ویلنٹائن محبت نہیں ! تحریر: نمرہ ملک

ہمارا دین محبت کا دین ہے،بھلائی اور امن کا دین ہے بلکہ آسان لفظوں میں آسان ترین زندگی گزارنے کا بہترین فارمولہ ہے

0 121

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں میانہ روی کا درس دیتا ہے،ہمارا دین محبت کا دین ہے،بھلائی اور امن کا دین ہے بلکہ آسان لفظوں میں آسان ترین زندگی گزارنے کا بہترین فارمولہ ہے۔اسلام زندگی کے ہر شعبے اور ہر رشتے میں محبت کا داعی ہے مگر ہم پاکستانی لوگ بھی اب اغیار کی دیکھا دیکھی ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ منانے لگے ہیں۔ویلنٹائن کون تھا؟ اس کی کونسی عظیم یاد ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا اس کی محبت میں گوڈے گوڈے ڈوبی سرخ پھولوں کا پرچار کرتی پھرتی ہے‘؟یہ کہانی تب سے شروع ہوتی ہے جب دنیا میں غلامی کا کاروبار عروج پہ تھا اور مزدوروں کو بنیادی حقوق نہیں دئیے جاتے تھے۔ویلنٹائن اک فوجی تھا اوراپنے ملک کی اس فوج کا حصہ تھا جنہیں گھر جانے کی اجازت کم ملتی تھی،شادی پہ پابندی تھی اور نوجوانوں کو اپنی جنسی ضروریات پوری کرنے کا کوئی طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا ۔

 

ویلنٹائن ایک یہودی النسل باغی تھا ،اس نے کیمپ میں موجود لوگوں کو شادی کے بغیر چوری چھپے تعلق رکھنے پہ اکسایا اور ان کے جذبات کو ابھارتے ہوئے انہیں اس نہج پہ لے آیا کہ وہ زنا کو جائز سمجھنے لگے۔اس نے اپنے گرد بسنے والوں کے اندر یہ زہر گھول دیا کہ اگر شادی کی اجازت نہ ملے،اگر رکاوٹ ہو اور اگر کوئی اچھایا اچھی لگنے لگے تو اس سے تعلق استوار کر لینا انسان کا بنیادی حق ہے۔اس نے بالخصوص نوجوان طبقے کی وکالت کی اور اسے اپنی مرضی سے شادی کے بغیر تعلق استوار کرنے کی ضرورت پہ زور دیا ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگلش کمانڈ میں گھر سے دور افواج میں زنا کا تصور عام ہونے لگا اور ویلنٹائن کے ارد گرد کے نوجوان فوجیوں نے اس کے پرچار کی تائید کرتے ہوئے زبردست مزاحمت کی جس پہ حکومت وقت اور شہنشاہ نے بغاوت اور معاشرے میں بدامنی پھیلانے کے جرم میں ویلنٹائن کو پھانسی دے دی۔یہ چودہ فروری کا دن تھا۔ویلنٹائن کی پھانسی سے باغیوں میں اشتعال کی لہر ابھری مگر دبا دی گئی۔اب اگلے سال چودہ فروری تک معاملہ تو ٹھنڈا پڑ گیا مگر ویلنٹائن کی طرح اس کے پرچار کی تائید کرنے والوں نے چودہ فروری کو اس کی یاد میں اپنی اپنی متوقع یا موجودہ منگیتر یا محبوبہ کو سرخ پھول دے کر ویلنٹائن کو خراج تحسین پیش کیا جس کی وجہ سے لوگوں میں جنسی تعلق کا برا شعور پیدا ہوا تھا۔آہستہ آہستہ سرخ پھول جو محبت کی علامت سمجھے جاتے ہیں ،پورے یورپ میں پھیلنے لگے اور لوگ چودہ فروری کو اپنی محبوباؤں سے محبت کے اظہار کے لیے یہ دن منتخب کرنے لگے۔یہ روگ اور آگے بڑھا اور تیسری دنیا کے ناعاقبت اندیش اور اندھی تقلید کرنے والوں میں ناسور بن کر پھیل گیا۔

 

چند ایک لبرل اور اپنی چال چلنے والے ممالک کے علاوہ ہر طرف یہ بے حیائی پھیلتی چلی گئی اور باقاعدہ اک رسم اور دن سمجھ کر منائی جانے لگی۔اس کے اثرات ہسپانوی اور یورپ کی دوسری آبادیوں کی طرف کم کم رہنے لگے جہاں سے یہ تحریک اٹھی تھی اور پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں لوگ مردے پہ سیاست کے عادی ہیں،یہ ناسور پھیلتا چلا گیا۔کئی ممالک جن میں بطور خاص ترکی شامل ہے،اپنے تمام تر جدید اور لبرل زہن رکھنے کے،ویلنٹائن فارمولے کو بری طرح مسترد کیا۔آج بھی چودہ فروری کو کوئی لڑکی سرخ کوٹ پہن کر باہر نکلے تو اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ پیشہ ور سمجھ کر ’’کافی‘‘ کی دعوت دی جاتی ہے جو کہ بہت طنزیہ لفظ سمجھا جاتا ہے۔ترک معاشرے میں سرخی کو خطرے کی علامت اور ویلنٹائن پہ سرخ لباس یا کسی بھی قسم کی سرخی استعمال کرنا دقیانوسیت ہے جس سے وہ لوگ ان خرافات سے بچے ہوئے ہیں جو پاکستان میں دن بہ دن بڑھ رہی ہیں۔ہمارے یہاں فروری کے مہینے میں پھولوں کا کاروبار عروج پہ پہنچ جاتا ہے اور چودہ فروری کی رات تو بے حیائی عروج پہ پہنچ جاتی ہے۔ہمارے بے شرم زرائع ابلاغ میں اسے کوریج کرنے کے لیے باقاعدہ پروگرام ترتیب دئیے جاتے ہیں جب کہ ترکی میں چودہ فروری کو کسی بھی دکان پہ آپ کو سرخ پھول نظر نہیں آئیں گے۔

