محبت جیت جاتی ہے ! ( افسانہ ) تحریر: مریم چودھری

شاید یہ حسن کی آخری آزمائش تھی ۔۔۔ یہ ماں کا رشتہ بھی عجیب طاقت رکھتا ہے

0 269

لاکھ کوششوں کے باوجود بھی وہ ہار چکا تھا ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے ساری زندگی کی جدوجہد اسی دوران کی ہو ۔مگر حقیقت بھی اسکی منتظر تھی۔ حسن اس دفعہ بھی abroad نہیں جا سکا اور ہار مان کر پاکستان ہی زندگی بسر کرنے پر راضی ہوگیا۔ یہ رضامندی اسکی مجبوری بن چکی تھی ۔اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔ مگر اب آنے والی زندگی اسکو قیامت لگ رہی تھی۔ کچھ عرصہ تو وہ خود کو اس لالچ کے ساتھ لے کر یہاں تک آیا تھا کے اسے مزید یہاں نہیں رہنا ہوگا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا جو زندگی اسکو اب قیامت لگ رہی تھی حقیقت میں وہ بہار تھی۔۔۔

 

"میں نے بہت کوشش کی مگر اب کی بار کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔  تو بھی اب مجھے کبھی مشورہ مت دینا باہر آنے کا ۔۔۔ تو سڈنی میں رہ کر بھی میرے پاس ہے ۔۔۔” رات کے 2 بجے ریحان اپنے دوست حسن سے بات کر رہا تھا ۔۔۔
"زندگی بھی عجیب ہے ہم سوچتے کیا ہیں ہوتا کیا ہے ملتا کیا ہے۔۔۔  ماں تم ہی بتاؤ آخر ہر بار میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے٫ میں جو چاہتا ہوں ویسا نہیں ہوتا ۔۔۔مطاہرہ بھی مجھے چھوڑ گئی ۔۔۔ میں نے لاکھ کوشش کی مگر اس نے ایک نہ سنی ۔۔۔  ابو بھی چلے گئے میرے لاکھ روکنے پر اور اب تو اب جب میں آپ کو اور خود کو abroad سیٹل کرنا چاہتا ہوں تو یہ کوشش بھی ناکام ۔۔۔ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا مطاہرہ کی یاد مجھے ستاتی ہے ۔۔۔ اس سے وابستہ میں کوئی بھی یاد میں زندہ نہیں رکھنا چاہتا ۔۔۔”

 

حسن دکھ بھرے انداز میں اپنی ماں سے مخاطب تھا۔
"تمہیں کتنی دفعہ سمجھایا ہے بیٹا ۔۔۔ اللہ‎ جو کرتا ہے بہترین کرتا ہے اللہ‎ کی رضا میں۔ راضی
ہوجاؤ وہ بھی دے گا جو تم چاہتےہو ۔۔۔ وہ اپنے بندوں کو دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی ۔۔۔ دیکھنا ایک دن سب بہترین ہوجاۓ گا ۔۔۔ ایک دفعہ صبر کا گھونٹ پی کر تو دیکھو ۔۔۔  "
حسن کی ماں مسکراتے ہوۓ سمجھا رہی تھی ۔۔۔

 

شاید یہ حسن کی آخری آزمائش تھی ۔۔۔ یہ ماں کا رشتہ بھی عجیب طاقت رکھتا ہے ۔۔۔ جو ماں مسکراتے ہوۓ اپنے بیٹے کو سمجھا رہی تھی ساری رات سو نہیں سکی ۔۔۔ اور اللہ‎ سے اپنے بیٹے کے لیے صبر مانگتی رہی ۔۔۔
حسن اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا ماں کی محبت پر تو کوئی شک نہیں تھا مگر اکثر اسکے باپ کی محبت کے مقابلے ماں کی محبت کم پڑجاتی تھی ۔۔۔ اسکا باپ اکثر ہی اس سے ملنے این سی اے کے گیٹ کے پاس آجاتا اور گاڑی میں بیٹھ کر چند باتیں کرتا۔۔۔ اور یہ چند لمحات اس کے ارد گرد سکون بن کر گردش کرتے تھے اپنے باپ کا احترام بھی ایسے ہی کرتا تھا جیسے حق ہو ۔۔۔  حسن این سی اے کا مشہور طالب علم تھا اور اسکی وجہ اسکا آرٹ تھا ۔۔۔ حسن کا باپ پچھلے دو سالوں سے اپنی دوسری بیوی کے پاس شفٹ ہو چکا تھا ۔۔۔ حسن کے والد کے شفٹ ہونے کی وجہ حسن یا اسکی والدہ نہیں تھی بلکے حسن کی سوتیلی ماں حسن کے والد کی دوسری بیوی تھی ۔۔۔ حسن کے والد کا بہت اچھا بزنس تھا انکو دو فملیز رکھنے میں کوئی مشکل بھی نہیں تھی ۔۔۔

