دنیا والوں اللہ سے توبہ کرو،کورونا ختم کرو (علی رضا رانا ، حیدرآباد سندھ)

قیامت سے قبل جان لیوا اور خطرناک وبائیں اور مشکلات آئینگی تاکہ لوگ واپس لوگ نیک اعمال اور خدا کی جانب لوٹ آئیں

0 121

اس بات میں شبہ نہیں کہ مومن ہونے کے ناطے غلطیوں اور گناہوں پر ندامت اور احساس اچھی بات ہے بلکہ ہر مومن کو اپنی غلطیوں کو ٹٹولنا اور اپنے تمام گناہوں پر اللہ سے رجوع اور معافی مانگنی چاہیے اور توبہ و استغفار کے زریعے اللہ سے عفودرگزر کی درخواست کرتے ہوئے اللہ تعالی کی رحمت و عنایت کا خواستگار ہونا چاہیے مگر اس کے بعد بھی اسی فکر میں پڑھے رہنا چاہیے کہ کہیں اللہ تعالی ہم سے ناراض تو نہیں ہے ہر وہ کام کرنا چاہیے جس سے اللہ راضی ہوجائیں احساس ندامت ضمیر اور ایمان کی موجودگی کی علامت ہے اور ہر انسان کو چاہیے کہ وہ دوسرے کے عیب دیکھنے سے پہلے خود کو دیکھے ، خود کو گناہوں سے پاک و صاف تصور نہ کریں  بلکہ یہ سمجھے کہ

 

