مہرو (کہانی ) امجد جاوید قسط نمبر 2

Mehro (Story) Amjad Javed Episode No. 2

0 12

وہ انہی خیالوں میں تھی کہ اسے سامنے سے ایک بزرگ سا بندہ آتا ہوا دکھائی دیا۔ اس نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ سفید لمبی ریش، بھاری سفید مونچھیں، لمبے بال جو اس کے شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ سر پہ سیاہ پگڑی باندھی ہوئی تھی، ہاتھ میں عصا تھا۔ وہ قریب آ کر بولا
” مہرو دھی۔! اب تو پتر، گھر چلی جا، یا پھرمیرے حجرے میں جا کر بیٹھ جا، وہاں بھی نہیں تو جنید کے اس گھر میں چلی جا ، جہاں اس نے تجھے لے کر جانا تھا۔“ اس کی آواز بڑی بھاری اور گونج دار تھی۔ مہرو نے ایک نگاہ اسے دیکھا اور بولی

 

” بابا سائیں۔! کیا میں اب جنید کا انتظار چھوڑ دوں؟“
” میں نے کب کہا ہے کہ تو اس کا انتظار چھوڑ دے۔ میں نے تو یہاں سے اٹھ جانے کا کہا ہے، پتہ ہے اب دشمن اب اور طرح سے وار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ میری دھی میری بات مان لے۔ مجھے اب شہر بھی تو جانا ہے نا جنید کے پاس۔۔یہاںاب تیرا کون خیال رکھے گا۔ تو اس طرح ویرانے میں نہ بیٹھ۔ جا میری دھی تو جا گھر….میں آ کر سب دیکھ لوں گا…. “ بابا سائیں نے پیار سے کہا تو مہرو چند لمحے بیٹھی رہی پھر اٹھ گئی۔وہاں موجود ہر چہرے پر خوشی کا تاثر پھیل گیا۔
” بابا سائیں تو جنید کے پاس جا رہا ہے نا؟“ مہرو نے حسرت سے پوچھا ۔ بابا سائیں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا،

 

 

” میں شہر جا رہا ہوں، جنید کے پاس ، تو کسی قسم کا فکر نہ کرنا۔ جا میرا پتر جا ۔“ بابا سائیں نے کہا اور واپس پلٹنے لگا تو فروا نے جلدی سے کہا

 

”بابا جی ۔! اگر آپ کی بات یہ اتنی ہی مانتی تھی تو آپ نے اسے کل ہی یہاں سے کیوں نہیں اٹھا دیا۔“

 

بابا سائیں اس کی بات سن کے رک گیا، پھر اس کی طرف دیکھے بغیر بولا
” تو نہیں سمجھے گی، اور نہ ہی ابھی تمہیں سمجھانے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھنا سمجھانا پھر سہی، اس وقت مجھے جلدی ہے۔“ انہوں نے کہا اور پر سکون انداز میں چلتے چلے گئے۔فروا اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی ۔ مہرو اٹھ چکی تھی۔ فروا آگے بڑھی اور اپنی کار میں بیٹھ گئی۔ تب تک پھوپھی مہرو کو اپنی کار میں بیٹھا چکی تھی ۔ دوسری عورتیں پیدل ہی بستی کی جانب چل دی تھی۔

 

ان کا سفر ایک بڑے سارے گھر کے سامنے ختم ہوا۔ وہ گھر بستی سے ذرا ہٹ کر تھا۔ جس کے ساتھ ایک وسیع باڑہ تھا۔ ابھی بھی کچھ گائے، اونٹ اور بھیڑ بکریاں وہاں موجود تھیں۔ ڈیوڑھی پار کرنے کے بعد بڑا سارا صحن تھا، اس کے آگے لمبے دالان اور پھر کمرے۔ دو کمرے اوپر بنے ہوئے تھے۔ وہ ایک کمرے میں چلی گئی، جو مہرو کا تھا۔

 

