سفید پوش و غریب امداد کے منتظر تحریر:حافظ عتیق الرحمن

حافظ عتیق الرحمن،مدیر جامعہ اصحابہ صفہؓ ڈیرہ غازییخان

0 104

گذشتہ ایک ماہ سے اہلیان پاکستان کورونا وباکے سحر میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ کاروبار زندگی معطل ہوچکا ہے اور زندگی کا پہیہ مکمل جام کردیا گیاہے۔ایسے میں حکومت کی جانب سے دیہاڑی دار لوگوں کی معاونت و امداد کے لئے 12سو ارب کاا اعلان کیا گیاجو کہ مستحسن امر ہے۔حکومتی اعلان کے بعد جو شروط متعین کی گئی ہیں

 

ان کی روشنی میں سفید پوش طبقہ جو کسی بھی شکل و صورت میں چھوٹے درجہ کے کاروبار اور تعلیم و تدریس کے شعبہ سے غیر سرکاری طورپر وابستہ تھے وہ سب کے سب صرف اس بنیاد پر احساس پروگرام سے استفادہ حاصل کرنے سے صرف اس لئے محروم کردئیے گئے کہ ان کی ملکیت میں اراضی و گھر ہے یا گاڑی و موٹرسائیکل ان کی ملکیت میں ہے یا پھر ان کے پاسپورٹ موجود ہیں۔یہ افسوس کن امر ہے کہ ایک انسان ان سب اشیاء کی موجودگی کے باوجود بھی دووقت کی روٹی کی راہ تک رہاہے اور اس کے بال بچے فاقے کرنے پر مجبور ہیں تو کیا وہ امداد کے مستحق نہیں ہیں؟

 

بعینہٖ اسی طرح جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین ضلع ڈیرہ غازیخان و ضلع راجن پور کے رہائشی جو کوہ سلمان کے قرب و جوار ہڑند،ٹھل ہیرو،ٹھل حمزہ وغیرہ کے لوگ جن کے پاس نہ تو شہر سے رابطہ قائم ہے اور نہ ہی کوئی حکومتی نمائندہ و مقامی سیاستدان لغاری،گورچانی،مزاری،دریشک و کھوسہ قبائل کے سردار ان کی دکھ و الم کی اس گھڑی میں معاونت کررہے ہیں۔

 

واضح رہے ان پہاڑی لوگوں کا گذر بسر مال مویشی چرانے اور ان کی خرید و فروخت پر منحصر ہوتاہے اب جب کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کا شہر داجل و جامپور وغیرہ میں آنا جانا ختم ہوچکاہے تو اس کرب کی صورتحال میں ان افراد کیاور ان کے اہلخانہ کی امداد کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔حکومت پاکستان،پاک فوج کے جری جوان،مقامی ایم این ایز،ایم پی ایز(انتخابات کے ایام میں الیکشن جیتنے کے لئے کروڑوں خرچ کرتے ہیں تو اب ان کی کلیدی ذمہ داری ہے کہ اپنے حلقہ کے عوام کی مدد کریں) اور بلوچ قبائل کے سردار،مخیر حضرات پریشانی و تکلیف کی اس گھڑی میں بھوک و افلاس سے برسرپیکار لوگوں کی معاونت کے لئے پیش قدمی کریں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.