دہشت گردی سے قیام امن تک کا کٹھن سفر! تحریر:شاہد ندیم احمد

افواج پاکستان کی شاندار کارکردگی جسے پوری عالمی برادری قابل تقلید مثال تسلیم کرتی ہے

0 190

ملک میں تین سال قبل امن و امان کی صورت حال جس قدر ابتر تھی،قوم کے حافظے سے ان مناظر کا محو ہو جانا ممکن نہیں ہے، تاہم موجودہ آرمی چیف نے منصب سنبھالتے ہی اُس وقت کی وفاقی حکومت کی مشاورت سے ملک کو بدامنی سے نجات دلانے کیلئے فیصلہ کن کارروائی کا عزم کیا اور یوں آپریشن رَدُّالفساد کا آغاز کیا گیا۔ پوری قوم نے نفاذ قانون کے ذمہ دار تمام اداروں کی شرکت سے شروع ہونے والی کارروائی کی مکمل حمایت کی اور الحمدللہ ملک کے محافظوں نے اپنی جانوں کی بھاری قربانیاں دے کر تین سال میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ آپریشن کرکے ملک کو دہشت گردی کے چنگل نکال لائے ہیں۔

 

افواج پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کی اس شاندار کارکردگی پر جسے پوری عالمی برادری قابل تقلید مثال تسلیم کرتی ہے، پاکستانی عوام کا سر فخر سے بلند ہے، شہیدوں اور غازیوں کیلئے ان کے دل تشکر کے جذبات سے لبریز ہیں، جبکہ آپریشن ردالفساد کے تین سال مکمل ہونے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بیان حقائق کی درست ترجمانی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتائج خطے میں امن کی صورت میں نکلیں گے، افواج پاکستان کے چوکس و بیدار ہونے کی جو یقین دہانی آرمی چیف نے کرائی ہے، وہ پوری قوم کیلئے باعث اطمینان ہے۔

 

یہ امر واضح ہے کہ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی اور صبر آزما جنگ لڑی‘ دہشت گردوں کو شکست دینے اور ملک میں قیام امن کے استحکام اور سلامتی کے لیے لازوال قربانیوں کی نہ صرف روشن مثال قائم کی، بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کیا،آج اسی کا ماحصل ہے کہ پاکستان کے پر امن ماحول میں بین الاقوامی کبڈی اور کرکٹ میچ ہو رہے ہیں جوپوری دنیا کو واضح پیغام ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی سے سیاحت تک کا کٹھن سفر کامیابی سے طے کر لیا اور یہ اب کھیل وسیاحت کے لیے ایک پرامن ملک بن چکا ہے۔ایک وہ وقت تھا کہ پاکستان میں ٹڈی دل کی طرح دہشت گرد اور انتہا پسند انتہائی طاقتور ہو گئے تھے اور انھوں نے خفیہ طور پر پورے ملک میں اپنے جال بچھا لیا تھا، قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی تھی،اس صورت حال میں پوری قوم میں تشویش کا ابھرنا قدرتی امر تھا اور ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا کہ کسی بھی وقت انتہا پسندوں کا گروہ آگے بڑھ کر عنان اقتدار اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے نظریاتی مخالفین کا قتل عام شروع کر سکتا ہے۔

 

سول حکومت اور اس کے ماتحت سول سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور مشکل صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت پر سوالیہ نشان اٹھ رہے تھے۔ مایوسی کی فضا میں پاک فوج نے آگے بڑھ کر قوم کو حوصلہ دیا اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کردیا گیا۔شمالی وزیرستان کے دشوار گزار اور محفوظ پناہ گاہوں میں چھپے جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کو گمان بھی نہیں تھا کہ کوئی انھیں شکست نہیں دے سکتا ہے،مگر آفرین ہے پاک فوج پر جس نے ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے وطن دشمنوں سے ٹکرا گئی اور دہشت گردوں کے ناقابل تسخیر محفوظ ٹھکانوں پر قبضہ کرکے امن و امان کو یقینی بنا دیا، اس جنگ میں پاک فوج کے پرعزم‘ بہادر افسروں اور جوانوں نے بڑی تعداد میں قربانیاں دینے کے باوجود پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی،بلکہ ہر شہادت کے بعد اپنے اس عزم کو دہرایا کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔اس وقت بھی کچھدہشت گردوں کے بچے کھچے گروہوں کے پیچھے غیرملکی قوتیں کارفرما ہیں جو پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی درپے ہیں۔