” مہرو۔! تم نے اچھا کیا کہ بات مان کر گھر آگئی ہو۔ “ فروا نے کہاتو وہ بولی
” کیسے بات نہ مانتی ، میں بابا سائیں کی بات ٹال ہی نہیں سکتی تھی۔“ یہ کہہ کر وہ چند لمحے خاموش رہی پھر بولی،” ویسے تُو نے جنید پر نہیں مجھ پر احسان کیا ہے۔“

 

 

” تم جنید کو اتنا چاہتی ہو، کیا تم جانتی ہو وہ کون ہے ، کہاں سے آیا ہے، اور تجھے کہاں لے جاتا؟“ فروا نے پوچھا،انسانی ہمدردی سے ہٹ کر اسے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری بھی تو نبھانا تھی۔
”شاید میں اسے صدیوں سے جانتی ہوں۔ اور ۔۔“ اس نے کہنا چاہا تو فروا نے اسے ٹوک دیا
” میں جذباتی باتیں نہیں سننا نہیں چاہتی، وہ جو حقیقت ہے۔ مجھے وہ بتاﺅ۔“

 

” میں نہیں جانتی لیکن وہ مجھے بہت اپنا سا لگتا ہے، اتنا کہ میں خود کو اس سے جدا تصور بھی کر سکتی ہوں۔“

 

” اچھا مجھے شروع سے بتا سکتی ہو کہ یہ سب کیسے ہوا ؟“
” ہاں۔! بتاتی ہوں۔“ یہ کہہ کر اس نے پانی کا وہ گلاس اٹھایا جو نوکرانی رکھ گئی تھی۔ وہ پانی پی چکی تو خیالوں میں کھو گئی۔

٭….٭….٭

مہرو اپنے باپ کی اکلوتی تھی۔ صرف ایک بھائی فرید تھا، جو تعلیم کے لئے لندن گیا ہوا تھا۔مہر خدا بخش،کا آبائی پیشہ گلہ بانی ہی تھا۔ وہ کئی نسلوں سے چولستان میں آباد تھے۔ روہی کا صحرا اُن کا مسکن تھا۔مہر خدا بخش پر رَبّ کی بڑی رحمت تھی۔ سینکڑوں چھوٹے بڑے جانور اس کے گلہ میں شامل تھے۔ کئی نوکر تھے جو انہیں سارا دن چرانے کے بعد واپس لے آتے تھے۔

 

 

دھن دولت کی فروانی نے اس علاقے میں زمین بھی خریدلی، چارا کے علاوہ اناج اگتا اور دودھ کی وجہ سے وہ خوشحال ہی نہیں پورے صحرا چولستان میں مشہور کر دیا تھا۔ اس نے کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا تھا، لیکن اس کے بغیر اس علاقے کی سیاست مکمل نہیں ہوتی تھی۔

 

اٹھنا بیٹھنا اس علاقے کے بڑے لوگوں میں تھا۔ سو اسے اولاد کو پڑھانے لکھانے کا شعور آگیا۔پہلے پہل کار صرف انہی کے لئے خریدی گئی۔ سکول اور پھر کالج کے بعد اس کا بیٹا فرید تو لندن چلا گیا اور مہرو صرف قریب کے ایک سرکاری سکول تک پڑھ سکی۔ بستی نور دین سے شہر کا فاصلہ یہی کو ئی بارہ کلومیٹر بنتا تھا۔

 

 

مہرو گھر میں رہتی جبکہ فرید شہزادوں کی طرح روزانہ کار میں جاتا اور واپس آ جاتا ۔ وقت یونہی چلتا چلا گیا۔

 

 

مہرو کو گھر کے چھوٹے چھوٹے کام ہی کرنا پڑتے تھی، ورنہ نوکرانیاں تھیں۔ اسے فراغت ہی فراغت تھی ۔ وہ ٹی وی دیکھ لیتی یا پھر ناول اور افسانے ہی پڑھتی رہتی تھی۔ مہر خدا بخش کسی بڑے گھر میں اس کی شادی کرنے کی فکر میں تھا۔ کئی رشتے تھے،مگر وہ کسی ایک کو ہاں اس لئے نہیں کر رہا تھا کہ اسے اپنے بیٹے فرید کا انتظار تھا ۔ اس کے واپس آنے میں چند ماہ رہ گئے تھے۔

