جم خانہ کلب کے انتخابات میں کامرانی کس کی ہوگی؟ (حسب منشا) تحریر: منشا قاضی

ہمارا یہ شیوہ ہے کہ راتوں کو جلاتے ہیں چراغ اُن کی یہ سازش ہے کہ زمانے میں سیاہ رات رہے

0 106

ہر چند ہو مشاہدہئ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے ساغر و مینا کہے بغیر
انتخابات کے دنوں میں امیدواروں کے معاون اور سپوٹر حضرات تعریفوں کے پُل باندھ دیتے ہیں خواہ انہوں نے اپنے ووٹروں کے ارمانوں کا خون ہی کیوں نہ کیا ہو اس لئے زبان، قلم اور معاونت کے پیمانے سچائی اور راست بازی ہی کی بنیادوں پر اچھے لگتے ہیں۔ سقراط نے کہا تھا کہ دلیل اگر اپنی انگلی پکڑ کر مجھے جہنم لے جانا چاہے تو میں جانے کے لئے تیار ہوں کیونکہ دلیل کے سامنے ہمالہ لرزہ بر اندام ہے اس کی مضبوطی کا یہ عالم ہے کہ ہمالہ اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے مگر دلیل کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔

 

امسال جم خانہ کلب کے انتخابات میں سر گرم راہنما ہمارے سامنے جناب کامران لاشاری کی جہد مسلسل جاری و ساری ہے اور آپ کی ہی تصویر ہر طرف رقصاں ہے کیوں کہ آپ کا کام بولتا ہے۔ میں نے موصوف کا نام لاہور شہر کی تہذیبی روایات کے تاج محل پر کندہ دیکھا ہے۔ وہ خود نہیں بولتے اُن کا کام بولتا ہے۔ برادری ازم کی سنگلاخ چٹانوں کو دلیل و براہین کے کدالوں سے اس کوہ کن نے جس طرح پاش پاش کیا ہے اس کی نظیر دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ نوکر شاہی کے اس مضبوط قلعہ میں دراڑیں پڑ گئیں ہیں اور اُن کی ہوا اکھڑ گئی ہے کیونکہ پڑھی لکھی یہ نوکر شاہی جانتی ہے کہ برادری ازم ایک عصبیت ہے اور عصبیت مردار گوشت سے بھی زیادہ بدبودار ہے۔

 

اس وقت اس مردِ کامران کو اس لئے بھی ہدف تنقید بنایا جارہا ہے کہ اس نے اپنی برادری نوکر شاہی کی اس حکمت عملی سے اختلاف کیا ہے کہ جس میں چند ماہرین معاشیات و اقتصادیات نے اراکین کی سالانہ جمع شدہ چندے کی رقم کو بنکوں میں رکھ کر اس کو زیادہ کیا ہے۔ جناب کامران لاشاری نے اخراجات بے پناہ کیے ہیں اور ہم نے روپیہ بچایا اور جمع کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کامران لاشاری کا ایک اپنا طرز و اسلوب ہے کہ وہ 14 کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں۔ ممبران کی ضرورت اور سہولت پر اور وہ خرچ کئے ہوئے روپے اپنی قدر میں بڑھتے ہیں مگر جمع کی ہوئی رقم صرف رجسٹروں میں ہی رقم ہے اس کی قدر گھٹ جاتی ہے۔ ویسے بھی روپے کی قدر اسی وقت بڑھتی ہے جب اس سے کوئی چیز خریدی گئی ہو۔

 

کامران لاشاری نے جو رقم خرچ کی ہے وہ غیر منقولہ جائیدادوں کی صورت میں اپنی قدر میں دس گنا بڑھ گئی ہے مگر آپ کے خلاف منفی پراپوگنڈا کیا جاتا ہے کہ آپ نے ہر دور میں اخراجات کی منتہا کر دی ہے اور ہم نے روپیہ بچایا ہے۔ باربی کیو، کیفے اور کھیل کے میدانوں میں تفریح کے مواقع فراہم کرنا کلب کے قرطاس اعزاز پر آبِ زر سے لکھے جائیں گے۔ کامران لاشاری کا پورا پینل اپنی ذات میں ایک ادارہ اور انجمن ہے۔ اس لئے مجھے یقین کامل ہے کہ یکم فروری کا سورج کامران لاشاری کے سارے پینل کی فتح کی نوید کے ساتھ طلوع ہوگا کیونکہ
ہمارا یہ شیوہ ہے کہ راتوں کو جلاتے ہیں چراغ
اُن کی یہ سازش ہے کہ زمانے میں سیاہ رات رہے

 

سردار مراد علی خان نے بجا طور پر لکھا ہے کہ صدیوں کے تجربات کا خلاصہ مجموعی عقل انسانی کے لاکھوں دماغوں پر ہمیشہ غالب رہتا ہے اس خلاصہ یا نچوڑ کا کوئی توڑ نہیں ہے اور یہ عقل مندوں اور عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے ہی بیان کی جاتی ہیں۔ شیکسپیئر نے کہا تھا کہ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ تفصیل پر اختصار کو ترجیح دی جائے۔ وہ لوگ جن کے کیے گئے کاموں پر صرف تحسین و آفرین کے ہی ڈونگرے برسائے جائیں تو سمجھ لو کہ اس کے کام میں کہیں نہ کہیں کجی اور نقص موجود ہے۔ بہادر یار جنگ مرحوم نے کہا تھا کہ میں اپنے کسی کام پر اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتا جب تک میرے کام کے حوالے سے مخالفت کی ہوا میں چاروں طرف سے زور دار آندھی کی طرح نہ آرہی ہوں۔

 

میں اس وقت اللہ کے حضور سجدہ ریز تشکر ہوجاتا ہوں جب چاروں طرف سے اختلاف کی آندھیاں چل نکلتی ہیں بالکل اسی طرح ہمارے ملک کی نامور سماجی شخصیت بہت بڑے بیوروکریٹ ہونے کے باوجود عوامی مزاج کے مالک ہیں اور آج کل جم خانہ کلب کے انتخاب کے آخری مراحل میں مصروف ہیں وہ خود نہیں بولتے ان کا کام بولتا ہے۔ پاکستان کے بہت سارے سرکاری اداروں میں کلیدی آسامیوں پر تعینات ہے اور اذکار رفتہ تو وہ کبھی بھی نہیں ہوئے کیونکہ وہ کچھ نہ کچھ ملک و ملت کا سنوارتے ہی رہتے ہیں۔ جم خانہ کلب ایک مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنے میں جناب کامران لاشاری کا کردار جزو اعظم کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

آپ پر حرف تنقید کرنے والے دو اور دو چار کے چکر میں موصوف کی اس کاوش کو فراموش کردیتے ہیں جو آپ نے مستقل غیر منقولہ گراں قدر سرمائے کی صورت میں دوامی اور روپے کی قدر پر غالب کردی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کی حزب اختلاف نے ممبران کی سالانہ چندہ کی مد میں گراں قدر روپیہ جمع کرویا ہے جس پر سود کی صورت میں منافع بھی ظاہر ہورہا ہے مگر وہ کامران لاشاری کے منصوبہ ساز ذہن کے بطن میں جنم لینے والے اس مستقل سرمائے کا عشرِ عشیر بھی نہیں ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.