ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ اور زبردستی کے ہمدرد ! تحریر: انشال راؤ

پاکستان کو کرپشن کی لعنت سے چھٹکارا دلوانے کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے

0 116

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا میں کرپشن سے متعلق 2019 کی رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق دنیا کے تمام ممالک مجموعی طور پر انسداد کرپشن میں ناکام رہے اس ضمن میں تقریباً تمام ممالک کی کارکردگی بہتر نہیں رہی حتیٰ کہ پہلا نمبر حاصل کرنے والے ڈنمارک کو بھی اس سال 1 نمبر کم ملا اور پاکستان بھی پچھلی رپورٹ کے مقابلے میں اس بار 1 نمبر کم لے پایا نتیجتاً CPI میں 117 سے 120 نمبر پر آگیا جسکے بعد سے معمول کے مطابق ایک مخصوص طبقے نے ایک طرف تو پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا پر آسمان سر پہ اٹھا رکھا ہے اور PTI پر براہ راست یا بالراست طعن و تشنیع کی بارش کر رکھی ہے جبکہ دوسری طرف مکارانہ طور پر پچھلی حکومتوں کا موجودہ حکومت سے تقابل کرکے پچھلی دونوں حکومتوں کو مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوے خود کو غریب کے زبردستی کے ہمدرد بناکر پیش کررہے ہیں جس پر حیرانگی بھی حیران ہوکر رہ گئی ہے کہ آخر ایسا کونسا زلزلہ واقعہ ہوا جو پاکستان میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا، TI کی

 

 

رپورٹ میں پاکستان سمیت کل کے کل ممالک کی یکساں کارکردگی بتائی گئی اور یہ کوئی پہلی بار شائع نہیں ہوئی جس پر اتنا واویلہ مچایا جائے نہ ہی یہ کوئی آسمانی صحیفہ ہے کہ جسے حرف آخر سمجھا جائے البتہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کرپشن کی دلدل میں دھنسا پڑا ہے لیکن اس کا ذمہ دار کپتان یا موجودہ حکومت کا ٹھہرانا کسی طور بھی جائز نہیں البتہ اتنا ضرور کہا جانا چاہئے کہ پاکستان کو کرپشن کی لعنت سے چھٹکارا دلوانے کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی عالمی رپورٹ کے بعد پوری دنیا کا میڈیا معمول کے مطابق نشریات چلاتا رہا لیکن یہ اعزاز پاکستان کے مخصوص میڈیا گروپس اور مخصوص میڈیا پرسنز کو حاصل ہوا کہ جنہوں نے معمول کو چھوڑ کر اس رپورٹ پر آسمان سر پہ اٹھا لیا جبکہ ان کا منافقانہ چہرہ کتنا واضح نظر آتا ہے کہ ان کو نہ کرپشن سے کوئی تکلیف ہے نہ ہی غریب سے ہمدردی، ان کے کردار و عمل سے تو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے افراد نواز شریف سے زیادہ نوازشریف کے ہمدرد اور کچھ ایسے بھی ہیں جو کپتان سے زیادہ PTI کے خیرخواہ، زرا سوچئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر ادھم مچانے والوں کو کرپشن سے بیزاری ہوتی تو وہ آئے روز منظر عام پہ آنے والے کرپشن کے اسکینڈلز پہ شور مچاتے لیکن یہ حضرات مسلسل ان اسکینڈلز کو نظرانداز کرتے آرہے ہیں، زیادہ پیچیدگی میں نہ جائیں گذشتہ ہفتے کے کامران خان کے پروگرامات ہی اٹھا لیجئے غضب کرپشن کے غضب اسکینڈل سامنے لائے گئے ہیں لیکن کسی کو کوئی یشویش نہیں، کچھ عرصہ پہلے SPSC میں جعلسازی سامنے آئی اس پر بھی کسی نے دھیان نہ دیا، آٹے بحران پہ منافقانہ سیاست تو کی گئی لیکن سندھ میں گندم کے گوداموں میں اعلیٰ سطحی کرپشن کو یکسر نظرانداز کردیا گیا اور اچانک سے ایک مبہم و غیر روایتی طریقے سے بنائی گئی۔