 

 

یہ فیصلہ اس نے اپنے بیٹے کی آمد تک ٹال رکھا تھا۔ انہی دنوں ایک جمعرات مہرو قریبی دربار نور دین شاہ پر گئی۔ جمعرات ہو اور وہ بستی میں ہو، وہ دربار پر ضرور جاتی تھی، یہ اس کا بچپن سے معمول تھا۔

 

شام ہونے کو تھی، جب وہ اپنی نوکرانی کے ساتھ دربارپہنچی۔ ہوا بند ہونے کی وجہ سے کافی حد تک گھٹن ہو رہی تھی۔ وہ دربار کے سرہانے کی طرف کھڑی تھی۔ اس کے سامنے پتھر کی جالی تھی، جس میں سے اندر مرقد کا سارا منظر صاف دکھائی دیتا تھا۔

 

 

عورتیں اسی طرف جا کر دعا اور مَنّت مانگتی تھیں۔جالی پر بے شمار رنگین دھاگے بندھے ہوئے تھے۔ وہ اکژاُن بندھے دھاگوں کو دیکھتی۔ اُسے لگتا کہ یہ رنگین دھاگے نہیں بلکہ خواہشیں لٹک رہی ہیں۔ رنگین دھاگوں میں بندھیں ہوئی خواہشیں۔ اس شام وہ دعا مانگ چکی تو اس کی نگاہ ایک نوجوان پر پڑی، تب وہ خود پتھر ہو گئی۔ اسے اپنا آپ یاد ہی نہیں رہا۔

 

 

سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس وہ نوجوان مرقد کے سرھانے دیّا جلا رہا تھا۔ سرخ و سپید چہرے پر ہلکی ہلکی کالی سیاہ داڑھی اور مونچھیں، چوڑی پیشانی، لمبا ناک ، پتلے پتلے ہونٹ، بڑی بڑی مخمور سی گہری بھوری آنکھیں، لمبی زلفیں، سرپر سفید ٹوپی بہت سج رہی تھی۔ وہ کھڑا ہوا تو لمبے قد پر چوڑا سینہ۔ وہ پہلی ہی نگاہ میں اس پر مر مٹی۔ شاید اس کے لاشعور میں ایسا کوئی آئیڈیل تھا یا کیا تھا، اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا تھا۔ سامنے کھڑا نوجوان ہر طرف سے بے نیاز دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھا۔ اسے خبر ہی نہیں تھی

 

 

 

کہ کوئی اس پر پوری جان سے مر مٹی ہے۔ وہ اسے مسلسل دیکھے چلی جارہی تھی۔ یہاں تک کہ وہ نوجوان وہاں سے چلا گیا۔ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو ا تو اسے احساس ہوا کہ جیسے اس کا بہت کچھ گم ہو گیا ہو۔ وہ کتنی ہی دیر تک وہیں ساکت کھڑی رہی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ کون ہے؟
” مہرو بی بی چلیں؟“اس کی نوکرانی نے اس سے پوچھا تو جیسے اسے ہوش آ گیا۔

 

 

” ہاں چلیں۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے کہا، اور یہ کہہ کر وہ پلٹنے لگی تو نہ جانے اسے کیا خیال آیا۔ وہ رُک گئی۔ اس نے اپنی پراندے میں سے ایک سیاہ دھاگہ نکالا اور جالی پر باندھ دیا۔اُن رنگین دھاگوں کے ساتھ ،سفید جالی پرسیاہ دھاگا باندھتے ہوئے اس کے دل میں یہی مَنّت تھی کہ وہ نوجوان اُس کا ہو جائے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کے ذہن میں دور دور تک یہ بات نہیں تھی۔
پوری رات وہ سو نہ سکی تھی۔ اسی کا چہرہ نگاہوں میں گھومتا رہا۔ وہ کون تھا؟

 

 

اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا۔بس اس کا چہرہ نگاہوں سے نہیں ہٹتا تھا۔اس نے واضح طور پر محسوس کیا کہ وہ اس کے من میں اتر گیا ہے۔ ہر لڑکی کے من میں ایک خواب ہوتا ہے، اور اس خواب میں بکھری ہوئی لاتعداد خوہشیں،

