وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر صنعت کے نام ! تحریر : منشا قاضی

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیر صنعت میاں محمد اسلم چھوٹی صنعتوں کی کارپوریشن کے اذکار رفتہ کی خبر لیں

0 121

چھوٹی صنعتوں کی کارپوریشن کا وجود اُس وقت معرضِ عمل میں آیا تھا جب گمنام بستیوں کے ہنر مندوں کے دستِ ہنر سے نکلے ہوئے شہہ پارے غیر ممالک کی منڈیوں میں خاموش سفیر کا کردار ادا کر رہے تھے اورملک و ملت کا نام روشن کر رہے تھے۔ کثیر زرِ مبادلہ کا ذریعہ چھوٹی صنعتوں کی ہی کارپوریشن کا شاندار ذریعہ تھا اور صوبوں کی کارپوریشنوں میں پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کی کارکردگی ممتاز، معتبراور منفرد حیثیت کی حامل تھی اور ملک کے لیے کثیر زر مبادلہ کما رہی تھی۔ کارپوریشن کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کارپوریشن کا عملہ دوسرے سرکاری اداروں کے ملازمین سے بالکل الگ، جدا اور فرض شناسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔

 

رشوت سے نا آشنا، انسان دوستی اور نیک نامی میں اپنی مثال آپ تھا۔ مگر اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے آغاز میں نہیں معلوم کہ اس کو کسی کی نظر کھا گئی کہ ایل ڈی اے پلازہ کی بالائی تین منزلوں نے پوری انسانیت کو لرزہ بر اندام کر دیا۔ چوتھی اور پانچویں منزلوں پرچھوٹی صنعتوں کی کارپوریشن کے دفاتر محفوظ رہے اور ملازمین کی جانیں بھی بچ گئیں۔ مگر نئی حکومت کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ چھوٹی صنعتوں کی کارپوریشن کو جن نابغہئ روزگار اذکارِ رفتہ لوگوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بلند و بالا مقام عطا کیا۔ آج وہ طبی سہولتوں اور دس فیصد سرکاری اعلان کردہ پینشن میں اضافے سے محروم چلے آرہے ہیں۔ بڑھاپے میں طبی سہولت کی ضرورت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور آرٹیکل 38میں واضح ہے کہ ریاست وعدہ کرتی ہے کہ وہ ہر شہری کو بنیادی طبی سہولت مہیا کرے گی۔

 

 

یہ عجیب و غریب صورتحال ہے کہ 9 سال سے ریلیف کو تکلیف میں بدل رکھا ہے اور بنیادی حق سے اذکار رفتہ کو محروم رکھناناانصافی اور انصاف کا قتل عام ہی نہیں بلکہ ظلم عظیم ہے۔آج سے 9 سال پہلے ادویات کی قیمتوں میں اور 2020 میں مہنگائی کی وجہ سے اُس کے نرخ آسمان کو چھور ہے ہیں اور اذکارِ رفتہ کا قتل عام ہورہا ہے کیونکہ ادویات اُن کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ ارباب حکومت کی توجہ بارہا اس جانب دلوائی گئی ہے۔ کئی سال پہلے صوبائی محتسب نے بھی حکم دیا تھا کہ اذکار رفتہ کی ضرورت اور سہولت بحال کی جائیں مگر ابھی تک کوئی عمل در آمد نہیں ہوا۔ اب 10 فیصد پنشن میں اضافی احکامات بھی فضا میں اڑا دیئے گئے ہیں اور اس وقت انتہائی شفیق اور انسان دوست وزیر صنعت میاں محمد اسلم کی ولولہ انگیز قیادت میسر آگئی ہے اور ایم ڈی جناب منظر جاوید علی نے بھی چارج سنبھال لیا ہے۔ جن سے امید ہے کہ وہ سابقہ ظالمانہ دور کے نشانات کو مٹاکر منصفانہ طرزو اسلوب اپناتے ہوئے اذکار رفتہ کی تکالیف کا ازالہ فرمائیں گے۔

 

 

جناب میاں محمد اسلم وزیر صنعت اور منظر جاوید علی کے سینوں میں ایک دھڑکتا ہوا دل ہے اور انہوں نے اذکارِ رفتہ کے در د واثر کو محسوس کیا ہے۔ انہیں واجبات کی عدم ادائیگی کو بد ترین ناانصافی سنگین ترین بدانتظامی اور ذاتی مفادات کے دھندوں میں سابق افسران کی کوتاہیوں اور بے حسی کا نوٹس لینا چاہئے۔ سابق صوبائی محتسب جاوید محمود نے تو واجبات کی ادائیگی ہی نہیں بلکہ اب تک پہنچنے والے مالی نقصان کے ازالے کا بھی حکم جاری کیا تھا اور لکھا تھا کہ اذکارِ رفتہ اور بیوگان کے واجبات کی رقوم ان کو اب تک پہنچنے والے مالی نقصان کے ازالے سمیت ادا نہ کی جائیں گی تو کارپوریشن ان کی مقروض، مفرور اور نا دہندہ رہے گی۔ کارپوریشن کے ارباب اختیار کی بدانتظامی ثابت ہوچکی ہے اور ادائیگیوں اور واجبات میں بغیر کسی جواز کے مسلسل اضافہ برقرار رکھنے کافیصلہ انتظامی اہانت آمیز اور ناانصافی پر مبنی ہے اور کسی بھی ادارے کی بد انتظامی کی بد ترین مثال ہے۔ اتنے بلیغ احکامات کی روشنی ارباب حل و عقد کی نگاہوں کو خیرہ کرنے کے لئے کافی تھی۔

