری کی گرفتاری سے لے کر، اس واقعے کا پس منظر، وجوہات، مقدمے کے اہم واقعات، عدالت میں پیش کردہ دلائل، عدالتی فیصلوں، مباحث، گواہان پر جرح اور تحقیقی اور علمی مواد، سزا سنانے اور عجلت میں سزا پر عملدرآمد کرتے ہوئے 29 فروری 2016 کو ممتاز قادریؒ کی شہادت تک کی تمام روداد کو جس ہستی نے اپنے بے باک قلم او راپنے جرأتمندانہ انداز سے قلم بند کیا ہے اُن کا نام جناب جسٹس (ر) میاں نذیر اختر ہے،

 

 

کتاب کا نام”حاضری سے حضوری تک“ تجویز کیا گیا، کتاب کی اشاعت کا اعزاز قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کو حاصل ہوا۔ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر بطور وکیل صفائی غازی ممتاز قادریؒ کی جانب سے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں پیش ہوتے رہے۔ اس سلسلے میں ممتاز ادیب، محقق، مصنف اور کالم نگار جبار مرزا لکھتے ہیں:
جناب جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے ”بطور وکیل صفائی منجانب غازی ممتاز قادریؒ عدالت عالیہ اور عدالتِ عظمیٰ میں جو کہا، سنا،دیکھا اور پھر جو ہوا وہ قرطاس ابیض پر اتار دیا ہے۔ یہ جرعہ جرعہ جُوئے علم، سطر سطر تاریخ، حرف حرف حقیقت او رلمحہ لمحہ جذبہئ عشقِ مصطفی ﷺ کی روداد ہے۔ جس طرح جسٹس (ر) میاں نذیر اختر صاحب کے فیصلوں کی گونج اندرونِ ملک اور بیرون ملک، یورپ اور بھارت تک سنی جاتی ہے، اسی طرح ”حاضری سے حضوری تک“ کی خوشبو چاردانگِ عالم میں پھیلے گی“۔
پیر طریقت ابوالخیر مولانا سید حسین الدین شاہ فرماتے ہیں:

 

 

”جناب جسٹس (ر) میاں نذیر اختر سلمہٗ نے کتاب ”حاضری سے حضوری تک“ تحریر کرکے جہاں عدالت عالیہ اور عدالتِ عظمیٰ میں عدالتی کارروائی اور بحث کے نکات کو محفوظ کر دیا وہیں ”تحفظ ناموسِ رسالت“ کے عقیدہ کے حوالے سے اسلامی تعلیمات اور قانونی نظائر کو یکجا کر دیا“۔
مترجم تفسیر کبیر محقق العصر مفتی محمد خان قادری لکھتے ہیں:
”ہائی کورٹ اسلام آباد میں سزا کے خلاف اپیل دائر کرکے صدارتی اپیل انصاف تک ہم اس مقدمہ سے براہِ راست متعلق رہے۔ اس کی سپہ سالاری کا شرف اللہ تعالیٰ نے محترم جسٹس (ر) میاں نذیر اختر کو عطا فرمایا، وہ کامل آگہی، اخلاص اور وفاداری کے ساتھ اپنے محاذ پر ڈٹے رہے، انہوں نے پیرانہ سالی میں جوانوں سے بھی بڑھ کر محنت کی“۔
علامہ محمد خلیل الرحمن قادری رقم طراز ہیں:

 

 

”تمام احوال کو محترم جسٹس صاحب نے اپنی اس تالیف میں اپنے بہترین علم و یقین کے مطابق بیان کر دیا ہے بلا شبہ اس عظیم جدو جہد کی ایک مستند تاریخ ہے جس کے سر خیل وہ خود تھے، مسئلہ تحفظ ناموسِ رسالت پر جس قدر تحقیق ان ایک دو سالوں میں منظر عام پر آئی ہے اس کی مثال گذشتہ تین صدیوں میں نہیں ملتی“۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رائے میں : ”جسٹس (ر) میاں نذیر اختر صاحب کے دلائل و براہین ایک وکیل سے زیادہ ایک مسلمان مجاہد کی آواز ہے۔ زیر نظر تالیف ایک تاریخ ہے روداد بھی، سفر نامہ اور روزنامچہ بھی ہے“۔
زیر نظر کتاب ”حاضری سے حضوری تک“ کے مصنف جسٹس (ر) میاں نذیر اختر صاحب حضرت میاں کریم بخش کے گھر راولپنڈی میں بروز جمعۃ المبارک 9 اگست 1940کو پیدا ہوئے۔ 1957 میں میٹرک 1961 میں بی اے (آنرز) اور 1963 میں پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا او ر ”رول آف آنر“ حاصل کیا۔ 1963 میں راولپنڈی سے وکالت کا آغاز کیا، پھر اپنے مرشد پاک سید رجب علی شاہ کے حکم پر ہجرت کرکے 1967 میں لاہور آگئے۔

