ماحول میں آسودگی کائنات کے توازن اور تعلیم و تربیت کے ساتھ کھیلوں میں ہے تحریر: منشا قاضی

گذشتہ روز زیکاس سکول آف سسٹم کے سالانہ یوم کھیل کے پر شکوہ مناظر دیکھنے کو ملے جس کے عقب میں حب الوطنی شرف انسانیت کے پیکر متحرک موجود تھے

0 236

جن تعلیمی اداروں میں تدریسی اوقات کے علاوہ اور کوئی دوسرا تفریح پروگرام نہیں ہوتا اس تعلیمی ادارے کے طلبا و طالبات کا مقابلہ آپ اس سکول سے کر لیں جہاں تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان آباد نظر آتے ہیں۔ کھیلوں کے بغیر تعلیم و تربیت وہ نتائج برآمد نہیں کر سکتی جس کا تقاضا عہد جدید کرتا ہے۔ زیکاس سکول آف سسٹم کے خداوندان کی بصیرت و بصارت اور دورس نگاہی کے سامنے بڑی بڑی جامعات کو چھوٹا پاتا ہوں اور اس سکول کو جامعہ تصور ہی نہیں کرتا اس کا انداز اسلوب ہی دلوں کو موہ لیتا ہے۔ ایسے خداوندان مکتب کی بصیرت شاہین بچوں کو پَر اور قوت پرواز عطا کرتی ہے۔ یقین کی دولت، اعتماد کی قوت اور اعتبار کا بھروسہ ہی زیکاس سکول کے سلیقہ شعار والدین کا اپنے بچوں کے لئے انتخاب ہے۔
یقین افراد کا سرمایہئ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

گذشتہ روز زیکاس سکول آف سسٹم کے سالانہ یوم کھیل کے پر شکوہ مناظر دیکھنے کو ملے جس کے عقب میں حب الوطنی شرف انسانیت کے پیکر متحرک موجود تھے جو مہمانانِ خاص کی حیثیت سے اس پرشکوہ اعلیٰ ترین انتظامات سے متصف کھیل کے اس میدان میں جلوہ افروز تھے اور تھوڑی ہی دیر میں وہ بچوں کے والدین کے جذبات کے ساتھ اپنے دلوں کی دھڑکنوں سے ہونہار طلبا و طالبات کو خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے۔ سکول میں جو سزا کا تصور موجود رہا ہے اس کو مثبت انداز و اسلوب میں بدل دیا گیا ہے۔ سزا بچوں کو بزدل بناتی ہے اور ایسی فضا طلبا کو بہادر بناتی ہے جس کی تخلیق میں انتظامیہ نے اپناخونِ جگر صرف کیا ہے۔ زیکاس سکول آف سسٹم کے چیف ایگزیکٹو ملک ضمیر الحسن،منیجنگ ڈائریکٹر محمد فہد عباس، وائس پرنسپل مبینہ ارشد، انتظامی امور کے ماہر جناب شبیر احمد، حمزہ ریاض کی ریاضت، مس نیلم دلشاد، مس سائرہ جمشیدکی فرض شناسی اور انتظامیہ کا حسن اخلاق و کردار ناقابل فراموش تھا۔ مہمانانِ گرامی میں جناب حافظ ذیشان کی حوصلہ افزائی انتظامیہ کے لئے سب سے بڑی قدر افزائی تھی۔

 

وسیم نذر محمد، سماجی راہنما مظہر جیلانی کے علاوہ کھیل کی اس پُر شکوہ تقریب میں پاک چین دوستی کا فروغ بھی دیکھنے کو مل رہا تھا۔ یہاں چین سے آئے ہوئے عبقری دانشوروں کی ایک خاص تعداد موجو د تھی جن میں ہر فرد اپنے مضمون میں ایک مکمل ڈاکٹر اور پروفیسر تھا اور اس موقع پر مجھے نبی مکرم ﷺ کی حدیثِ مبارکہ زبان پر آتی رہی کہ اطلبو العلم ولو کان بالصین یعنی علم حاصل کرو چاہے تجھے چین جانا پڑے۔ یہ اس حکم کا نتیجہ تھا کہ مسلمان علمی طور پر دنیا بھر کے امام بنے اور تمام علوم میں دنیا کی راہنمائی کی، یورپ جس کو آج اپنی علمی ترقی پر ناز ہے درحقیقت وہ ہمارے ہی چینی اور مسلم اسلاف کے چمنستان علم کا خوش چین ہے۔ اس وقت مجھے طلبا و طالبات کے بارے میں بات کرنا ہے۔ زیکاس سکول آف سسٹم نے وہ کام کیا ہے جو بین الاقوامی معیار کا کھیلوں کے میدان میں اولمپک میں دیکھا جاتا ہے۔ امن کی شمع لے کر جب زیکاس سکول کے طالب علم میدان کھیل میں دوڑ رہے تھے تو بادلوں کی اوٹ سے سورج نے بھی اس شمع محفل میں اپنی کرنوں کو زمین پر اُتار دیا او رپھر تو غروب آفتاب تک کھیل کے میدان میں طلبا و طالبات کے جذبات کی گرمی کے ساتھ اپنی تپش و تمازت بھی فراہم کرتا رہا۔

 