 

الحمرا آرٹ گیلری میں آرٹ کی نمائش کے دوران ایک انجان  لڑکی حسن کے قریب آ کر کھڑی ہوگئی اور سب سے بہترین آرٹسٹ کا ذکر کرنے لگی ۔
۔”۔ میں نے سنا ہے حسن نامی کوئی آرٹسٹ ہے۔ یہ پینٹنگ بھی اس ہی کی ہے ۔قدرت میں کوئی اتنی خوبصورتی سے کیسے رنگ بھر سکتا ہے ۔آپ میری مدد کر سکتے ہیں ۔۔۔ حسن تک جانے کے لیے؟ میں جانتی ہوں این سی اے سے ہے۔اتنی جلدی ملے گا تو نہیں٫ ان لوگوں کو پیسے کا بہت مان ہوتا ہے اور کوئی اچھا بھی نہیں لگتا، اپنی ہی موج مستی میں رہتے ہیں ۔انکو کیا فرق پڑتا ہمارے جیسے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی پسند یا نا پسند سے ۔۔  غرور تو اس طرح کرتے ہیں جیسے فرض ہو ۔۔۔ خیر آپ بتا سکتے ہیں ؟”
حسن نے اتنا کچھ سننے کے بعد مسکراتے ہوۓ جواب دیا

 

citytv.pk
citytv.pk

"جی میں ہی حسن ہوں ۔۔۔ بہت شکریہ ۔۔۔ بہت اچھا لگا یہ سب سن کر ۔۔”
۔ حسن سے یہ سننا ہی تھا کے لڑکی چند سیکنڈ تو کچھ بول ہی نہ سکی ۔۔۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد معذرت کرنے لگی ۔۔۔ حسن نے بہت سادگی سے جواب دیا
” انسان جہاں ہوتا ہے وہاں سے ہی پہچانا جاتا ہے میری پہچان تو آپ نے بتا ہی دی ۔۔۔ کیا آپ کی پہچان جان سکتا ہوں میں۔؟”
لڑکی مسکراتے ہوۓ بولی
"کیوں نہیں٫ مگر آپ کو چاۓ پینا پڑے گی”

 

۔۔۔  چاۓ سے شروع ہونے والی ملاقات سے بات یہاں تک آ پہنچے گی ان دونوں کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا ۔۔۔ حسن کے اس کے زیادہ قریب آنے کی وجہ اسکے والد سے دوری بھی تھی۔ جو ملنے تو آتے تھے مگر حسن انکی کمی ہر طرف سے پوری کرنے کی کوشش کرتا تھا ۔  دوستی سے محبت اور محبت سے عشق کا سفر کیسے مکمل ہوا ان دونوں کو ہی معلوم نہ تھا ۔۔۔ مگر اب ایک دوسرے کے بغیر رہنا مشکل ہو چکا تھا ۔۔  حسن کی کامیابی کا آغاز تو اس کے کالج میں قدم رکھتے ہی ہو گیا تھا ۔۔۔ زندگی میں دولت کی کمی نہیں تھی ۔۔۔ حسن اس لڑکی سے شادی بھی کرنا چاہتا تھا اس ہی عرصے کے دوران بہت دفعہ آپنے والد سے ذکر بھی کر چکا تھا۔ ماں کا لاڈلا تھا کہ ماں نے ہمیشہ ساتھ دیا اور ہاں میں ہاں ملائی۔ حسن کی ماں کو بھی یہ لڑکی پسند تھی ۔۔۔ 

 

حسن کی ماں انتہائی سادگی پسند خاتوں تھی۔۔ آج تک  کوئی ناراضگی نہیں ظاہر کی ۔۔۔ ہمیشہ مسکرانا عبادت سمجھتی تھی ۔۔۔ حسن کی پسند پر خوش ہونا بھی فرض سمجھتی تھی اور حسن کی پسند مطاہرہ تھی ۔۔۔ کہتے ہیں جو حادثہ ہونا ہو اسکو کوئی نہیں روک سکتا ۔۔۔ حسن اپنے والد اور والدہ کو منا چکا تھا اور بہت جلد  ازدواجی رشتے میں داخل ہونے والا تھا ۔۔۔ مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا ۔۔۔
” ہمارا جتنا وقت گزرا اچھا گزرا اب تم مجھ سے کبھی رابطہ مت کرنا ویسے بھی۔  تم تو این سی اے سے تعلق رکھتے ہو ۔۔۔ اتنے شریف نہیں ہو جتنا میرے سامنے بنتے ہو ۔۔۔ سب حقیقت جانتی ہوں تمہاری ۔۔۔ آج کے بعد مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش مت کرنا یہ میری تم سے آخری خواہش ہے ۔”
اتنا که کر مطاہرہ تو وہاں سے جا چکی تھی مگر حسن کتنی دیر تک وہاں کھڑا اپنی زندگی کی فلم دیکھتا رہا اسکو بھی معلوم نہ تھا ۔۔۔

