با ادب، ادیبوں کی بے ادبیاں تحریر: فوزیہ سعید(ماہر نفسیات)

ایسے رہا کرو،کریں لوگ آرزو ایسا چلن، چلو کی زمانہ مثال دے

0 241

با ادب، ادیبوں اور دانشوروں کی جب بھی کسی محفل میں جانے کا اتفاق ہوا۔ دل بے حد دکھی ہوا۔ جہاں زمانے بھر کو درس دینے والے، لوگوں کی راہنمائی کرنے والے بڑے آرام سے ایک سے دو گھنٹے لیٹ آتے ہیں۔ دوسری یہ بے ادبی یہ کے جو لوگ وقت پہ آئے ہوتے ہیں باقاعدہ ان کو اٹھا کر ان کو اگلی نشستوں میں بھٹایا جاتا ہے۔ افسوس ہوتا ہے۔ بلکہ بہت ہی افسوس ہوتا ہے۔

 

جب دنیا کو سمھجانے والے خود اس پہ عمل پیرا نہ ہوں گے تو خاک ملک ترقی کر ے گا؟ ترقی ہمیشہ ان ملکوں نے کی ہے جو وقت کی قدر کرتے ہیں۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔وقت کو برباد کرنے والے کبھی اس بات کو نہیں سمجھ سکتے۔ پاکستانی لوگوں کو وطیرہ بن چکا ہے۔ ایک گھنٹہ لیٹ کو لیٹ ہی نہیں سمجھتے۔ الٹا لیٹ آنا اپنی شان سمجھتے ہیں۔یورپ میں لوگوں کو کوئی بولے ایک منٹ لیٹ آئے وہ اسکو گالی سمجھتے ہیں۔ہزار حامیاں ہوں اس قوم میں مگر وقت کی قدر خوب جانتی ہے۔

 

میں کچھ دن قبل ایک ادبی محفل میں جانے کا اتفا ق ہوا۔ میری عادت ہے وقت اگر 4 بجے کا دیا کو تو پونے چار ہی پہنچ جاتی ہوں۔ اپنی عادت کے مطابق پونے چار اپنی ٹیم کے ہمراہ پہنچ گئے۔ 5بجے تک میزبان بھی نہیں آئے۔ سوا پانچ آئے اور پروگرام کے مہمانان خصوصی کو کال کی۔ پتہ چلا وہ عزت معاب گھر سے بھی نہیں نکلے۔اتفاق سے میں ان کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھی تھی۔ انکی گفتگو جو وہ فون پہ کر رہے تھے۔

 

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے سنائی دے رہی تھی۔ساتھیو! سن کر دل ہی ٹوٹ گیا۔ میزبان صاحب فرما رہے تھے۔ 4 بجے کا ٹائم لکھا تھا۔ مطلب 5بجے کا وقت سمجھو۔آپ 6بجے تک آ جائیں۔ ہم پروگرام شروع کر لیتے ہیں۔ آپ کی تقریر ویسے بھی آخر پہ ہے۔ برائے مہربانی آپ آ جائیں۔ صاحب انکی منتیں کر رہے تھے کی پلیز آپ آ جائیں بلے دو گھنٹے لیٹ آ جائیں۔افسوس صد افسوس۔

 

مت پوچھیں یہ سن کر میں نے کیسے برداشت کیا۔ ویسے بھی کیونکہ میں ہیلتھ کے ڈیپارٹمنت میں ہوں۔ ایک بلڈ بنک چلاتی ہوں۔ خیال آیا ایک مرتبہ ایک صحافی ہلال احمر میں بلڈ لینے آیا۔ سب جانتے ہیں کہ خون بغیر کراس میچ اور سکرینگ کے بنا نہیں دیا جاتا۔ اس پراسس میں تیس سے چالیس منٹ درکار ہوتے ہیں۔ جب لوگ ہلال احمر بلڈ لینے آتے ہیں تو کتنی جلدی میں ہوتے ہیں۔ انکا خیال ہوتا ہے۔ ایک سیکنڈ بھی نہ لگے۔ وہ صحافی صاحب کو بڑے ادب سے کہا گیا آپ تشریف رکھیں آپ کے لئے بلڈ تیا ر کیا جا رہا ہے۔وہ تو جناب آگ بگولہ ہو گئے۔

