میرا جسم میری مرضی سے لال لال تک“ تحریر: زین العابدین

آج لبرلزم، سوشلزم اور سیکولرزم کے نام پہ اور عورت کی آزادی کے نام پہ اسلام مخالف چیزوں کو فروغ دیا جا رھا ھے۔

6 545

بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ھوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ھے جو ایک مخصوص نظریہ کی بنیاد پہ وجود میں آیا۔وہ نظریہ دینِ اسلام ھے۔آج اس نظریہ کو پسِ پشت ڈال دیا گیا اور زور سڑکوں، ہسپتالوں، سکولز،  کالجز، یونیورسٹیاں اور مختلف اداروں کی تعمیر پہ لگا دیا گیا۔ کیا ھم نے یہ ملک صرف سکولز،کالجز، ادارے وغیرہ بنانے کے لیے حاصل کیا تھا؟ اگر یہی مقصد تھا تو ہندوستان سے علیحدگی کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی؟ اس سے بڑھ کر صورتحال کی سنگینی اس حد تک ھے کہ اسی ملک میں شعائرِ اسلام کا مذاق اڑایا جا رھا ھے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک اسلام مخالف قوتیں بر سرِ پیکار ھیں۔ وہ اندرونی اور بیرونی دونوں طرح سے سازشیں کر رھے ھیں۔ ایک بہترین سازش حقوقِ نسواں کے نام پہ بے حیائی کو عام کرنا ھے۔کچھ دنوں پہلے ایک لال لال طلبہ مارچ ھوا جس میں ”سرخ ھو گا سرخ ھو گا ایشیا سرخ ھو گا“ کے نعرے لگاۓ گۓ۔ یہ لال رنگ سوشلزم اور کمیونزم کی علامت تصور ھوتی ھے۔

فرانسیسی انقلاب کے بعد یہ بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ ھے۔ اس سے پہلے آزادی حقوق نسواں کے نام پہ ایک مارچ ھو چکا جس میں ”میرا جسم میری مرضی“ آواز بلند کی گئی۔ افسوس اس بات کا ھے کہ مغرب اور یورپ میں اسلام کی بیٹی حجاب کے لیے لڑ رھی ھے مگر اس ملک میں جو اسلام کے نام پہ قائم ھوا، وہی بے حجابی کے لیے میدان میں نکل چکی ھے۔ مختلف پلے کارڈز دکھاۓ گۓ کسی پہ کچھ کسی پہ کچھ لکھا تھا حتی کہ بیان کرتے شرم محسوس ھوتی ھے۔ اسلام نے عورت کو کتنا بلند مقام دیا۔ کبھی ماں کی صورت میں، کبھی بیٹی کی صورت میں، کبھی بیوی کی صورت میں۔ اسلام سے قبل  تو عورت کو نحوست سمجھا جاتا تھا جسے لڑکی کی بشارت ملتی تو اس کا چہرہ سیاہ ھو جاتا اور وہ غضب میں آ جاتا۔ زندہ بیٹی کو درگور کیا جاتا تھا۔ قرآن کہتا ھے کہ کل قیامت کے دن وہ بیٹی کہے گی کہ مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا کہ اس مقام کو پہچان لینے کے بعد کوئی عورت اس طرح کے بھونڈے کام کو تیار نہیں ھو سکتی۔ یہاں تک کہ عورت کوزمین پہ آہستگی سے قدم رکھنے کا حکم ملا اور خوشبو لگا کر باہر نکلنے سے منع کیا گیا تاکہ کوئی غیر اسکی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے یوں اس کی عزت کو محفوظ کیا مگر آج اسی عورت کی تذلیل کی جا رھی ھے۔

کچھ وقت پہلے ایک عورت پروٹیکشن بل بھی بنایا گیا تھا جس کے تحت عورت خاوند کو اس کےاپنے گھر سے نکال سکتی ھے۔ یہ آۓ روز  اسلام مخالف پالیسیاں بنا کر اسلام کو دبانے کی کوشش کی جا رھی ھے۔ مگر صد افسوس کہ جس یورپین اور امریکن معاشرے سے یہ نظریات لے کر آواز اٹھائی جا رھی ھے اس معاشرے کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں اس معاشرے میں انیسویں صدی سے پہلے عورت کو شخص تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ عورت کو ووٹ کا حق نہیں تھا۔ عورت سیکنڈ کلاس سٹیزن بھی تصور نہیں کی جاتی تھی اس معاشرے میں عورت ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال ھوتی تھی۔ آج اسی آزادی کا تصور پیش کیا جا رھا ھے۔حقیقت میں یہ مغربی عورت مظلوم ھے اس کو ایڈواٹیزمنٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ھے۔اسی معاشرے میں بے شمار عورتوں کی عصمت ریزی کی جا رھی ھے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کیا ان نام نہاد حقوق نسواں کی تحریک کے پاسبانوں نے کبھی عورت کی تجارت کے خلاف آواز اٹھائی؟ دراصل یہ عورت کو اصل اسلامی مقام سے دور کرنی کی سازش ھے۔