 

 

اگر ان میں سے ایک بھی حقیقت میں مل جائے تو وہ دیوانی ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی حال کچھ مہرو کا بھی تھا ۔ اسکی زندگی میں بہت سارے لڑکے آئے تھے،کسی ایک کو بھی دیکھ کر دل یوں نہیں دھڑکا تھا، جس طرح اسے پا کرمچلتا ہی چلا جا رہا تھا۔ اسے لگا جیسے اس کا دل وہیں سفید جالی میں کہیں اٹک گیا ہے اور وہ سانس لینا بھول گئی ہے۔  

 

 

وہ اگلی جمعرات کا انتظار نہ کر سکی۔ دو دن بعد ہی دربار چلی گئی۔ مہروکی نگاہیں اس کی متلاشی تھیں۔ وہ آستانے کے احاطے میں اسے دیکھتی رہی، مگر وہ کہیں دکھائی نہ دیا۔ وہ مایوس ہو گئی۔

 

وہ سفید جالی کے پاس جا ٹھہری اور اپنی مَنّت والے دھاگے کی گرہ دیکھتی رہی۔ساری دنیا میں ایسی ہی خواہشوں کی گرہیں لگائی جاتی ہیں۔ انداز مختلف ہوتا ہے۔ کوئی کپڑے سے ، کوئی دھاگے سے ، کوئی تالے سے اور نجانے کیا کیا۔ وہ ان سب باتوں سے بے خبر اسی نوجوان کے بارے سوچتی ہوئی سفید جالی کے پاس سے پلٹ کر واپس جا رہی تھی کہ دربار کے احاطے میں درخت کے پاس، اسے وہ دکھائی دے گیا۔ اس نے وہی سیاہ شلوار سوٹ پہنا ہوا تھا۔

 

 

 

سر پہ سفید جالی دار ٹوپی تھی۔ وہ ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور نجانے وہ کس خیال میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ دل سے مجبور ہو کر اس کے پاس چلی گئی۔ اس نے اپنے قریب کسی کا احساس کر کے آنکھیں کھول دیں ۔

 

وہ نوجوان اسے دیکھ کر ایک دم سے چونک گیا تھا، جیسے اسے امید نہ ہو کہ وہ اس کے سامنے آ سکتی ہے۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تو مہرو نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک بڑا نوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا” یہ لو،؟“

اس نے پہلے نوٹ کی طرف دیکھا اور پھر مہرو کی طرف اور دھیمے سے لہجے میں پوچھا” یہ کیوں؟“

” تم یہاں دربار پر خدمت کرتے ہو نا، یہ رکھ لو۔“ مہرو نے کہا تو ایک دم سے مسکراتے دیا، پھر اپنی جیب سے ویسے ہی دو بڑے نوٹ نکال کر بولا

” میں دربار کا خدمت گار ضرور ہوں مگر۔! بھکاری نہیں ہوں۔یہ نوٹ اس کے ساتھ ملا لو، اور سامنے پڑے صندوق میں ڈال دو، مجھ سے زیادہ دربار کو اس کی ضرورت ہے۔“ اس کے یوں کہنے پر وہ حیران رہ گئی۔

” تو کیا تم اتنے امیر ہو کہ مدد قبول نہیں کرتے؟“ اس کے یوں پوچھنے پر مہرو کو ایک طرح سے خوشی بھی ہو رہی تھی، تب وہ بولا

”نہیں ، امارت اورغربت کی بات نہیں،کہا نابھکاری نہیں ہوں۔ تمہارا شکریہ۔“
” تمہارا نام کیا ہے؟“ مہرو نے دھڑکتے ہوئے دل سے پوچھ لیا۔ اس نے چونک کر اسے غور سے دیکھا اور پھر نگاہیں جھکا کر بولا