والدین کا حوصلہ ا ور دلچسپی کے عقب میں زیکاس سکول آف سسٹم کی خواتین اساتذہ کرام کا سلوک، برتاؤ اور اعتماد کا مضبوط رشتہ محسوس ہورہا تھا۔ میں نے آج تک اتنی دلجمعی سے والدین کو اپنے بچوں کے لئے ایسا ایثار اور قربانی دیتے نہیں دیکھا اور یہ سارا کریڈٹ زیکاس سکول کی انتظامیہ کے حسن سلوک کو جاتا ہے اور وہ اُن سکولوں کے مالکان سے بھی نالاں ہیں جو شاہین بچوں کو خاکبازی کا سبق دیتے ہیں۔ یہاں وہ اس لئے خوش تھے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور روح پرور ماحول بھی تخلیق کیا جاتا ہے اور پھر تعلیم کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ایسی باتیں سکھائے جو وہ نہیں جانتے بلکہ اس کی غایت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ایسا صحیح برتاؤ کرنے پر مجبور کرے جو وہ نہیں کرتے اور اگر آپ نے لوگوں سے برتاؤ کا سبق سیکھنا ہے تو میں ایک ایسے استاد کو جانتا ہوں جو جواں فکر بھی ہے اور جواں سال بھی۔ زیکاس سکول آف سسٹم کے منیجنگ ڈائریکٹر فہد عباس ایک بلند پایہ سماجی، تعلیمی، تہذیبی سائنسدان ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ جوانوں کو پیروں کا استاد کر اور میں دیکھ رہا ہوں ان کا طرز و اسلوب لاکھوں میں جدا اور الگ تھلگ۔ خاص رہ کر عام دکھائی دیتا ہے۔ بقول کسی شاعر کے
نکتہ وروں نے ہے سمجھایا کہ خاص بنو اور عام رہو
محفل محفل صحبت رکھو اور بنے انجا ن رہو

 

مبارک ہیں وہ لوگ جنہیں ذات باری تعالیٰ نے علم و حکمت اور عقل و شعور کی نعمت سے نوازا ہے۔ صرف کتاب کا ہی مطالعہ نہیں ہوتاکائنات کا مطالعہ بھی ہوتا ہے۔ انسانوں کا مطالعہ بھی ہوتا ہے کھیل کے میدان کا مطالعہ بھی ضرور ہوتا ہے کیونکہ مطالعہ کرنے سے ذہن میں وسعت اور استدلال میں وزن پیدا ہوتا ہے فکر کے نئے دریچے کھلتے ہیں اور تنگ نظری اور عصبیت کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔ کھیل کے میدان آباد رکھنے اور بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کے ساتھ ساتھ بہادر، مضبوط اور حوصلہ مند معمار بنانے کے لئے آپ کو زیکاس سکول آف سسٹم کا ہی انتخاب کر نا ہوگا۔ کیونکہ
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

 

میں جوانوں کے دلوں میں دیکھ رہا ہوں کہ افکار تازہ کی کرن، چمک، دمک اور نمود دکھائی دے رہی ہے اور خیالات میں یہ بلندی اور سر بلندی جوانوں کو پیروں کا استاد کرنے والے کے قول میں زیکاس سکول آف سسٹم کی وجہ سے محسوس ہور ہی ہے۔ جہاں طلبا و طالبات کی زندگی زندہ دلی اور حرکت و حرارت سے عبارت ہے۔ یہاں تعطل کی برف کا گزر نہیں ہے۔ یہاں اقبال شناسی بھی ہے اور خود شناسی بھی موجود ہے۔ یہاں اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت کی جھلک آپ کو ملے گی اس لئے یہاں پیروں کا استاد جواں سال فہد عباس کی شکل میں اقبال کا شاہین موجود ہے جس کی پرواز کے سامنے دوسر ے پرندوں کی پرواز دم توڑ دیتی ہے۔ حافظ مظہر جیلانی، حافظ ذیشان، انس فاروقی، نعیم گورایا، میاں اعظم، حافظ طارق نسیم، وسیم نذر محمد اور زیکاس سکول آف سسٹم کی سوشل میڈیا آفیسر مس لنڈا اپنی اس عارضی اور فانی زندگی کو لافانی بنانا چاہتے ہیں تو وہ ایسے ہی کام کریں جو آج میں اُن کے قول و فعل کی ہم آہنگی سے منعکس کر رہا ہوں اس کے لئے ہمیں فہد عباس جواں سال استاد ِ گرامی کے دبستان علم کی خوشہ چینی کرنی ہوگی۔

 

وقت کی تنگ دامانی تھی ویسے بھی مجھے اپنا بیان حسن طبیعت نہیں تھا وگرنہ میں پاک چین دوستی، ماحول، صحت اور کھیلوں کی افادیت پر بات کرتا مگر اپنے استاد فہد عباس کی کارکردگی ا ور کاروائی نے سارا خلا پُر کر دیا تھا۔ آخر میں زیکاس سکول آف سسٹم کی خواتین اساتذہ ماہرین علم و ہنر کو اُن کی خدمات کے اعتراف میں گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ اس موقع پر سید نوبہار شاہ صاحب بھی موجود تھے جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ کائنات کا توازن قائم رکھنے میں ہی فضا شفاف اور ماحول میں آسودگی ملتی ہے اس لئے کہ
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا
ان یاد گار لمحات کو فرحان یوسف کے کیمرے کی آنکھ نے ہمیشہ کے لئے قید کر لیا اور وہ آپ ہمیشہ سوشل میڈیا پر دیکھتے رہیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.