رائیونڈ تبلیغی مرکز کورونا اورکرفیو کی زد میں تحریر: ظفر اقبال ظفر

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات کے پیش نظر لاک ڈاؤن پر عمل ہونا شروع ہو گیا

0 271

میں رائیونڈ مرکز کا رہائشی اورگیٹ کے ساتھ ایک مارکیٹ میں کاروبار کے حوالے سے بھی وابستہ ہوں اور پہلے دن سے حالات و اقعات سے باخبر ہوں یہ لاک ڈاؤن سے چند دن پہلے کی بات ہے 9مارچ2020سے یہ مرکز اور پنڈال گاہ کثیر تعداد کے رش میں مبتلا ہوتا جارہا تھا کیونکہ پرانے تبلیغی مندوبین سالانہ جوڑ یعنی اجتماع میں شرکت کرنے کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے کثیر تعداد میں آ رہے تھے یہ ہزاروں سے زائد تعداد میں پہنچ چکا تھے اور ابھی مزید دعا تک لوگوں نے پہنچتے رہنا تھا مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ موسم شدید خراب ہو گیا تیز آندھی کے ساتھ مسلسل بارش نے پورے شہر کو لپیٹ میں لے لیا تھا اوراندیشہ ہونے لگا کہ موسم مزید خراب رہے گا

 

لہذا یہ سالانہ اجتماع اپنے مقرروقت سے دو دن پہلے مغرب کی نماز کے بعد دُعا کروا کے ختم کردیا گیارائیونڈ پنڈال لاکھوں افراد کے ٹھہرنے کا مقام ضرور ہے مگریہ میدانی جگہ کھیتوں کی شکل میں ہے جہاں پانی کھڑا ہو جاتا ہے اس لیے دعا کے بعد مرکز کے بزرگوں کی جانب سے لوگوں کو لوٹ جانے کی ہدایت جاری کی گئی تھی زاتی گاڑیوں اور بکنگ گاڑیوں نے واپسی کا رُخ کیا پندرہ مارچ کو ریلوئے بکنگ تھی لہذا جماعتیں واپسی کی ترتیب پر چل رہی تھیں کہ اچانک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات کے پیش نظر لاک ڈاؤن پر عمل ہونا شروع ہو گیا پہلے دو دن مرکز سے عوام اندر باہرآتی جاتی رہی مگر پھر اچانک پولیس تعینات کر دی گئی حکومتی گزارشات کے بعدرائیونڈ مرکز کے بزرگوں نے مکمل تعاؤن کیاجس کا مقصد تھا کہ اگر کوئی اس وائرس میں مبتلا بھی ہے تو اسے حکومتی خدمات کے پیش نظر علاج کے زریعے جانی نقصان سے بچایا جائے اور اس کی وجہ سے آگے کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس پر غور اور سمجھوتہ کیا گیا جس کے بعد رائیونڈ مرکز میں پولیس رینجر آرمی ڈاکٹرز نے اپنا کام شروع کیا

 

بیس کے قریب کوسٹر گاڑیاں منگوائی گئیں جن کو رائیونڈ ریلوئے اسٹیشن کی پارکنگ میں کھڑا کیا گیاجہاں سے ضروری ریکارڑ بنانے کے بعد انہیں مرکز کے اندر داخل کروایا گیا جہاں سے متاثرین کو نکال کر طبی سہلولیات کے مراکز میں پہنچایا گیاجس میں 27افراد کے مبتلا ہونے کی خبریں میڈیا نے چلائی بھی تھیں مزید چیک اپ جاری ہے آج اعلیٰ سرکاری افسران نے رائیونڈ تبلیغی مرکز کے سارے گیٹ خاردار تاریں لگوا کر سیل کر دئیے تھے جو لوگ اندر ہیں وہ تو ایک تحقیقی عمل میں آ گئے مگر چند لوگ جو باہر رہ گئے تھے اور خوف کی وجہ سے مرکز کے اندر داخل نہ ہو سکے وہ مقامی آبادی ریلوئے اسٹیشن لوکل ٹرانسپورٹ کے مقامات پر اپنے گھروں کو لوٹنے کے جتن میں دیکھے گئے تھے جن کے لیے مرکز سے باہرکوئی ہیلپ سنٹر قائم نہیں گیا۔رائیونڈ میں ابھی تک کورونا وائرس میں کوئی مقامی شخص مبتلا نہیں پایا گیا اب تبلیغی مرکز یا تبلیغی جماعت کے لوگوں کو سخت چیک کیوں کیا گیا

 

اس میں ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ان کا سفری طریقہ کار شہر ضلع صوبہ ملک بیرون ملک آنا جانا گشت کرنا ہے۔کورونا وا ئرس متاثر فرد سے دوسرے فرد تک پھیلتا ہے جہاں یہ وائرس نہیں ہے وہاں کے لوگوں کو آپس میں کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔تبلیغی جماعت کے کام میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اس کام کی دعوت دینے کی ترغیب دی جاتی ہے اور لاکھوں افراد اس عمل کو درجنوں سال پہلے سے کر رہے ہیں۔اب ہر فرد تو اس میں مبتلا نہیں ہے مگر کوئی اس میں مبتلا ہوگیا ہواور وہ آگے لوگوں سے ملا تووہ اپنے اور دوسروں کے لیے وائرس کے پھیلاؤ اور نقصان کا سبب بن سکتا ہے اس لیے حکومت جو بھی عمل کر رہی ہے وہ تبلیغی اور غیر تبلیغی مسلمانوں کے بھلے میں ہی ہو رہا ہے۔اب آتے ہیں ان پر تنقید کرنے والوں کی طرف تو اس وائرس کی روک تھام کے حوالے سے تنقید اور الزامات بے معنی ہیں متاثر بندے کے لیے ہمدردی علاج اور اس وائرس کی روک تھام ضروری ہے جس کے لیے فرقہ واریت کو ہوا نہ دی جائے اور اصل دشمن وائرس پر دھیان دیا جائے ملکی اداروں کے ساتھ مکمل تعاؤن کیا جائے کوئی مشکوک عمل نہ کیا جائے اس وائرس میں کوئی بھی مبتلا ہو سکتا ہے

 

مسلمانیت پاکستانیت اور انسانیت کے طور پر حسن سلوک کیا جائے تبلیغ نبیوں کا کام ہے اور موجودہ دور میں اسے کرنے والے نبی نہیں بلکہ گنہگار مسلمان ہیں ان میں کمی کوتاہی ہو سکتی ہے مگر اس وجہ سے تبلیغ کو بدنام نہ کیا جائے طریقے سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر کام سے کسی اسلامی فرقے کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ہمارے پاس آپس میں لڑنے کی گنجائش نہیں ہے جبکہ دنیا وائرس سے لڑنے میں لگی ہوئی ہے ہمارا فوکس بھی انسانیت کے لیے خطرہ بننے والے وائرس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔اور اس میں ہمیں اس طرح مل کر کام کرنا چاہئے جیسے تبلیغی مراکز کے بزرگ اور حکومت مل کر کام کر رہے ہیں اس مصیبت کی گھڑی میں ہماری عوام پر الزام لگا کر تقسیم کرنے والوں کی ہار ہو گئی اور اپنی جان پر کھیل کر انسانیت کو بچانے والوں کو ہیرو قرار دیا جائے گااللہ کو کردار ادا کرنے والے پسند ہیں کوشش کریں کہ ہم کوئی انسانیت سے دعائیں لینا والا کام کر جائیں یہی سب سے عظیم عمل ہے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.