 

حسن کو پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ کسی بھی لڑکی سے تعلق بنا سکتا تھا۔ مگر وہ  بالکل اپنی ماں جیسا تھا ۔۔۔ انتہائی سنجیدہ اور حساس طبیعت کا ۔۔۔ کسی کا دل توڑنے سے ڈرتا تھا ۔۔۔ مسکرانا عبادت سمجھتا تھا ۔۔۔ اور پیار اسکی کمزوری تھی ۔۔۔ abroad شفٹ نہ ہونے کی وجہ در اصل اسکا باپ تھا ۔۔ اس کے والد کے علم میں جیسے ہی آیا کہ حسن کا یہاں دل نہیں لگتا۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ باہر جا کر رہنا چاہتا ہے۔اس کے باپ نے کوئی کوشش نہیں چھوڑی اور کامیاب ہوگئے ۔۔ 

 

حسن پانچ سال کی ناکام کوشش کے بعد اب حقیقت تسلیم کر چکا تھا ۔۔ نماز پڑھنے کا عادی تو تھا ہی مگر اب مزید وقت مسجد میں رہنے لگا ۔۔۔ محبت کی ایسے چوٹ کھائی کہ دوبارہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہو سکاتھا ۔۔ مگر یہ بھی اسکا وہم تھا ۔۔۔ اللہ‎ سے لو ایسی لگی اسلامک سینٹر جانے لگا۔ ریسرچ کرنا اسکا پسندیدہ کام بن کر رہ گیا ۔۔۔ اور اللہ‎ اور نبی صلى الله عليه وسلم کے عشق میں مزید ڈوبتا گیا ۔۔۔ یہ بھی حقیقت ہے خدا اسکو بھی نوازتا ہے جو نہ مانگے پھر جو اسکی راہ کے راہی بن کر رہ جاۓ کبھی خالی ہاتھ نہیں رہتے ۔۔۔

 

حسن اب اپنی زندگی کے خاص باب میں۔ تھا جہاں اسے کسی بھی چیز کے کھونے کا ڈر نہیں تھا ۔۔۔ مگر محبت کی چوٹ اپنا اثر چھوڑ گئی تھی ۔۔  وہ کہیں نہ کہیں اب بھی مطاہرہ کی کمی محسوس کرتا تھا۔۔۔ یہ اسکی ماں کی دعا تھی کے اسے صبر مل گیا تھا ۔۔  یہ صبر بھی ہماری خواہشات سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے ۔۔۔ حسن کو مطاہرہ کی کمی تو محسوس ہوتی تھی مگر اذیت نہیں ۔۔  یہ حقیقت تسلیم کرتے ہی اذیت کے سفر سے آزاد ہوگیا تھا ۔۔۔ اب وہ تسکینِ دل کے لیے مطاہرہ کو بھی ڈھونڈتا تھا ۔۔۔
حسن کا باپ دوسری بیوی کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے مکمل طور پر حسن اور اسکی والدہ سے جدا ہو چکا تھا۔۔۔ دوسری بیوی انکی بزنس پارٹنر ہی تھی اسلیے اس  سے کچھ چھپانا ممکن نہیں ہوتا تھا اسکی ہر خواہش کو مکمل کرتے کرتے ایک دن  یہ خواہش بھی مکمل کر دی ۔۔۔

 

 

حسن کی ماں ہاتھ میں۔ کچھ پیپرز پکڑئے کھڑی تھی ۔۔۔ اور مسکرا رہی تھی ۔۔۔ حسن دیکھ کر جان چکا تھا یقیننا یہ پپرز بھی کسی نئے درد کی دستک ہے۔۔۔ حسن کی ماں نے جاتے ہی شکرانے کے  نوافل ادا کیے ۔۔۔ یہ پپرز واقعی عام نہیں تھے مگر  حسن کی ماں کے لیے خاص بھی نہیں تھے ۔۔۔
 "طلاق دینے کا وقت تو گزر چکا تھا مگر اس نادان عورت کی خواہش ۔۔۔ "
حسن پپرز دیکھ کر سوچ رہا تھا ۔۔۔

