ڈگری کالجز میں سہولیات کا فقدان ،سٹاف کی کمی ،طلبہ و طالبات مشکلات سے دو چار (علاقائی مسائل)مقصود احمد سندھو

اساتذہ،لائبریرین،خاکروبوں کی خالی سیٹیں خستہ اور ناکافی عمارتیں حکومتی پالیسیوں کا منہ چڑا رہی ہیں منتخب نمائندے تعلیمی اداروں کی حالت زار پہ توجہ دیں

0 81

چیچہ وطنی کے سرکاری کالجز میں سہولیات کا فقدان، لیکچرارزکی کمی،فرنیچر کی قلت،درجہ چہارم کے ملازمین اور خاکروبوں کا نہ ہونا،لائبریرین کی خالی سیٹیں عمارتوں کی خستہ حالی اور گنجائش سے کم کمرے محکمہ تعلیم اور حکومتی پالیسیوں کا منہ چڑا رہے ہیں ایم اے کلاسز کا اجراء نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں طالبات پر تعلیم کے دروازے بند ہو رہے ہیں اور طلبہ کو دور دراز کی سفری صعوبتیں برداشت کرنے کے علاوہ والدین پرخراجات کا اضافی بوجھ بڑھ رہا ہے جس سے پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہو ئے لوگ بچیوں کو گھر بٹھانے اور لڑکوں کو کام پہ لگانے پر مجبور ہیں شہر میں گورنمٹ ڈگری کالج فاربوائز، گورنمنٹ کریسنٹ کالج برائے خواتین اورگورنمنٹ کامرس کالج کے نام سے تین بڑے تعلیمی ادارے قائم ہیں اور تینوں میں ہی بچوں کو حصول تعلیم میں مشکلات کا سامنا ہے گورنمٹ کریسنٹ کالج برائے خواتین میں بائیس سو سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں لیکچرارز کی منظور شدہ سیٹوں کی تعداد انتیس ہے مگر مستقل سٹاف کی تعداد صرف گیارہ ہے جبکہ باقی کام سی ٹی آئیز سے چلایا جارہا ہے ستم یہ کہ ان کی تعداد بھی پوری نہیں ہے جس سے بچیوں کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے محکمہ تعلیم کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے

ایجوکیشن،اکنامکس،سوشیالوجی،سائکالوجی،پنجابی،عربی،فارسی،کا ایک بھی استاد موجود نہیں اس لئے ان کلاسز کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے کمپیوٹر لیب اپنی مدد آپ کے تحت چلائی جا رہی پورے کالج کے لئے ایک سویپر ہے لائبریرین اور سویپر کی سیٹ عرصہ درازسے خالی پڑی ہیں ناکافی عمارت، فرنیچر کی کمی اور ہاسٹل کا نہ ہونا بھی طالبات کی تعلیم میں رکاٹ کا سبب ہے ایم اے اور بی ایس کی کلاسسز نہ ہونیکی وجہ سے ہر سال سینکڑوں بچیوں کو بی اے،بی ایس سی کے بعد تعلیم کو خیر باد کہنا پڑرہا ہے کیونکہ غریب والدین دوسرے شہروں میں سکونت کے اخراجات برداشت نہیں کر پاتے اس وجہ سے سہولیات مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی کمی کو دور کرتے ہوئے ایم اے کلاسسز کا فوری اجراء کیا جائے اس کے علاوہ فلٹریشن پلانٹ کا منصوبہ بھی تشنہ تکمیل ہے اسی طرح گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز میں دو ہزار طلباء کے لئے اردو کا صرف ایک استاد ہے حالانکہ ان کی تعداد کم از چھ تو ہونا چاہیے کمپیوٹر،اسلامیات،جغرافیہ اور بائیو کا بھی صرف ایک ایک استاد اپنی ذمہ داریان سرانجام دے رہا۔