 ” کل بنی آدم خطاء و خیر الخطائین التوابون” ترجمہ (ہر اولاد آدم خطا کار ہے، مگر اس میں سب سے خطاکار وہ ہے جو اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالے اور توبہ نہ کریں اے انسان اپنی غلطیوں اور گناہوں پر اللہ سے معافی مانگوں اور یقین رکھوں وہ خدا خالق و مالک ہے معاف کرنے والا ہے
اسطرح ہماری روحوں پر بھی ہمارے اعمال کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اعمال صالحہ سے روح کا تزکیہ ہوتا ہے اور سکون ،اطمینان اور راحت اسی دنیا میں نصیب ہوتی ہے ، بداعمالیوں کے اثرات بھی ہماری روح پر مرتب ہوتے ہیں ، بداعمالیوں سے روح بیمار ہوجاتی ہے اور کراہنے لگتی ہے اگر مرض حدود سے متجاوز نہ ہوگیا ہو اور روح پر موت نہ طاری ہو تو مریض روح کے درد و کرب کو محسوس کرتا ہے اور اسکی کراہ سنتا ہے اور اسطرح انسان اپنے گناہ بھی یاد کرتا ہے اور جب بات حد سے گزر جائے تو انسان اللہ کی طرف آجاتا ہے ، اے انسان آج تم پر بھی اللہ کا عزاب مسلط ہے جو کہ تمہں خدا کے قریب آنے کا حکم دیتا ہے لوٹ آو اور تمام نافرمانیوں اور گناہوں سے توبہ کرو ،
اس وقت دنیا ایک خطرناک وباء میں گھیر چکی ہے جس کو "کورونا وائرس” کہا جاتا ہے اور یہ مرض انتہائی خطرناک ہے جس سے انسان آہستہ آہستہ موت کے نزدیک چلا آتا ہے جو کہ ایک انسان سے دوسرے کو انتہائی آسانی سے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ، اب اگر دیکھا جائیں تو امریکا سے پاکستان تک موجودہ موسم "فلو ، نزلہ ، زکام ” وغیرہ کا ہے اور بڑی تعداد میں اس کا شکار بھی ہیں مگر پھر بھی لوگ "فلو یا زکام”  کے بجائے "کورونا وائرس” کی بات کررہے ہیں مگر علمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق "انفلوینزا یا فلو” کی وجہ سے(ہر سال تقریباً 30 سے 50 لاکھ کے قریب انسان شدید بیمار ہوتے ہیں)  "جن مین سے دو لاکھ 90 ہزار سے لے کر چھ لاکھ 50 ہزار تک متعدد سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوجاتے ہیں” امریکہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن سینٹر (سی ڈی سی) کے مطابق 2019 سے لے کر 2020 کے فلو کے سیزن میں اب تک 18 ہزار سے 46 ہزار کے درمیان فلو سے جڑی اموات ہوئی ہیں
 ملطب یہ کہ فلو ایک انتہائی جان لیوا بیماری ہے لیکن ہم ہمیشہ اس کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ آرام کریں یہ خود ہی ایک یا دو ہفتے میں ٹھک ہوجائے گا ، فلو اپنا ٹائم لیتا ہے مگر "کورونا وائرس” یہ سلسلہ کچھ مختلف ہے ۔۔۔ مگر پہلے اسی ہی طرح کہ  مختلف وائرس جن کا عالمی ریکارڈ کچھ یوں ہے ۔۔۔ (وائرس سارس: بیماری کی علامت سانس لینے میں دشواری اور انفیکشن کے بعد موت کے امکانات 36%) (وائرس زیکا:بیماری کی علامات جوڑوں کا درد اور جلد دار خارش اور انفیکشن کے بعد موت کے امکانات 20%) 
(وائرس ایبولا:بیماری کی علامات :کمزوری اور بخار بعداز موت کے امکانات 90%)
(وائرس ماربرگ بخار:بیماری کی علامات ،ہضمہ کی پریشانیوں کے سبب 10 دن بعد موت اسطرح انفیکشن بعداز موت کا امکان 88%) (وائرس نپاہ : بیماری کی علامات ذہنی الجھن کے بعد موت انفیکشن ہونے کے بعد موت کے امکانات 75%) (وائرس کریمین کانگو بخار : بیماری کی علامات منہ اور ناک سے ٹکراو اور خون نکلنا اور انفیکشن کے بعد موت کے امکانات 40%) (وائرس انفلوئنزا: بیماری کی علامات جلن اور گلے میں درد زکام وغیرہ انفیکشن کے بعد موت کے امکانات 13%) (وائرس کورونا: بیماری کی علامات سانس کی نالی میں انفیکشن بعداز موت کا امکان 3%) مگر اہم اور مزے کی بات یہ ہے کہ کورونا اگر اتنا موزی مرض ہے تو دنیا کہ اتنے مہنگے اور قابل سائنسدان ڈاکٹرز اور کیمسٹ ڈاکٹرز نے ابتک اس مرض کی کوئی ویکسن یا دوائی نہ تجویز کی اور نہ بنا سکے نومبر 2019 میں کورونا کا پہلا کیس چین کے شہر وہان میں سامنے آیا بعداز وائرس کو نیا نام دیا گیا کوڈ 19،  اسطرح اس کورونا وائرس کوڈ 19 نے دسمبر ہی میں مریضوں کی تعداد میں 180 تک اضافہ کیا اور یہ موزی وبا کوڈ 19 وائرس تیزی سے چین میں پھلنے لگی اور ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوئی

 

اور اسطرح کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 1 لاکھ کے قریب پہنچ گئی اموات 3600 سے زائد ہوئی جبکہ 49000 افراد صحتیاب ہوئے ، اٹلی 70000  ، امریکا 46909 ، ایران 23090 ، جنوبی کوریا 9000 ، برطانیہ 7098، سعودیہ عرب 786 سے زائد ، کینیڈا 2945 ، آسٹریلیا 2090 ، انڈیا 900 کیس ، 200 اموات
پاکستان میں آج 24مارچ بروز منگل رات 9 بجے تک ملک بھر میں1000 مریض ، 7اموات ، 6 صحتیاب ہوئے ہیں ۔۔۔ ملک بھر میں 24 مارچ 2020 تک 3لاکھ 70 ہزار سے زائد کیس رپورٹ اور 17 ہزار 400 سے زائد اموات ہوچکی ہیں ۔۔۔ اٹلی کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں سرفہرست 7000 اموات ، امریکا میں 588اموات ، برطانیہ 422 اموات ، اسپن 400 سے زائد اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔۔۔۔ اب بات کرتے ہیں پاکستان کی تو ملک میں کورونا وائرس کوڈ 19 ایران کے راستے ملک میں واپس آنے والے زائرین کے زریعے آیا ہے جو کہ 26 فروری 2020 کو پہلا کیس رپورٹ ہوا جو کہ پاکستانی شہری ایران زیارت کے بعد تفتان سے کوئٹہ باراستہ کراچی پہچا تھا ،