” مجھے جنید کہتے ہیں۔“

” اور میرا نام مہرو ہے۔میں ہر جمعرات کو یہاں آتی ہوں۔“ اس نے تیزی سے کہا
” مگر آج تو جمعرات نہیں ہے۔“ اس نے نیچی نگاہ سے کہا تو مہرو کا دل چاہا کہ کہہ دے کہ میں تو فقط تیری تلاش میں یہاں تک آئی تھی۔ لیکن وہ کہہ نہ پائی ۔ اس نے وہ نوٹ اپنے پاس کھڑی نوکرانی کو دئیے تاکہ وہ صندوق میں ڈال آئے ۔ وہ چلی گئی تو مہرو اپنے دل کی بات چھپاتے ہوئے بولی

” ایک مَنّت ہے ، رَبّ کرے وہ پوری ہو جائے۔اسی لئے یہاں آئی ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کے لئے کی پھر جھجکتے ہوئے پوچھا،” کیا تم یہیں ہوتے ہو؟ پہلے کبھی نہیں دیکھا تمہیں یہاں؟“
میں،“ ایک لفظ کہہ کر وہ چپ ہو گیا، پھر جیسے سوچ کر بولا،” میں بس ایک راستے کا راہی ہوں، اوراپنی منزل کوپالینا چاہتا ہوں، پتہ نہیں وہ کب ملتی ہے۔“

 

مہرو اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ اس کی منزل کیا ہے، اس نے کچھ کہنے کے لئے لب وا ہی کئے تھے کہ جنید نے ہاتھ بڑھا کر کچھ بھی نہ کہنے کا اشارہ کر دیا، پھر اٹھا اور اندر حجرے کی طرف چلا گیا۔ مہرو اسے جاتا ہوا دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔ وہ چلا گیا تو اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا
” اُس کی منزل ، کون ہے اس کی منزل؟“

 

” بی بی جی آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟“ پاس کھڑی نوکرانی نے پوچھا تو وہ اپنے حواسوں میں آگئی۔

 

” نہیں ، کچھ نہیں۔ آﺅ چلیں۔“

وہ دونوں دربار کی سیڑھیاں اترتی چلی گئیں۔ مہرو کو لگا آج وہ اپنا دل ہی نہیں حواس بھی یہاں کھو چلی ہے۔

اس نے آنے والی جمعرات کا بہت انتظار کیا۔ وہ صبح ہی سے شام ہو جانے کا انتظار کرنے لگی۔ ابھی سہ پہر ہی تھی کہ وہ اپنی نوکرانی کو لے کر دربار کی طرف چل دی۔ سیڑھیاں چڑھتے ہی اس کی پہلی نگاہ ہی وہیں دیوار کے پاس پڑی، جہاں وہ اس دن بیٹھا ہو اتھا۔ آج بھی وہ وہیں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی نگاہیں سیڑھیوں کی طرف ہی تھیں۔ اسے دیکھتے ہی جنید کا چہرہ تن گیا۔مہرو کو نجانے کیوں لگا کہ وہ اسی کا انتظار کر رہا ہے۔ رَبّ تعالی نے عورت کو کہ اس وصف سے نوازا ہوا ہے کہ مرد کی آنکھ کو پڑھ لیتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ وہ اس کا اظہار نہ کرے۔

 

وہ اس کے قریب چلی گئی اور جا کر پوچھا،” کیا تم یہیں بیٹھے رہتے ہو؟“
” ہاں۔! یہاں کی خدمت سے جو وقت بچ رہتا ہے ، میں یہیں بیٹھا رہتا ہوں۔“ اس نے دھیمے سے لہجے میں جواب دیا تو اس نے بے ساختہ پوچھا
” کیوں؟“

 

” یہ تو بالکل ایسا ہی سوال ہے کیسے کہ میں یہ پوچھ لوں کہ تم یہاں کیوں آتی ہو۔“
”ہاں تم پوچھ سکتے ہو ،میں تو اپنے کسی مقصد سے آتی ہوں، بتایا تھا نا کہ میری ایک منت ہے۔“ اس نے تیزی سے کہا تو انتہائی سنجیدگی سے بولا
” اور میں بھی اپنے مقصد کے لئے یہاں بیٹھا رہتا ہوں۔“
” کہیںہم دونوں کا مقصد ایک ہی تو نہیں ہے؟“ مہرو نے یوںپوچھا جیسے وہ اپنے دل کی بات کہہ رہی ہو۔