 

 

ترک معاشرہ ہماری طرح جھلا نہیں جو دوسروں کی تقلید میں اندھے ہو کر اپنی روایات بھول جائیں،ہم نے بے شمار دوسری بری عادتوں کی طرح یہ بے شرم عادت بھی دھڑلے سے اپنائی ۔ چودہ فروری کو بالخصوص نوجوان لڑکے اور لڑکیاں محبت کے اظہار اور بے حیائی کے لیے منتخب کرتے ہیں۔لفظ تلخ سہی مگر جس معاشرے میں سیدنا حضرت عمرؓ کی بات بھلا دی گئی جو انہوں نے اک فوجی کی بیوی کے خط میں کہی تھی کہ فوجیوں کو اک مخصوص عرصہ کے بعد جنگ سے بھی واپس گھر جانے کی اجازت دی جائے اور یہ یاد رکھا جائے کہ ویلنٹائن نے شادی کے لیے بغاوت کی تھی اس معاشرے کی تنزلی اور ذلالت پہ دو رائے نہیں ۔چودہ فروری کے دن اور خاص طور پہ شام میں ایلیٹ کلاس ہر طرح کے وہ کام کرتی اور دوسروں کو اکساتی ہے جو اسلام کے منافی اور صریحاً گناہ ہیں۔ہمارے ایک ایلیٹ کلاس کے نمائندے اور حکومت وقت کے مشیر خاص کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اور ان کی نئی نسل چودہ فروری کو اپنے اک فارم ہاؤس پہ رقص و سرود کی محفل سجاتے اور نوعمر لڑکیوں کو زندہ ہونے کی سزا دیتے ہیں۔خیر رقص و سرود اور ام الخبائث سے شغل تو اب ہمارے معاشرے میں اس قدر عام ہو گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری بڑی محفل میں نہ پینے والے کو ’’مولوی ‘‘ سمجھ کر مذاق اڑایا جاتا ہے۔کسی بھی فائیو سٹار ہوٹل میں اک آنکھ دبا کر ’’ہر طرح کی خدمت ‘‘ کی آفر عام ہے۔جس ملک میں ریپ اور اغواء برائے جنسی تشدد کے واقعات معصوم بچیوں کے گرد گھومنے لگتے ہیں وہاں یقیناًبھوک کے علاوہ کی بھی کوئی بھوک ہے جو یہ سارے کریہہ کام کرواتی اور پھر چند دن شور کے بعد خاموشی وطیرہ بنا لیتی ہے۔

 

ویلنٹائن ڈے پہ پچھلے صرف پانچ سال کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ اغواء۔ریپ۔جنسی تشدد اور گھر سے بھاگنے کے واقعات انہی دنوں میں ہوئے۔نئی نسل میں یہ زہر بو دیا گیا ہے کہ والدین ڈکٹیٹر ہیں اور تمہیں اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا پورا حق ہے۔ناعاقبت اندیش اور ناسمجھ لڑکیاں جو گھریلو حالات سے تنگ ہوتی ہیں،معاشرتی بے حسی اور روایتی درجہ بندی کے ماحول میں گھٹ گھٹ کے جی رہی ہوتی ہیں،اپنے لیے چند اچھے لفظوں کو ترستی اور کہنے والے کے خوشنما جال میں آجاتی ہیں۔ویلنٹائن ڈے پہ اپنی ناموس کا جنازہ نکلتے دیکھ کر بھی کئی خوش فہمیاں پالتی اور حالات کا کنٹرول ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر خاموشی سے قربان ہو جاتی ہیں۔اسی دن کی بے حیائی کئی گندی نظروں کو بھی جنم دیتی ہے اور کئی زینبیں اپنی ناموس اور بچپن کی معصومیت لٹا کر کسی کوڑے کے ڈھیر پہ پڑی ملتی ہیں ۔سوشل میڈیا پہ زینب کے حق میں بڑے بڑے لفظ لکھنے والوں کے اپنے گھروں میں اک جانب پڑی زینبیں اپنے حصے کے لفظوں کے لیے منتظر رہ جاتی ہیں اور جن کے آنکھوں کے جلتے بجھتے دیے کسی امید میں زندہ ہیں کہ شائد ہمارے لیے بھی وقت کی جھولی میں چند لمحے محبت کے خیرات گر جائیں۔اپنے اندر ویلنٹائن ڈے پہ محبت کے بول زندہ رکھنے والے ہی غیرت کے نام پہ قتل کے سب سے زیادہ مرتکب بھی ہیں۔