 

اس ناسور کے مکمل خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان کے ہمسائے میں موجود افغانستان اپنی ناکافی انتظامی و دفاعی صلاحیت کے باعث دہشت گردی کے ٹھکانوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا،جہاں دہشت گرد خود کو منظم کرتے ہیں۔ داخلی انتشار کی وجہ سے بھارت جیسے ممالک کو موقع ملا کہ وہ افغانستان میں خفیہ اڈے بنا کر پاکستان کے مفادات کو نشانہ بنائے۔ پاکستان نے صرف اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں کیا،بلکہ افغانستان سے آنے والے ایسے عناصر کے گرد گھیرا تنگ کر کے انہیں چھپنے کا موقع نہیں دیا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف پورے خطے میں سرگرم عسکریت پسند گروہ ختم کرنے میں کا میابی حاصل کی ہے۔اس امن کی بحالی کے فوائد جہاں پاکستان کو ملیں گے،وہاں اس سے افغانستان، ایران، مشرق وسطیٰ، چین، روس اور حتیٰ کہ بھارت بھی فائدہ اٹھائے گا۔ مسلح افواج نے ثابت کیا ہے کہ وہ پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور خطے کے استحکام کے حوالے سے اہم معاملات کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یہ تحریک انصاف حکومت کی خوش نصیبی ہے کہ اسے سابقہ حکومتوں کے مقابلے میں ایسا پاکستان ملا کہ جسے بدامنی سے پاک کردیا گیاہے، وہ ممالک جنہوں نے اپنے شہریوں کو سیکورٹی خدشات کے پیش نظر یہاں کا سفر کرنے سے روک رکھا تھا، ان میں سے بیشتر اب یہ پابندی ختم کر چکے ہیں۔یہ آپریشن ردالفساد کا ہی ثمر ہے کہ پہلی مرتبہ پاکستان سپر لیگ کا انعقاد پاکستان میں ہو رہا ہے، دہشت گردی سے سیاحت تک کا یہ سفر وطن عزیز کیلئے خوش آئند امکانات کے لامحدود راستے کھول سکتا ہے۔ اس مثبت پیشرفت کے سبب آرمی چیف کی یہ توقع بالکل بجا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے سے پاکستان اور خطے میں امن و استحکام آئے گا، انہوں نے انسدادِ دہشت گردی کی دو دہائیوں کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا ہے۔

 

جسے پورا کرنا بنیادی طور پر تمام ریاستی اداروں کی مکمل حمایت یافتہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت اور پاک آرمی کی باہمی حکمت عملی کے باعث پا کستان کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی پائیدار امن کے امکانات روشن ہورہے ہیں، طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ اسی ہفتے متوقع ہے، جس کے بعد امریکی افواج کی واپسی عمل میں آئے گی اور برادر ملک میں ایک مستحکم سیاسی نظام کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ خطے میں پائیدار امن و استحکام کے ان روشن امکانات سے خاطر خواہ استفادہ کرنا اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانا موجودہ حکمرانوں کی صلاحیتوں کا امتحان ہے۔ اس مقصد کیلئے قومی سطح پر موجودہ افتراق وا نتشار کا خاتمہ اور اتحاد و یگانگت کا فروغ ناگزیر ہے، اس کیلئے مؤثر اقدامات میں تاخیر قومی مفاد کے منافی ہوگی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.