 

” نہیں ایسا نہیں ہے۔“ اس نے سختی سے کہا تو مہرو دل مسوس کر رہ گئی۔
”کون ہو سکتی ہے اسکی منزل۔۔۔ اس کا مقصد؟ “ اس نے سوچا اور پھر یہ سوچ بگولے کی طرح اس کے دماغ میں اٹھ گئی۔ کہیں یہ کسی دوسری لڑکی سے تو محبت نہیں کرتا، جیسے میں نے مَنّت مانی ہوئی ہے ، اس نے بھی کسی کو پانے کی مَنّت مانی ہو؟ یہ سوچا تو نجانے کیا کچھ اس کی لپیٹ میں آیا۔ وہ کچھ دیر آستانے میں رہی اور پھر واپس گھر لوٹ گئی۔مہرو کا چین لٹ گیا تھا۔

 

٭….٭….٭

 

مہرو ، دربار پرر وزانہ جانے لگی تھی۔ وہ ہوتی اور اس کے ساتھ اس کی نوکرانی، دونوں سرشام وہاں جا پہنچتی تھیں۔ جنید ان کا انتظار کرنے لگا تھا۔اب وہ صحن کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر نہیں بیٹھتا تھا،بلکہ وہ بابا سائیں کے حجرے میں ہوتا۔

 

 

مہرو نے کبھی بابا سائیں کو حجرے میں نہیں دیکھا تھا۔ مہرو اور جنید، کچھ فاصلے پر بیٹھے رہتے اور ان کے درمیان کچھ دیر باتیں ہوتیں۔ پیاس بجھتی بھی نہ تھی کہ اگلے دن کا انتظار شروع ہو جاتا تھا۔پیاس تھی کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔

 

 

جنید کی دید اور قرب کی شدید پیاس مہرو کے اندر بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔ ایک رات جب کہ چاندنی اپنے مسحور کن جادو کے ساتھ ہر شے پر چھائی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں سے نیند تو نجانے کتنے دنوں سے اُڑ چکی تھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ابھی اٹھے اور سیدھی دربار چلی جائے جہاں اس کا جنید تھا۔ اس سے ملنے کی خواہش اس کے دل میں شدید تر ہوتی چلی گئی۔ وہ نجانے اس وقت کیا کر رہا ہوگا۔

 

 

اس کی آنکھوں میں بھی نیند ہوتی ہے یا نہیں، کیا وہ بھی میری طرح محبت کو محسوس کرتا ہے؟ وہ ایک دم ہی سے بے چین ہو گئی۔ اس نے چاروں طرف دیکھا۔ سب سو رہے تھے۔ وہ اٹھی اور گھر سے نکلتی چلی گئی۔ سنسان راستہ اور بستی میں ہو کا عالم تھا۔ اسے ذرا بھی خوف محسوس نہیں ہوا۔ اور ہوتا بھی کیسے؟

 

 

اس تو تمام تر دھیان جنید کی طرف لگا ہوا تھا۔ اسے کسی دوسری شے کی پروا ہی نہیں تھی۔ خواجہ گلام فرید سرکار نے ایسے ہی کسی وقت کے لئے بہت خوبصورت شعر کہے ہیں کہ وِچ روہی دے راہندیاں…. نازک نازو جٹیّاں…. راتیں کرن شکار دِلیں دے….ڈیہنہ َولّوڑں مٹیّاں۔(روہی میں ایسی نازک اور ناز والی لڑکیاں رہتی ہیں کہ دن کے وقت تو دودھ سے مکھن نکالتی ہیں اور رات کو وہ دلوں کا شکار کرنے نکل پڑتی ہیں)

 