 

 

ریحان کے پاکستان آتے ہی پہلی دعوت حسن کی طرف تھی ۔۔۔ حسن کی ماں کے لیے ریحان ایسے ہی تھا جیسے حسن ۔۔۔” آنٹی  بس میں آپا کے لیے پریشان ہوں طلاق کے بعد اب جا کر شادی کے لیے مانی ہیں میں چاہتا ہوں انکا رشتہ بھی مل جاۓ تا کہ انکا نکاح بھی میں خود کر کے جاؤں ۔۔۔  اور میرے پاس تو چھٹی بھی بہت کم ہے ۔۔۔ مگر آپ کو  کو تو معلوم ہے آج کل کنواری لڑکیوں کے رشتے نہیں ہوتے آپا تو پھر طلاق یافتہ ہیں اور دو بچے بھی ہیں کون قبول کرتا ہے،”
ریحان کے لہجے سے اس کی پریشانی عیاں تھی۔

 

ریحان جتنا عرصہ بھی پاکستان رہا زیادہ وقت حسن اور اسکی والدہ کے ساتھ گزارتا ۔۔۔
ریحان کی سیکنڈ لاسٹ چھٹی تھی  ڈنر پر حسن اور اسکی والدہ  کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملا ۔
"۔۔ آنٹی ہر کام میں اللہ‎ کی بہتری ہوتی ہے آپ ٹھیک کہتی ہیں مگر امی بہت بیمار ہیں وہ بھی چاہتی تھی آپا کی شادی کر کے ہی جاتا اب انکو کون سمجھائے رشتہ ملنا آسان نہیں ۔۔۔”
ریحان سخت پریشان تھا۔

 

"پریشان مت ہو بیٹا ہم کل ہی تمہاری آپا کا نکاح کر کے رخصت کریں گے۔ اپنی والدہ کو حوصلہ دو ۔۔۔ مگر آنٹی کوئی رشتہ تک نہیں کیسے ممکن ۔۔۔”
ریحان حیرانگی کے عالم میں بولا
"بیٹا میں اور حسن”
۔۔(حسن کی والدہ مسکراتے ہوۓ بولی )

ریحان ابھی تک  بات نہیں سمجھ سکا ۔۔۔
"کیا مطلب آنٹی میں سمجھا نہیں ۔”
ریحان حیران تھا۔۔
"بیٹا تمہاری آپا کی شادی حسن سے ہوگی”
حسن کی والدہ مسکراتے ہوے بولیں ۔۔۔
ریحان چند لمحے تو اپنی خوشی سنبھال ہی نہ سکا۔۔۔ "آنٹی اس سے اچھا گھر کونسا ہو سکتا ہے” (ریحان خوشی سے مہک رہا تھا )

 

حسن کو اپنی ماں سے کبھی کوئی اعتراض نہیں تھا اور انکا ہر حکم ماننا اپنا فرض سمجھتا تھا بلکہ عبادت بھی ۔۔۔
نکاح کے بعد اس کے سامنے آنے والی لڑکی کو پہلی دفعہ دیکھ کر ۔۔
اسکی آنکھوں کے سامنے بار بار وہ جملہ آرہا تھا جو اسکی ماں سمجھاتی تھی ۔۔
"۔ اللہ‎ وہ بھی دیتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ۔۔۔ اک دفعہ جھکنا پڑتا ہے ۔۔۔ اسکی رضا پر راضی ہونا پڑتا ہے ۔۔۔ اسکی چاہت کو اپنی چاہت بنانا پڑتا ہے۔۔۔ صبر کا گھونٹ پی لینا چاہیے ۔۔۔ یہ بہت طاقت ور ہوتا ہے ۔”۔۔
اسکو یقین ہی نہیں آرہا تھا اس کے سامنے والی لڑکی کوئی عام یا نئی لڑکی نہیں تھی بلکے مطاہرہ ہی تھی ۔۔۔

 

وہ خوشی سے کھل رہا تھا ۔۔۔ صبر کے اتنے دریا عبور کر چکا تھا اسکو ماضی کی محبت کے سوا کچھ یاد نہیں تھا ۔۔۔ مطاہرہ کیوں چھوڑ کر گئی تھی ۔۔۔
اسکی شادی ۔۔۔۔
پھر طلاق ۔۔۔۔
اور یہ بچے ۔۔۔
مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا ۔۔۔ اذیت کا سفر ختم ہو چکا تھا ۔۔۔ محبت جیت چکی تھی نفرت ایک بار پھر ہار گئی ۔۔۔ اب تو بہار بھی حسن اور مطاہرہ پر رشک کر رہی تھی ۔۔۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.