 

بولے اس کا انچارج کون ہے۔ میں آپ سب کی شکائت کروں گا۔ آپ کا بلڈ بنک بندکرا دوں گا۔ میں صحافی ہوں۔ اس کے علاوہ بھی سٹاف کو خوب کوسا۔ ہم سہنے کے عادی ہیں۔ ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناطے برداشت ہمارا پہلا اصول ہے۔کیونکہ لوگ جب ہمارے پاس آتے ہیں تو پریشانی کی حالت میں ہوتے ہیں۔اب کوئی ان صحافی صاحب سے پوچھے کہ اپنی محفلوں میں لوگوں کا کتنا وقت برباد کرتے ہیں۔میرے جیسے کئی لوگ دوبارہ انکی ایسی تقریبات میں جانے سے توبہ کر لیتے ہیں۔لیکن میں ایک درجن سے زیادہ اس طرح کے پروگرام ہمیشہ یہ سوچ کے اٹینڈ کئے کہ شائد یہ لوگ ان سے بہتر ہوں۔ مگر ہر بار ما ؤسی ہوئی۔

 

تبدیلی کسی وزیر اعظم کے لانے سے نہیں آتی۔ تبدیلی ہمارے رویئے سے آتی ہے۔جب تک ہم خود کو نہیں بد لیں گے۔ تبدیلی نہیں آئیگی۔ جس قوم کے صحافی اور دانشور صرف بولنے اور لکھنے کی بجائے عملی ثبوت نہیں دیں گے۔ اس قوم میں انقلاب تو دور کی بات ہے۔ کوئے مثبت تبدیلی نہیں آ سکتی۔کسی کو اگر میری بات سے اتفاق نہ ہو تو برائے مہربانی کسی ادبی مخفل کو یا کسی کتاب کی رونمائی کی تقریب کو ایک بار ضرور اٹینڈ کرنا۔ثبوت مل جائے گا۔

 

تیسری بڑی بے ادبی۔مہمان خصوصی ایک تو دیر سے آئے آ کر بولے میں بہت مصروف آدمی ہوں کسی اور جگہ بھی جانا ہے۔ مجھے پہلے ڈائس پہ بلا لیں جناب اگر آپ اتنے مصروف تھے تو ان کو آج کا ٹائم کیوں دیا۔اگر ان سے وعدہ تھا تو کسی دوسرے سے معذرت کر لیتے۔تاکہ آپ کی توجہ کسی ایک موضوع پر رہتی مگر ہم تھوڑے سے مشہور ہو جائیں تو نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔احساس برتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اب ایسی صورت حال میں میزبان بھی حکم مانتے ہوئے۔ انکو دعوت خطاب دیتا ہے۔ لو جناب اب ایک گھنٹہ اور چاہیے انکی تقریر سننے کے لئے۔کہاں خود ہی کہہ رہے تھے وقت کم ہے ہم کو جانا ہے اور اب لگاتار ایک گھنٹے سے تقریر کر رہے ہیں۔ لوگ اور میزبان مجبورا سن رہے ہیں۔سب کی باڈی لیگویج سے صاف ظاہر ہو رہا ہے۔کہ لوگ بور ہو رہے ہیں،بلکہ کچھ لوگ تو سو رہے ہوتے ہیں۔

 