وہ دربار پہنچ گئی۔ آستانہ خالی تھا۔ صحن میں کوئی بھی نہیں تھا۔ ہاں مگر جنید اسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ وہ کسی ہیولے کی مانند دکھائی دے رہا تھا، جبکہ مہرو نے تو اسے ایک نگاہ ہی میں پہچان لیا تھا۔ وہ اس کے قریب چلی گئی۔ وہ آنکھیں بند کئے لیٹا ہوا تھا۔ اچانک ہی کسی کے قرب کا احساس پاکر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ مہرو پر نگاہ پڑتے ہی وہ چونک گیا۔ پھر ایک دم سے سیدھا ہو کر بیٹھتے ہو ئے پوچھا

 

” مہرو۔! خیر تو ہے ، تم اس وقت یہاں؟“

” بس، میرا دل کیا تھا تمہیں دیکھنے کو، چلی آئی۔“ مہرو نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے دھیمے سے لہجے میں یوں کہا ،جیسے وہ خود نہ کہہ رہی ہو بلکہ ٹرانس میں ہو۔جنید کچھ دیرخاموش رہا،پھر بڑے گھمبیر لہجے میں بولا

 

” مہرو۔! مجھے یہ بتاﺅ، کیا ہمارے من میں کوئی کھوٹ ہے؟“
” نہیں تو، ہمارا تعلق تو بہت پاک اور صاف ہے؟“ مہرو نے سارے جہان کا پیاراپنے لہجے میں سمیٹتے ہوئے کہا

” تو پھر ہمیں یوں راتوں کو چھپ کر نہیں ملنا چاہئے۔ ہمارے من میں اُجالا ہے، روشن اور چمکتے ہوئے دن کی طرح۔ ہمیں دن ہی میں ایک دوسرے کو ملنا چاہئے۔“ اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا

” میں تو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ۔۔۔“ مہرو نے کہنا چاہا ، مگر اس نے بات کاٹتے ہوئے کہا

” میں اپنی محبت کو دنیا والوں کی آنکھ سے میلا ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا۔ اپنے دل پہ قابو رکھو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔“ وہ دھیرے سے بولا

” جنید۔! یہ میں ہی جانتی ہوں کہ میرے دل میں تمہارے لئے کتنی محبت ہے۔ یہ تم پر احسان نہیں ہے۔ یہ میرے دل کی لگی ہے اور میںچاہتی ہوں کہ تم اپنے والدین کو ایک بار ہمارے گھر بھیج دو۔“ اس نے آہستگی سے کہا تو تیزی سے بولا

” اور جس کے والدین ہی نہ ہوں تمہیں مانگنے کے لئے تو پھر؟“ جنید نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہو ئے کہا۔اس پر مہرو نے چونک کر اسے دیکھا اور تیزی سے پوچھا۔
” کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟“

” ہاں ہے، شاید تم سے بھی زیادہ۔“ جنید نے یوں کہا جیسے یہ لفظ اس کے دل سے نکلے ہوں۔بہت اثر تھا ان میں۔ مہرو پُور پُور بھیگ گئی تھی۔تبھی و ہ بولی

”تو پھر ، کیا کیا جائے جنید، میں اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔“

” دیکھومہرو۔! تمہیں حاصل کرنے کے لئے ،میںکوئی غلط راستہ تو اپناﺅں گا نہیں، لیکن مجھے اتنا یقین ہے کہ اگر تو میری قسمت میں ہوئی نا تو میں تجھے پا لوں گا۔“اس نے شائستگی سے اسے سمجھایا تو وہ دھیمے لہجے میں بولی

” قسمت ہم خود بھی بنا سکتے ہیں، یہ قسمت تو ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم چاہیں تو ۔۔۔“یہ کہتے ہوئے وہ خاموش ہو گئی ۔ کچھ لمحے بعد وہ بولا

” بے شک کوشش ہی سے انسان کو ملتا ہے، لیکن اٹل فیصلے اوپر بھی ہوتے ہیں، جیسے یہ کوشش کرنے والا فیصلہ بھی۔ ہم کوشش کریں گے۔ ضرور کریں گے ، لیکن یہ کوشش ایسی ہوگی ، جو میرے رَبّ اور دنیا کے نزدیک درست ہوگی۔باقی رَبّ جانے۔“ جنید نے اس کے چہرے پر اپنی نگاہیں جماتے ہوئے کہا