 

 

محتسب کے وہ احکامات شریف اوربے نظیر افسران کی ضد اور ہٹ دھرمی کو توڑنے کے لئے تریا ق سے زیادہ مجرب اور زود اثر تھے مگر بڑے افسوس کے ساتھ یہ سطور میاں محمد اسلم اور منظر جاوید علی کے لئے لکھ رہا ہوں کہ وہ کارپوریشن کے سابق ایم ڈی او ر ڈائریکٹران کی بے حسی کا جائزہ لیں کہ انہوں نے اس پر کیوں عمل نہیں کیا۔ اذکارِ رفتہ وہ لوگ ہیں جن کے دور میں کارپوریشن کی کارکردگی اوجِ ثریا کو نہ صرف چھو رہی تھی بلکہ قومی غیرت و حمیت کے چراغ روشن تھے اور خود روزگاری، خود کفالت اور خود انحصاری کی جگہ اب خود ہوشیاری اور خود روزگاری کی جگہ خود بے روزگاری اور خود کفالت کی جگہ خود کفیلوں نے لی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجا ب سردار عثمان بزدار اور وزیر صنعت میاں محمد اسلم اقتدار کے نہیں بلکہ اقدار کے پاسدار ہیں اُن کو معلوم ہونا چاہئے کہ انہوں نے 1200 سے زائد اذکارِ رفتہ اور بیوگان کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور صوبائی محتسب کے احکامات کا تو انہیں احترام کرنا چاہئے تھا۔ کیا کرسی پر بیٹھے ہوئے اِن افسرا ن نے اذکار رفتہ کو پریشان کرنے کی کیوں ٹھان رکھی ہے۔

 

کیا انہوں نے کبر سنی تک نہیں پہنچنا ہے۔ ظالم کے لئے بیواؤں کے صحن چوپال اور یتیموں کے دروازے گزر گاہیں بن جاتے ہیں۔ ظالم مظلوم کی دنیا بگاڑتا ہے اور اپنی آخرت قیامت کے دن بد ترین حالت اس شخص کی ہوگی جس نے اپنی دنیا بنانے کی خاطر دوسروں کی دنیا برباد کر ڈالی۔ اپنی لمحہ بھر کی مسرت اور شادمانی کے لئے دوسروں کی مسکراہٹ مت چھینو۔ ظلم وہی لوگ کرتے ہیں جو قدرت، قوت، ثروت، امارت اور ریاست حاصل کرنے کے بعداللہ اور اس کے قانون کو بھلا دیتے ہیں۔ ظالم کے سامنے حجت نہیں چلتی۔ جبر کے ماحول میں پرندے اپنے گھونسلوں میں مَر جاتے ہیں۔ انصاف کی ایک ہی صورت ہے اور ظلم کی بہت سی صورتیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بہ نسبت انصاف کے ظلم آسانی کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کی مثال غلط اور صحیح نشانہ بازی کی مانند ہے کہ صحیح نشانہ کے لئے تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اور غلط نشانہ کے لئے کسی قسم کی تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی

ظلم منظور مگر اذن تکلم دے دے
آدمی کچھ ہی سہی نقش بہ دیوار نہیں

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیر صنعت میاں محمد اسلم کوا بھی تک بے خبر رکھا جارہا ہے کہ PSIC کی بد انتظامی اور نا انصافی حکومت پنجاب کے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چھوٹی صنعتوں کی کارپوریشن کے اذکارِ رفتہ اور بیوگاؤں کی طبی سہولت اور 10 فیصد رقم کی ادائیگی کے احکامات جاری کریں اور اذکار فتہ کی دعائیں لیں۔ ہمارے اذکار رفتہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر آفتاب صاحب مولوی محمد سلیم صاحب اور اُن کے ہمراہ بزرگ اذکار رفتہ افسران صاحبان وزیر صنعت میاں محمد اسلم سے مل کر اپنی معروضات پیش کرچکے ہیں اور خصوصاً دلائل و براہین سے آراستہ ترجمان اذکار رفتہ جناب لئیق حیدر زیدی کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا نا انصافی ہوگی۔

 

جنہوں نے وزیر اعظم عمران خان تک چھوٹی صنعتوں کی کارپوریشن کے اذکارِ رفتہ (ریٹائریز) کی شدید ترین تکالیف گوش گزار کرائی ہیں جس کی ابھی بازگشت سنائی نہیں دی۔ کاش لئیق حیدر زیدی کی باتیں اربابِ اختیار تک پہنچیں او رہ جلد از جلد 10 فیصد اضافی اعلان کردہ 9 سالوں کا ایریئر جمع شدہ ادا کرے۔ اذکار رفتہ کی طرف سے ارباب اختیار کی نذر
تمہاری بے نیازی سے مر گئے ہم اہلِ وفا
کاش ہماری باتیں تمہارے گوشِ گراں تک پہنچیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.