 

 

یہاں عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ میں فرائض سر انجام دیتے رہے، بعد ازاں آپ 1988سے 2002 تک عدالت عالیہ کی کرسی پرمنصفی کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ اس دوران آپ دو مرتبہ بطور قائم مقام چیف جسٹس بھی رہے۔ قانون دان ہونے کے ساتھ ساتھ آپ خطیب، شاعر، محقق اور مورخ بھی ہیں۔ حکمت آپ کا شوق ہے اور آپ اچھے حکیم بھی ہیں۔ کتاب ”حاضری سے حضوری تک“ کی اشاعت کے دوران مجھے کئی بار آپ کی قدم بوسی کا موقع ملا۔ آپ کی ذات، نفاست، سادگی، پاکیزگی، دھیمے پن اور شفقت و محبت کا ایسا حسین امتزاج ہے کہ جو آپ سے ایک بار مل لیتا ہے، آپ کے حسنِ سلوک، محبت و اخلاص اور میزبانی کے اعلیٰ قرینے، سلیقے کا گرویدہ و اسیر ہوجاتا ہے۔

 

 

زیر نظر کتاب ایک اہم تاریخی دستاویز ہے جس میں شامل تحقیقی اور قانونی مواد علماء، وکلاء عام قارئین او ر عدالتی امور سے دلچسپی رکھنے والے متعلقین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ نے ممتاز قادریؒ کے دفاع کے لیے رضا کارانہ طور پر وکیل صفائی کے فرائض سر انجام دیئے۔ آپ مختلف موقعوں پر حسبِ ضرورت اپنی جیب سے خرچ کرتے رہے۔ کوئی دنیاوی منفعت کبھی آپ کے پیشِ نظر نہ رہی۔ آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب پاکﷺ کی رضا، خوشنودی او راُخروی فوز و فلاح کے طالب رہے اور ایک عاشق رسول کے دفاع کے لیے اپنی خدمات کو اپنے لیے سعادت سمجھ کر سر انجام دیتے رہے۔ زیر نظر تالیف جہاں آپ کے مجاہدانہ کردار کی عکاس ہے، وہیں یہ عدالتی مباحث اور فیصلوں کی تاریخ بھی ہے۔ آپ نے پیرانہ سالی کے باوجود شب روز کی محنت شاقہ سے یہ تاریخی حقائق مرتب و یکجا کرکے گستاخانِ رسول کو یہ بلند و بانگ پیغام دیا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کے لیے عاشقانِ مصطفی کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے اور گستاخوں کو از خود کیفرِ کردار تک پہنچا کر سرخرو ہوتے ہیں۔ ممتاز قادری شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مقدمے کی عدالتی کارروائی سے لے کر اس قلمی جہاد تک جناب جسٹس صاحب کا مجاہدانہ، دلیرانہ کردار باطل کے لیے للکار اور عاشقانِ مصطفی کے لیے مشعلِ راہ ہے جس کے لیے آپ بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔

 

 

کتاب کی اشاعت کے دوران کئی مشکل مراحل آئے اور کئی رکاوٹیں پیش آئیں لیکن عشقِ مصطفی میں رچی بسی یہ روداد معجزانہ طور پر غازی ممتاز قادری شہید کے چوتھے عرس سے چند روز پہلے چھپ کر تیار ہوگئی۔ مجھے وہ لمحہ یاد ہے جب میں نے ”حاضری سے حضوری تک“ کی پہلی کاپی صاحبِ کتاب جناب جسٹس میاں نذیر اختر صاحب کو پیش کی تو آپ نے انتہائی عقیدت و محبت سے کتاب کو بوسہ دے کر وصول فرمایا اور فوراً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ رقت آمیز الفاظ میں عشق مصطفی ﷺ میں استقامت کی دعا فرمائی۔ جسٹس صاحب کی خواہش تھی کہ وہ ممتازقادری شہید علیہ رحمہ کے عرس مبارک پر اپنے ہاتھوں سے کتاب کا ایک نسخہ ممتاز قادریؒ کے والد ملک محمد بشیر صاحب کو پیش کریں لیکن وہ ناسازی طبیعت اور بخار کی وجہ سے راولپنڈی نہ جاسکے اور یوں یہ سعادت ہمارے حصے میں آئی۔