مگر المیہ کی بات یہ ہے اگر ہم کو بولنا آ جائے تو ہم کسی اور کی سنتے ہی نہیں۔ اپنی تقریر کے بعد جناب رخصت ہو گئے۔ اب جو عوام کے دل میں کوئی سوال پیدا ہوا اسکا جواب کون دے گا؟المیہ یہی ہے۔ہم آئے تو یہی سوچ کر تھے آج دانشوروں کی تقریب میں کو ئی علم میں اضافہ ہو گا۔ ادھر تو پچاس فیصد لوگ بس چائے پینے آئے تھے۔ یہ جان کر اور بھی افسوس ہوتا ہے۔ جو کام ایک گھنٹہ میں ہو جاتا ہے اس پہ ان لوگوں نے۔ پانچ گھنٹے لگا دئے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ کوئی اور ملک ان چار گھنٹوں میں کہاں سے کہاں نکل جاتے ہیں۔ ہم بس چند بسکٹ اور چائے کے کپ کے لئے انتظار میں ہیں۔

 

چوتھی بے ادبی۔ خدا خدا کر کے اگر چائے لگ گئی ہے تو کبھی آپ ملاخظہ فرمائیں۔ ہم جو ابھی تھوڑی دیر بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے۔ کھانے پینے کی ذرا بھی تہذیب نہیں ہے۔ نہ کسی کا قسمت پہ اعتبار ہے۔ نہ اپنی باری کا انتظار۔ وہی چھینا جھپٹی۔ کہ بس میں لے لوں۔ سب کچھ باقی کسی کو ملے یہ ملے۔اگر قسمت پہ اعتبار ہو تو دانے دانے پہ کھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے۔ جو ہمارے نصیب میں ہے اس کو کوئی نہیں کھا سکتا۔ مگر صبر کی کمی ہے ہم سب میں ہے۔ محفل میں بیکری کے بسکٹ اور چائے تھی۔ مگر ایسے لگ رہا تھا۔ کوئی نئی اور انوکھی ڈش ہے۔ جس کے لئے سب مرے جاتے ہیں۔ کئی لوگوں نے تو چھینا جھپٹی میں کپ گرا دئے۔ ابھی چند لمحے پہلے یہ سب بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے۔

 

پانچویں بڑی بے ادبی یہ تھی۔ مرد عورتوں کو فضول مزاق کر کر کے انکی شان میں شعر سنا سنا کے اپنی تسکین کر رہے تھے۔عورتیں بھی طرح طرح کی ہوتی ہیں کوئی کو شعر کا جواب شعر میں دے رہی تھی۔ کوئی سیلفی بنا رہی تھی۔کوئی خفا ہو رہی تھی۔جو جتنی بڑی عمر تھا وہ اتنا ہی زیادہ رومانس جھاڑ رہا تھا۔ عورت اگر اپنی عزت خود نہ کرے تو یہ مرد کبھی اس کی عزت نہیں کرتا۔ مرد ویسے بھی عورت کی نہیں۔ چند رشتوں کی قدرکرتا ہے۔ جو ماں۔ بہن۔بیوی۔بیٹی۔پر مشتمل ہیں۔ انکے علاوہ ہر عورت بڑی ہے یا چھوٹی۔ اسکو کم ہی پاک نظر سے دیکھتا یا اسکی عزت کرتا ہے۔کوئی 5%مرد ہوں گے جو عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔50سال سے بڑے بابے تو اپنی عمر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے باقاعدہ عورت کو چھولیتے ہیں۔

 

 

منہ سے بیٹی بیٹی کہتے ہیں۔ اور آنکھیں کچھ اور ہی پیغام دے رہی ہوتی ہیں۔بیٹی کہتے کہتے میں نے کئی بزرگوں کو لڑکیوں کو گلے لگاتے دیکھا ہے۔ سوال یہ ہے۔ ان میں کتنے ہیں جو اپنی اصلی بیٹی کو گلے لگاتے ہیں؟ یا بیٹی کے لباس کی تعریف کرتے ہیں۔یا بیٹی کے خسن کے قصیدے کہتے ہیں۔ قصور وار کسی حد تک خواتین بھی ہیں۔ جو آگے سے خوش ہو رہی ہوتی ہیں۔ جھوٹی تعریف ان کو اچھی لگتی ہے۔گزشتہ سال ہم ایک ادیبوں کی کانفرس میں تھے۔ میری ٹیم میرے ساتھ تھی۔ ہم آپس میں 6دوست مل کر گئی۔ جب بھی اپنی تصویر بنانے کے لئے گروپ بناتی ایک ستر سالہ بزرگ سفید بال،سفید دھاڑی والے لڑکوں کی طرح کود کے گروپ کے بیچ میں آکے کھڑے ہو جاتے۔کئی بار انہوں نے ہماری تصویر خراب کی۔اور اپنے بزرگ ہونے کا بھر پور فائدہ اٹھا رہے تھے۔