اساتذہ کی کمی کا یہ حال ہے کہ آپشنل مضامین ایجو کیشن،سوشیالوجی،معاشیات اور جرنلزم کی کلاسوں کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے سی ٹی آئیز کی موجودگی کے باوجود اساتذہ کی کمی بدستورہے چار سال قبل ایم اے کلا سز کی منظوری ہونے کے باوجود ابھی دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے لائبریرین اور خاکروبوں کی سیٹیں یہاں بھی خالی پڑی ہیں سائیکل ا سٹینڈ اور کینٹین کا مناسب انتظام نہیں جبکہ ہاسٹل بھی موجود نہیں اس کے علاوہ بچوں کی تعداد کے لحاظ سے بلڈنگ نا کافی ہے اور کچھ کمروں کی کی چھتیں بوسیدہ ہو چکی ہیں کالج کی شمالی دیوار کے ساتھ گراؤنڈز میں کوڑا کرکٹ پھینکنے اور سیوریج کے پانی کا مسئلہ گزشتہ بیس سالوں سے حل طلب ہے جس کے لئے سیکرٹری تعلیم تک کو لکھا جا چکا ہے لیب انتہائی چھوٹی اوراس میں سامان کی بھی کمی ہے اس کے علاوہ آرٹس کے طلبہ کے لئے دو سو چالیس اور سائنس کے لئے ایک سو بیس کی تعداد کے لئے ایک استاد کی حکومتی پالیسی کوبھی لوگو ں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ایک استاد کسی طور پر انھیں تعلیم دینے کے معیار پہ پورا نہیں اتر سکتابلدنگز اور فرنیچر کی کمی کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں طلبہ اور طالبات داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں اور انھیں پرائیویٹ کالجوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ایک طرف محکمہ بچوں کی تعداد بڑھانے پر زوردیتا ہے۔

http://jaagnews.tv/
citytv.pk

دوسری طرف وسائل اور سہولیات کی عد م فراہمی سے اس کی نفی کررہا ہے پرائیویٹ کالجز کی حوصلہ شکنی کے لئے حکومت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی تا کہ غریب لوگ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلواکر خوشحالی کی راہ اپناتے ہوئے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں گورنمنٹ کامرس کالج کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہ ہے پانچ سو سے زائد طالب علموں والے اس کا لج پر بھی تعداد بڑھانے کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہتی ہے اور سہولیات کی عدم فراہمی اور عدم دستیابی کے باوجود پرائیویٹ سیکٹر سے مقابلے کا مطالبہ کسی طرح بھی انصاف پر مبنی نہیں ہے عرصہ دراز سے خالی سیٹوں پہ تعیناتی نہیں کی گئی یہاں بھی کام سی ٹی آئی سے چلایا جارہا ہے دو چیف انسٹرکٹر دو سویپر دو ہی درجہ چہارم کے ملازمین اور لائبریرین کی سیٹیں یہاں بھی خالی پڑی ہیں اس کے علاوہ فرنیچر کی بھی شدید کمی ہے بلڈنگ کی کم گنجائش کی وجہ سے بچوں اور بچیوں کا ایک ہی جگہ تعلیم حاصل کرنا بھی ایک مسئلہ ہے انھیں الگ الگ کرکے بچیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکتا کیونکہ والدین انھیں کالج بھیجتے ہوئے ہچکچاہت کا شکار نظر آتے ہیں ۔

اس کے علاوہ چار چودہ ایل کے ہائر سیکنڈری گرلز سکول اور کسووال کے ہائر سکینڈری بوائز سکول بھی کچھ اسی قسم کے مسائل سے دو چار ہیں سٹاف فرنیچر اور لیب کی سہولت کی کمی کی وجہ سے بچے مشکلات کا شکار ہیں طالبات کو زمین پہ بیٹھ کر پڑھتے دیکھا گیا ہے علاقے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے ان اداروں میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے لئے ان کی خالی نشستوں پہ مستقل بنیاد پر تعیناتیاں کی جائیں فرنیچر کی کمی کو دور اور بلڈنگز کی مرمت اور توسیع کی جائے اس کے علاوہ کمپیوٹر لیب کے لئے اٹینڈنٹ بھی ہونے چاہیئں شہریوں کا منتخب نمائندوں سے مطالبہ ہے کہ بچوں اور والدین کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور اپنے منشور اور وعدوں کی تکمیل کی جائے کیونکہ شاہکوٹ،کماند،اقبال نگراور غازی آباد کی طلباء وطالبات کو ساٹھ سے اسی کلو میٹر تک کا سفر طے کرکے ساہیوال جاناپڑتا ہے اور ہمارے ہمسایہ شہر کمالیہ اور بورے والہ تعلیمی میدان میں بہت آگے ہیں اس لئے شعبہ تعلیم میں ترجیحی بنیادوں پہ کام ہونا چاہئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.