 

 

ہم نے غازی علم الدین شہید کے مزار پر حاضری سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ دورانِ سفر درود شریف اور ذکر اذکار جاری رہا۔ موسم خوشگوار تھا۔ 11 بجے ہم اٹھال پہنچے، عرس کی تقریب جاری تھی، ہم نے پہلے مزار پر حاضری دی۔ عاشق رسول ﷺ کی تربت کو بوسہ دیا، فاتحہ پڑھی اور وہی دعا مانگی جو غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر مانگی تھی کہ یا اللہ ہمیں بھی راہِ عشق مصطفی میں ایسی موت نصیب ہو اور یہ سرمایہ تن، حُبِ رسول اور تحفظ ناموسِ رسالت کے لیے ٹھکانے لگے۔
ناموسِ مصطفی ؐ کی حفاظت کریں سدا
اس راہ میں ہوں شہید، ہمیں وہ گھڑی ملے

 

مزار سے متصل پنڈال میں علماء و مشائخ اور عاشقانِ مصطفی کا ہجوم تھا۔ تقریب میں نعت خواں عود و عنبر میں لپٹی نعتیں پڑھ رہے تھے۔ علمائے کرام غازی ممتاز قادری علیہ رحمہ کے لیے خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے۔ اسٹیج پر ممتاز قادری ؒ کے خوش نصیب والد گرامی ملک محمد بشیر اعوان اور برادر اکبر ملک دلپذیر صاحب کے ساتھ ان کا صاحبزادہ شہزادہ محمد علی بھی رونق افروز تھا۔ محمد علی 6 سال کا تھا جب ممتاز قادری علیہ رحمہ کو شہادت نصیب ہوئی۔ پھر وہ گھڑی آئی جب میں نے ملک محمد ممتاز قادری کی عدالتوں میں حاضری سے بارگاہِ رسالت تک حضوری کی روداد ”حاضری سے حضوری تک“ کی ایک کاپی انتہائی عقیدت و احترام سے ملک محمد بشیر صاحب اور دلپذیر صاحب کو پیش کی۔ فرط جذبات سے تمام پنڈال کھڑا ہوگیا اور فضا لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ مجھے کتاب پر مختصر تعارفی کلمات کہنے کا موقع بھی میسر آیا:
کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ

 

جسٹس صاحب پکے، سچے عاشق رسول ہیں۔ انہوں نے ایک طرف ملک ممتاز قادری کے کیس کی بطور وکیل صفائی عدالتوں کی روداد کو قلم بند کیا ہے تو دوسری طرف تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے گذشتہ چودہ صدیوں میں گستاخانِ رسول کے عبرتناک انجام اور عاشقانِ مصطفی کی جانثاری کے بے شمار واقعات کو بھی کتاب کی زینت بنایا ہے۔ جرمِ توہینِ رسالت کے حوالے سے مذاہب اربعہ کا نکتہ نظر، خلفائے راشدین او ربعد کے ادوار کے واقعات، توہین رسالت کے حوالے سے مسلمان قاضیوں کے فیصلے، ماورائے عدالت قتل کی فقہ اسلامی میں حیثیت اور دفعہ 295-C ت پ کا مبینہ غلط استعمال جیسے اہم موضوعات کتاب کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

 

کتاب پڑھتے ہوئے آپ کی آنکھیں بارہا اشکوں سے وضو کریں گی اور آپ کو یقین کرنا پڑے گا کہ جہاں غلامانِ مصطفی ؐناموسِ رسالت پر اپنی جانیں قربان کرکے جہاد کرتے ہیں وہیں عاشقانِ مصطفی ؐ ان جانثارانِ رسالت کی داستانِ حیات رقم کرکے اپنے قلم سے علمی اور قلمی جہاد میں شریک رہتے ہیں اور جسٹس (ر) میاں نذیر اختر کا نام گرامی اس ضمن میں بڑا معتبر حوالہ ہے۔ اللہ کریم جسٹس صاحب کو عمر خضر عطا فرمائے اور وہ عاشقوں کی جماعت کی امامت فرماتے رہیں۔ آمین ثم آمین

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.