خلائی مخلوق سے انسان کا رابطہ ہو گیا

خلا سے آنے والے پراسرار سگنلز نے گتھی سلجھا دی

0 10

امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دور خلا سے آنے والے ایسے ریڈیو سگنل دریافت کرلیے ہیں جو کسی ذہین خلائی مخلوق کی جانب سے ہوسکتے ہیں۔

 

سادہ الفاظ میں اس دعوے کا مطلب یہ ہے کہ ترقی یافتہ خلائی مخلوق نے انسان سے رابطے کےلیے ریڈیو سگنل بھیجے ہیں۔یہ اہم اور غیرمعمولی اعلان سورج جیسے 31 ستاروں کی سمت سے آنے والے کروڑوں ریڈیو سگنلوں کو کھنگالنے، اور ان میں سے ”غیر قدرتی“ (non-natural) محسوس ہونے والے سگنلوں کا مزید تفصیلی اور محتاط تجزیہ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔

 

اگرچہ یہ تمام ستارے ہمارے سورج جیسے ہیں مگر ہم سے ان کا فاصلہ 327 نوری سال سے لے کر 10407 نوری سال تک ہے۔

 

تاہم یہ واضح رہے کہ ہم کائنات میں اب تک زمین کے علاوہ کسی بھی دوسری جگہ ”زندگی“ دریافت نہیں کرسکے ہیں لیکن سائنسی بنیادوں پر ماہرین کا مفروضہ ہے کہ صرف ہماری اپنی کہکشاں ”ملکی وے“ میں زمین جیسے لاکھوں سیاروں پر زندگی موجود ہوسکتی ہے۔

 

حال ہی میں لگائے گئے محتاط ترین اندازوں کے مطابق، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہماری کہکشاں میں کم از کم 36 سیاروں پر ہم انسانوں جیسی ”ذہین اور ترقی یافتہ مخلوقات“ موجود ہوسکتی ہیں جنہوں نے اتنی ترقی کرلی ہوگی کہ وہ ریڈیائی اشاروں (ریڈیو سگنلز) کے ذریعے رابطوں کے قابل ہوچکی ہوں گی۔

 

ماہرین نے 2018 اور 2019 میں اس دوربین کے ذریعے خلا سے آنے والے کھربوں ریڈیو سگنلز ریکارڈ کیے اور مختلف جدید تکنیکیں اختیار کرتے ہوئے ان کا جائزہ لیا تاکہ ان میں سے قدرتی اور ممکنہ طور پر غیر قدرتی سگنل الگ کیے جاسکیں۔

 

اس دوران سورج جیسے 31 ستاروں کی طرف سے آنے والے 26,631,913 ریڈیو اشاروں (سگنلز) کو ”امیدواروں“ کے طور پر نشان زد کرتے ہوئے مزید تجزیئے کے لیے الگ کرلیا گیا۔

 

مزید تفصیلی اور محتاط تجزیہ مکمل ہونے پر ان میں سے بھی 4539 ریڈیو سگنل ایسے معلوم ہوئے جو ”ٹیکنو سگنیچرز“ کی شرائط پر پورے اترتے تھے۔ مزید ایک سال تک جاری رہنے والی نظرِ ثانی پر ان میں سے 99.73 فیصد سگنلز کو ”درست طور پر شناخت کیے گئے

 

ٹیکنو سگنیچرز“ قرار دیا گیایہ بلاشبہ اپنی نوعیت کا بہت غیرمعمولی اعلان ہے اور بجا طور پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ”خلائی مخلوق موجود ہے یا نہیں؟“ کے پرانے موضوع پر نئی اور گرما گرم بحث شروع ہوجائے گی۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.