 

کورونا وائرس کی پہلی تشخص صوبہ سندھ میں ہوئی اور فوری طور پر حکومت سندھ نے اس کوڈ 19 کورونا وائرس کو حساس لیتے ہوئے 27 فروری کو دو روز کے لئے تمام تعلیمی ادارے بند کردیے گئے اور بعداز اگلے روز مزید زائرین میں سندھ ہی میں کورونا وائرس کے مزید کیس رہورٹ ہونے لگے 6 سے بڑھ کر آج 24 مارچ تک سندھ بھر میں 400 کیس رپورٹ ہوئے اور سندھ ہی میں14 مریض صحتیاب ہوئے اور خیبر پختون خواہ ، پنجاب ، گلگت ، کوئٹہ تک 7 مریض انتقال کرگئے۔۔۔۔ سندھ سکھر کراچی کوئٹہ سمیت ملک بھر میں سیکٹروں زائرین کے ٹیسٹ کئے گئے اور اب بھی بڑی تعداد میں لوگ قرنطینہ میں موجود ہیں ، 500 سے زائد لوگوں کی رپورٹ منفی آنے کے بعد گھر روانہ کردیا گیا ہے ۔۔۔ اس وقت سندھ پنجاب بلوچستان کورونا وائرس سے بچاو کے باعث 15 روز کے لئے مکمل لاک ڈاؤن میں ہے ۔۔۔ سندھ بھر کےتعلیمی اداوں میں 3 ماہ کی تعطیلات کردی گئی ہیں

 

اب موجودہ اطلاعات کے مطابق لوگوں کو زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہنے کا ہی مشورہ دیا گیا ہے۔۔۔ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر کے کاروبار مکمل ٹھپ ہوگئے ہیں ، معثیت تباہ ہوچکی ہے ۔۔۔ دنیا بھر میں پیٹرولیم قیمتیں انتہائی کم ترین قیمت پر آچکی ہیں۔۔۔۔ اطلاعات کے مطابق چین نے کوڈ 19 وباء کورونا وائرس پر قابو پالیا ہے ۔۔۔۔ مگر دنیا کے 190 سے زائد ملک اسوقت بھی اس وائرس سے شدید متاثر ہیں ۔۔۔۔ اسپین میں 500 سال بعد اذان دی گئی ہے اسپین کی فضائیں اللہ و اکبر سے گونج اٹھی ہیں اس پہلے چین میں بھی اس کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے قرآن مجید تقسیم ہوچکے ہیں اور اذان بھی دی جاچکی ہے۔۔۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک مکمل لاک ڈاؤن میں جاچکے ہیں اور ہوائی اڈے سمیت دیگر مواصلاتی زریعے بند کردیے گئے ہیں۔۔۔ پاکستان میں24 مارچ 25 مارچ رات 12 بجے سے ٹرین سروس بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اسطرح کورونا وائرس کو مزید پھیلانے سے روکا جاسکتا ہے۔۔۔
 ملک بھر کے مولوی حضرت اور علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ہر روز دس بجے اذان دی جائے اور اللہ سے معافی طلب کی جائیں آج 24، 25 مارچ شب رات دس بجے اذان دی گئی ہے  مگر اہم سوال پھر وہی ہے کہ اسوقت دنیا جس موزی وباء کوڈ 19 کورونا وائرس میں مبتلا ہے یہ اللہ کا عزاب ہے جو کہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر اور اللہ تعالی سے رجوع کرکے ہی ختم کیا جاسکتی ہے ، بہتر یہ ہے کہ اللہ حکم یاد رکھیں کہ قیامت سے قبل جان لیوا اور خطرناک وبائیں اور مشکلات آئینگی تاکہ لوگ واپس لوگ نیک اعمال اور خدا کی جانب لوٹ آئیں۔۔۔ بہتر یہ ہے کہ خدا سے معافی مانگے اور اللہ ایک ہے پر یقین رکھیں اور نماز قائم کریں ۔۔۔ اللہ تعالی ہم سب کورونا وائرس سمیت دیگر خطرناک عزابوں سے محفوظ رکھیں آمین ثمہ آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.