 

ویلنٹائن ڈے کو محبت کے نام سے منسوب کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ محبت تو دین فطرت ہے جو کائنات کے زرے زرے سے بنا تخصیص ،بنا مذہب و مسلک کے محبت کرنا سکھاتا ہے۔غیروں کی نقالی میں ہم نے اپنی روایات،اسلاف کی یاد اور ان کے کارنامے ،ان کی غیرت کے لازوال قصے اور اک لڑکی کی عزت خاطر پورے یورپ کو تگنی کا ناچ نچانے والے کارہائے نمایاں سب بھول گئے ہیں۔اک لڑکی کی فریاد پہ حجاج بن یوسف جیسا سخت گیر اور تاریخ میں ظالم مشہور گورنر بھی کانپ اٹھتا ہے۔اپنے کم سن بھتیجے کو سندھ بھیجتا اور پھر اس کی لاش پہ بیٹی کو روتے بھی دیکھتا ہے مگر اسلام کی اک بیٹی کی خاطر پورا سندھ عالم اسلام کی تلوار پہ فتح ہو جاتا ہے۔آج یہ المیہ ہے کہ اسی اسلام کے نام پہ بنے ملک میں جو کبھی لا الٰہ الا اللہ پہ کٹ مرا تھا،بیٹیوں اور بہنوں کی چھایا ہی ان کی عزتوں کے دشمن بنے پھرتے ہیں۔سوشل میڈیا پہ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی حوا کسی نہ کسی آدم کے ہاتھوں تنگ اپنی کہانی اپنی زبانی بیان کرتی پھرتی ہے۔یوٹیوب پہ سب سے زیادہ بہن ،بھائی،خالہ بھانجے اور اسی طرح کے محرم رشتوں کے حوالے سے جنسی تعلق کی کہانیاں بیان کرکے نوجوان نسل کے جزبات کا رخ بے غیرتی اور بے حیائی کی جانب موڑا جا رہا ہے۔لمحہ فکریہ ہے کہ قوم کی رگوں میں جہاں عصبیت کا زہر پھیلایا جا رہا ہے ،وہاں دوسری طرف محرم رشتوں کے درمیان بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور یہ فخر کیا جاتا ہے کہ ہم تیسری دنیا کے لوگ ہو کر بھی جدت پسند اور لبرل ازم کے حامی ہیں۔

citytv.pk
citytv.pk

افسوس کہ غیروں کی نقالی کرتے ہوئے ہم اپنی چال تک بھول گئے،وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر!سرخ پھولوں کی اجارہ داری میں ہم اصل سرخی جو کبھی کشمیر کے چنار اور کبھی فلسطین،برما اور عراق کے سبزہ زار دکھاتے ہیں،۔کبھی پاکستان کی شاہراہوں،مسجدوں کے دروازوں پہ سرخی دوڑتی اورکبھی غیرت کے نام پہ قتل کرنے والوں کی ڈیوڑھیاں دکھاتی ہیں،سب فراموش کر گئے اور یاد رہا تو اتنا کہ سرخی محبت کی علامت ہے۔کاش محبت محبت کا کھیل کھیلتے ہم لبرل دیسی لوگ کبھی اسی محبت کو پاکیزگی کے دائرے میں رکھ کر اپنے گھر محلے اور وطن سے محبت کو وقت دیں اور قائد ڈے منائیں ۔کبھی ہم اپنے وطن کی محبت میں سرخ پھول بانٹیں کہ آج ہمارے وطن کے ان شہداء کی محبت کا دن ہے جو قربانی کی لازوال داستانیں رقم کرگئے۔کبھی ان ماں باپ کے نام بھی چند لمحے کر دیں،بہن بھائیوں اور ان پیاروں کے نام بھی زندگی کے چند لمحے پھول بنا کر پیش کر دیں جن کی محبت اور شفقت رستے صاف کرنے کا سبب بنتی ہے۔ضبط کی شدت سے سرخ ہوتی آنکھوں والی کسی معصوم چند دنوں کی دلہن جوشہید کی بیوی بن کے اعزاز وصول کرتی ہے مگر اسکے ارد گرد ضبط کے پہرے رونے نہیں دیتے،ان آنکھوں کی سرخی پہ بھی چند پھول قربان ہونے چاہیں۔ویلنٹائن ڈے پہ چند لمحوں کی بے ہودہ خوشی ،بے ہنگم ناچ گانا،بے جا خرچہ اور غیر محرم رشتوں پہ وقت ضائع کرنے کے بجائے بہتر ہے اپنے پیاروں کے سنگ چند لمحے گزار کر حقیقی خوشی اپنا لیں تو شائد دنیا کے ساتھ آخرت سنورنے کا بھی کوئی حل نکل آئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.