citytv.pk
citytv.pk

طلباء یونین کی بحالی کے نام پہ فحاشی کو عام کیا جا رھا ھے۔جہاں تک طلبہ یونین کی بحالی کی بات ھے تو اس کا مخالف کوئی نہیں مگر اس طرح پاکستان  میں  بے حیائی کو عام کرنا ھر گز قبول نہیں۔ بہت سے کمیونسٹس کی طرف سے اظہار ہمدردی بھی کیا گیا طلباء یونین کے حوالے سے ہمدردی تو بجا ھے مگر سرخ ایشیا کے نعرے کچھ اور منظر کشی کر رہے ھیں جن کا طلباء سے کم از کم تعلق نہیں ھونا چاہیۓ۔کچھ کمیونسٹ کے مطابق تو کمیونزم کا مذہب سے کوئی تصادم نہیں مگر یاد رکھیۓ کہ اس کے  مقابل تو مذہبی طبقہ ہی ھے جن کا دعوی سر سبز ایشیا ھے۔ دونوں قوتوں میں تصادم ھوا تو بہت نقصان کا خدشہ ھے۔یہ لال لال بھی میرا جسم میری مرضی کا تسلسل ھے لہذا  اگر بی بی سی لندن پورا دن لال لال والوں کی لائیو کوریج کرتا رھا تو یہ کوئی بعید از قیاس بات نہیں۔ عجیب بات یہ ھے کہ مارچ طلباء یونین کی بحالی کا ھے مگر نعرے سر خ سرخ ایشیا کے ھیں۔

تصاویر سے تو یوں لگتا ھے کہ جب لال لال لہراۓ گا تو مرد کو کتا بنایا جاۓ گا۔ اسی طرح کا ایک لال انقلاب تو 1965 میں چاؤ سسکو نے رومانیہ میں لانے کا دعوی کیا تھا مگر اس سرخ انقلاب کا نتیجہ 1989 کو اس کی پھانسی کی صورت میں سب نے دیکھا۔ آج لبرلزم، سوشلزم اور سیکولرزم کے نام پہ اور عورت کی آزادی کے نام پہ اسلام مخالف چیزوں کو فروغ دیا جا رھا ھے۔ یہ عورت کی آزادی نہیں در حقیقت یہ عورت تک پہنچنے کی آزادی کی تحریک ھے۔ المختصر مخالفت صرف اسلام کی ھے۔ ملک پاکستان اس وقت بہت سی مشکلات سے گزر رھا ھے۔ کسی بھی صورت اس طرح کے واقعات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اسلام کے نام پہ قائم تو ھو گیا اس کا جھنڈا بھی سبز بنا دیا گیا اب اس ملک کو بھی سر سبز بنانا چاہیۓ۔

  1. Computer Support کہتے ہیں

    Zerox IT Consulting. We develop software for you.
    Do you want to develop your project? Just tell us: https://masanahygiene.co.za/2015/02/12/finding-new-buildings-in-the-dust-of-the-old/

  2. dumps and cc کہتے ہیں

    It’s tгuly a nihe and helpful piece of іnformation. I’m satisfied hat уoս simply shared
    this helpful info ᴡith us. Please stay
    սs up tto Ԁate like tһis. Thajk үou foг sharing.

  3. CC+CVV کہتے ہیں

    Thank you, I have гecently been searching for info approximately this topic for ages and yoսrs iss the Ƅest I һave camе սpon sⲟ far.

    Вut, what concerning thе conclusion? Aге yоu positive
    in rеgards to tһe source?

  4. jokers stash کہتے ہیں

    Pretty! Thhis wass an incredibly wonderful post. Ꮇɑny thankѕ
    for providing this info.

  5. unfairly dismissed کہتے ہیں

    Thank you for your article post.Much thanks again. Much obliged.

  6. Eric Jones کہتے ہیں

    My name’s Eric and I just came across your website – citytv.pk – in the search results.

    Here’s what that means to me…

    Your SEO’s working.

    You’re getting eyeballs – mine at least.

    Your content’s pretty good, wouldn’t change a thing.

    BUT…

    Eyeballs don’t pay the bills.

    CUSTOMERS do.

    And studies show that 7 out of 10 visitors to a site like citytv.pk will drop by, take a gander, and then head for the hills without doing anything else.

    It’s like they never were even there.

    You can fix this.

    You can make it super-simple for them to raise their hand, say, “okay, let’s talk” without requiring them to even pull their cell phone from their pocket… thanks to Talk With Web Visitor.

    Talk With Web Visitor is a software widget that sits on your site, ready and waiting to capture any visitor’s Name, Email address and Phone Number. It lets you know immediately – so you can talk to that lead immediately… without delay… BEFORE they head for those hills.

    CLICK HERE http://www.talkwithwebvisitors.com to try out a Live Demo with Talk With Web Visitor now to see exactly how it works.

    Now it’s also true that when reaching out to hot leads, you MUST act fast – the difference between contacting someone within 5 minutes versus 30 minutes later is huge – like 100 times better!

    That’s what makes our new SMS Text With Lead feature so powerful… you’ve got their phone number, so now you can start a text message (SMS) conversation with them… so even if they don’t take you up on your offer right away, you continue to text them new offers, new content, and new reasons to do business with you.

    This could change everything for you and your business.

    CLICK HERE http://www.talkwithwebvisitors.com to learn more about everything Talk With Web Visitor can do and start turing eyeballs into money.

    Eric
    PS: Talk With Web Visitor offers a FREE 14 days trial – you could be converting up to 100x more leads immediately!
    It even includes International Long Distance Calling.
    Paying customers are out there waiting.
    Starting connecting today by CLICKING HERE http://www.talkwithwebvisitors.com to try Talk With Web Visitor now.

    If you’d like to unsubscribe click here http://talkwithwebvisitors.com/unsubscribe.aspx?d=citytv.pk

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.