 

بہت برداشت کیا۔ اور سوچا آئندہ اس طرح کی محفل میں کبھی نہیں آئیں گے۔جاتے جاتے لڑکیوں کو کہتے ہیں۔ اپنا نمبر دیتی جائیں۔ میری رضاکارون کی ٹیم کی لڑکیوں نے بولا ہماری میڈم ہمارے ساتھ ہیں۔ ان کا نمبر لے لیں۔ جب کوئی کام ہو آپ انکو بتا دیں۔ پیاری بہنو! میں اپنا نمبر دینا نہیں چاہتی تھی۔ مگر ایک سوشل ورکر ہوں سوچا کسی کو بلڈ کی ضرورت پڑھ سکتی ہے۔ یہ سوچ کر دے دیتی ہوں۔اب آپ خیران ہوں گی۔ ان بزرگ صاحب جو میرے باپ کی عمر کے تھے۔ انہوں نے دیر نہیں لگائی رات کو ہی ایک میسج کیا۔ جب میں دل کھول کہ رکھ دیا۔ لکھتے ہیں۔

 

آج تک آپ جیسی لڑکی کبھی دیکھی نہیں۔ گو کہ آپ نے ملنے میں دیر کر دی۔ مگر ہم تو پہلی نظر کی محبت کے قائل ہو گئے۔ دل ہار بیٹھے ہیں۔ آپ سے محبت ہو گئی ہے۔ آپ ہی بتائیں ہماری کیا خطا ہے۔اف میرے خدا! بے حد افسوس ہوا۔ انکا یہ میسج کسی کے گھر میں آگ لگا سکتا ہے۔ کسی کے باپ،بھائی،شوہرکی نظر سے گزرے تو اچھی خاسی غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔مگر ہم محبت کا مطب ہی کب سمجھتے ہیں۔خیر میں نے تو انکو کوئی جواب نہیں دیا۔ بس نمبر بلاک کر دیا۔ مگر ایسے میسج جوان نسل کا دماغ خراب کر سکتے ہیں۔ کسی کا اخلاق خراب کرنا بھی اتنا بڑا جرم ہے۔ جتنا کسی کا قتل کرنا۔

 

میں نے دیکھا ہے یورپ میں لوگ کسی کی مرضی کے بغیر کبھی اس کے ساتھ والی سیٹ پر بھی نہیں بیٹھتے۔ایسے میسج کرنے پر کیس بن جاتا ہے۔اس مضمون کے لکھنے کا مقصد کسی کی انسلٹ کرنا نہیں۔ بلکہ ایک پیغام ہے۔اگر کوئی سمجھے تو! کبھی کبھی ہم کو اپنا احتسا ب خود کرنا چاہیے۔ تاکی ہم اپنی اصلاح کر سکیں۔ جب تک ہم اپنی اصلاح خود نہیں کریں گے۔کوئی ہم کو مہذب نہیں بنا سکتا۔ حاص طور پر دانشوروں اور ادیبوں کو اس طرح کی بے ادبیا ں زیب نہیں دیتی۔

ایسے رہا کرو،کریں لوگ آرزو
ایسا چلن، چلو کی زمانہ مثال دے

رائٹر: فوزیہ سعید(ماہر نفسیات) ہلال احمر۔پنجاب برانچ۔ لاہور۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.