ایک باپ کی درد بھری کہانی ( میرا خواب) تحریر : فیضی جٹ

ماں جنّت اور باپ جنّت کا دروازہ ہے اور تم لوگ اپنی جنّت کو ہی برباد کر رہے ہو

0 174

حال ہی کی بات ہے کہ سردی کی وجہ سے لوگوں نے گھروں سے باہر نکلنا کم کر دیا تھا اور اوپر سے مسلسل بارشوں کی وجہ سے سڑکوں پر پانی کھڑا تھا۔۔میں بھی آج کافی دن بعد ضروری کام سے باہر نکلی شام کا وقت تھا تو تھوڑا آگے جانے پر مجھے کسی کے رونے کی آواز سنائی دی ۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ مجھے اسے دیکھنا چاہیے میں جلدی سے آگے بڑھتے ہوۓ اس کی جانب جب دیکھا تو میں اپنی حالت بیان نہیں کر سکتی کہ اسے دیکھ کہ میرا دل کتنا دکھا ؟؟۔۔

میں نے دیکھا کہ ستر سال کا بوڑھا انسان جس سے سہی طرح بات تک نہیں ہو رہی تھی اور ہاتھ میں ایک سٹک پکڑے ساتھ ایک بستر پاس رکھے سڑک کے دوسری طرف بنچ پر بیٹھا ہوا تھا کپڑے اتنے گندے کہ پاس سے گزرنے والا بھی بدبو برداشت نہ کرتا ۔۔۔ میں نے پاس جا کر اس بابا جی سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور اتنی سردی میں اور شام کے اس وقت ادھر کیوں بیٹھے ہیں ؟؟؟ وہ رونے لگ گۓ اور کہنے لگے : بیٹا میری بیٹی اور اس کا شوہر مجھے چھوڑ کر گئے ہیں کب سے انتظار کر رہا ہوں ابھی تک آئے نہیں مجھے کہہ رہے تھے ہمیں کام ہے کر کے آتے ہیں آپ ادھر رکو ۔۔۔ 

تین گھنٹے گزر گئے ابھی تک واپس نہیں آئے میں اور کہاں جاتا۔۔ میرے مزید پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ تین بیٹے ہیں اور پانچ بیٹیاں مگر نہ بیٹوں کے گھر جگہ ہے میرے لئے اور نہ بیٹیوں کے گھر ۔۔۔ جب میں کماتا تھا بیٹیاں بھی ملتی تھیں ۔۔اور بیٹے بھی ابا جی بولتے تھے مگر جب سے میں بیمار ہو گیا ہوں عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے مجھ سے اب کام نہیں ہوتا تو اب مجھے ابا جی کی جگہ بوڑھا بولا جاتا ہے اور یہ سب سن کر میرا دل درد سے پھٹ چکا تھا کہ بیٹے تو چلو ایسے ہوتے ہیں مگر بیٹیاں تو باپ کو سنبھال سکتی تھیں لعنت ہے ایسی اولاد پر جسے اپنے باپ کا درد بھرا دل اور آنکھوں میں آنسوں نظر نہیں آتے ۔۔۔ یہ کوئی کہانی نہیں ہے یہ حقیقت بات ہے ۔۔ میں نے ان کو حوصلہ دیا اور اپنے گھر لے آئی ان کو صاف کپڑے پہنائے اور کھانا کھلایا ۔۔

مگر وہ پھر بھی آنکھوں سے آنسوں بہا رہے تھے۔ جیسے وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو چکے تھے اپنے خون نے ہی ان کو پرایا کر دیا تھا اور میں بھی گھریلو مسلوں کی وجہ سے زیادہ دن نہیں رکھ سکتی تھی ۔۔اس لئے میں نے ایک عورت جو مختلف گھروں کا کام کرتی تھی اسے پیسے دیے اور بابا جی کو اس کے گھر رکھوا دیا ۔۔۔میں ہر ہفتے بعد ان کا جب پتہ کرنے جاتی ہوں تو مجھے دیکھ کے ایک ہی لفظ بولتے ہیں: اولاد وہ نہیں ہوتی جسے ہم پیدا کرتے ہیں اولاد وہی ہوتی ہے جو آپ کو سنبھالتی ہے میں مسکرا کر آ جاتی ہوں مگر مجھے بہت دکھ ہوتا ہے ایسے افراد کو دیکھ کر ۔۔۔

خدارا کچھ تو خیال کیجئے اپنے ماں باپ کو ایسے دکھ مت دیں والدین دس بچوں کو گھرمیں رکھ کر پالتے ہیں مگر دس بچے ایک والدین کو نہیں سنبھال سکتے ۔۔۔ اللّه تعالیٰ نے بھی قرآن پاک میں بار بار فرمایا ہے :اپنے والدین کی قدر کرو کل کو تم نے بھی والدین بننا ہے ۔۔ ماں جنّت اور باپ جنّت کا دروازہ ہے اور تم لوگ اپنی جنّت کو ہی برباد کر رہے ہو ۔۔۔ اس موضوع پر الفاظ بہت ہیں اور واقعات بھی مگر مختصر بیان کیا ہے ۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.