” تم پھر کیا کرنا ہوگا جنید؟“ مہرو نے جذباتی لہجے میں پوچھا
” میں بابا سائیں سے بات کروں گا۔ انہیں تمہارے گھر بھیجوں گا،پھر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔“ اس نے حوصلہ دیا۔

” میں انتظار کروں گی جنید۔“ اس نے پر سکون ہوتے ہوئے کہا اور اٹھنے لگی ، تب وہ آہستگی سے بولا

” مہرو۔! ممکن ہے اب تم دربار پر دوبارہ نہ آسکو۔ بابا سائیں نے اگر بات کی تو ساری بات ہی کھل جائے گی۔“
” ہاں میں سمجھتی ہوں۔“ مہرو نے خود پر جبر کرتے ہوئے کہا۔ یہ کہہ کر اس نے اپنی بڑی ساری چادر سمیٹی اور باہر کی جانب چل دی۔

اگلی صبح بابا سائیں ان کے گھر اکیلے ہی آگئے۔ وہ سبھی دالان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مہرو کا باپ مہر خدا بخش، اس کی شرماں مائی ، پھوپھی پیروزاںمائی اور وہ خود۔ سبھی نے حیرت اور خوشی سے اس کا استقبال کیا۔ وہ حیران اس بات پر تھے کہ بابا سائیں کبھی کسی کے گھر نہیں گئے، یہ آج ان کے گھر کیسے آگئے ہیں۔ مہرو اس لئے حیران تھی کہ باباسائیں اس قدر جلدی اس کے گھر آجائیں گے۔ وہ اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔ انہوں نے بڑی عزت اور احترام سے بابا سائیں کو بٹھایا۔
” آج تو بڑا بھاگاں والا دن ہے کہ آپ ہمارے گھر آگئے ہیں۔“ مہر خدا بخش نے خوشی اور احترام سے کہا

” ہاں خدا بخش ، آج میں جس کام کے لئے آیا ہوں، اس کے لئے مجھے تیرے گھر آنا ہی تھا۔“با با سائیں نے گہری سنجیدگی سے کہا
” ایسا کیا کام ہے باباسائیں۔مجھے بلوا لیا ہوتا۔“اس نے الجھتے ہوئے کہا
” خدا بخش۔! تو نے مجھے دیکھا، اپنے بچپن سے دیکھا ، کیسا پایا ہے تو نے مجھے؟“ بابا سائیں نے گہری سنجیدگی سے پوچھا

” یہ کیا بات کر رہے ہیں آپ، کون عزت نہیں کرتا آپ کی۔ سب جانتے ہیں کہ آپ بہت اچھے ہیں۔ کسی کو دُکھ نہیں دیا آپ نے۔“ اس نے الجھتے ہوئے کہا

” تو پھرتو نے صرف میری ذات کودیکھنا ہے، میں تم سے ایک سوال کرنے لگا ہوں۔ فوراً جواب نہیں دینا،بہت سوچ سمجھ کر جواب دینا۔“ بابا سائیں گھمبیر لہجے میںبولے
” ایسی کیا بات ہے بابا سائیں؟“ خدا بخش نے پوچھا

” میں بیٹی مہرو کو جنید کے لئے مانگتا ہوں۔“ بابا سائیں نے کہا تو یوں لگا جیسے وقت رُک گیا ہو۔ وہ اس سوال پر سبھی ساکت ہو گئے تھے۔ کافی دیر بعد پیروزاں مائی نے جھجھکتے ہوئے پوچھا
” بابا سائیں۔! یہ کیا بات کر رہے ہیں آپ، یہ جنید وہی لڑکا نہیں ہے جو کچھ عرصے سے آستانے پر پڑا رہتا ہے؟“

 

” ہاں وہی ہے۔“ بابا سائیں نے آہستگی سے کہا

 

باقی آئندہ

 

یہ بھی پڑھیں : مہرو (کہانی ) امجد جاوید قسط نمبر 3

 

مہرو (کہانی ) امجد جاوید قسط نمبر 2
مہرو (کہانی ) امجد جاوید قسط نمبر 2

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.