 

 

رپورٹ پر پاکستان سے زبردستی کی ہمدردی جتانے کا وقت آجاتا ہے اور نتیجہ وہی کا وہی کہ عام آدمی ان منفی و مثبت رجحانات پہ مبنی رویہ کی نذر ہوکر مستقل طور پر پس کے رہ گیا ہے، حقیقتاً و واقعتاً تو یہ جنگ ہے اقتدار کی، چودھراہٹ کی، بادشاہت کی جس کا ایندھن عام آدمی کے جذبات کو بنایا جارہا ہے طرح طرح کے ڈھکوسلے اور گونہ گوں طریقے وضح کر رکھے ہیں، بظاہر تو ملک و قوم کا درد دکھاتے ہیں جبکہ حقیقتاً اپنے پیٹ کے درد کے لیے اس مخدوش و غریب دشمن نظام کو بچانے کے لیے سر توڑ کوشش کی جارہی ہے کہ کچھ بھی ہوجائے یہ کرپٹ سسٹم ڈھیر نہ ہو اسی لیے حکومت پر بےجا و فضول دباو بڑھا کر اسے احتسابی عمل و اصلاحات سے دور رکھا جارہا ہے، حکومتی کمزوری کا یہ حال ہے کہ نعرہ تو ہے "گھبرانا نہیں ہے” جبکہ گھبراہٹ و بوکھلاہٹ ان کے چاروں طرف بسیرا کیے ہوے ہے، حضرات علی کرم اللہ وجہہ کے قول کا مفہوم ہے کہ "انسان گھبراہٹ میں اپنی ذاتی صلاحیتیں بھی کھودیتا ہے اس لیے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ ہمیشہ حوصلہ مند رہنا چاہئے” کے مصدق کپتان کی ٹیم کے میمنہ، میسرہ و قلب کو ہمت کا مظاہرہ کرنا چاہئے نہ کہ گھبراہٹ و بوکھلاہٹ کا کیونکہ خائن طبقہ تو ہر صورت اسی کوشش میں ہے کہ وقت ضایع کردیا جائے اور پھر اس کو بنیاد بنا کر وہ یہ کہہ سکیں کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ یہ تو ہیں ہی نااہل،

 

 

اس تمام تر صورتحال اور جنگ میں عوام کا کردار غیر معمولی ہونا چاہئے تھا لیکن افسوس کہ مخصوص میڈیا گروپس و میڈیا پرسنز نے ذہنی تخریب کاری کے زریعے بہت سے افراد کو بنی اسرائیل کے مصداق بنا کے چھوڑا ہے، بنی اسرائیل کی قوم سے جب حضرت موسیٰ ؑ نے جب فرعون کے خلاف لڑائی کے لیے اٹھنے کے لیے کہا تو انہوں نے مایوس کیا اور افسوس کہ آج من حیث القوم ہم پاکستانی بھی بنی اسرائیل کی اس روایت کی پیروی کرتے نظر آرہے ہیں کہ جب خائن و بدعنوان طبقے کے خلاف عوام کی حمایت کی اشد ضرورت ہے تو بقول شاعر "ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا” کے مصداق سوئے ہوے ہیں جو کہ خوفناک ترین و المناک صورتحال ہے کہ آج اگر اس بدعنوان و انسانیت دشمن نظام کو اکھاڑ کے نہ پھینکا گیا تو پھر ہمیشہ کے لیے غلامی مقدر بن جائیگی، عوام کی اس کمزوری میں ایک طرف تو کچھ منافقین کا ہاتھ ہے تو کچھ کپتان کی کمزوری بھی کہ ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود کوئی خاطرخواہ عملی صورت نظر نہ آئی، کپتان صاحب اگر ایک کو قرار واقعی سزا دے دیتے تو دہشت کا ماحول بن جاتا اور دو چار کے نمبر لگنے کے بعد ھو کا عالم ہوتا اور فردوس عاشق اعوان بھی سیاہ کو سفید بتانے پہ مجبور نہ ہوتیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.