مہنگائی کی چکی میں پس رہی عوام کی کمر مزید توڑنے کی تیاریاں

بجلی کی قیمت میں تقریباً 2 روپے فی یونٹ اضافے کے اعلان کے بعد بھی قیمت میں مزید اضافہ کرنے پر غور

0 77

مہنگائی کی چکی میں پس رہی عوام کی کمر مزید توڑنے کی تیاریاں، بجلی کی قیمت میں تقریباً 2 روپے فی یونٹ اضافے کے اعلان کے بعد بھی قیمت میں مزید اضافہ کرنے پر غور۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی زیر صدارت ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی سماعت ہوئی۔ سی پی پی اے نے ایک روپے 80 پیسے فی یونٹ اضافہ کی درخواست کی تھی جس سے صارفین پر مجموعی طور پر 13 ارب 60 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
سماعت کے دوران چئیرمین نیپرا کو بتایا گیا کہ دسمبر میں ایل این جی میں کمی سے گیس سے کم بجلی پیدا ہوئی اور فرننس آئل استعمال سے 3 ارب 60 کروڑ روپے کے اخراجات ہوئے، کوئلہ سے بھی زیادہ بجلی بنا کر صارفین کو ریلیف دیا گیا ۔
چیئرمین نیپرا نے کہا کہ بجلی کی قمیت میں اضافہ سی پی پی اے کے دلائل کا بغورجائزہ لینے کے بعد کیا جائیگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے فی یونٹ بجلی کی بنیادی قیمت میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔

پاور ڈیژن کے مطابق ملک میں بجلی کا فی یونٹ اس وقت 13 روپے35 پیسے کا ہے، جبکہ حکومت نے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 95 پیسے اضافہ کردیا ہے۔ بجلی کی قیمت میں اضافے سے فی یونٹ 15 روپے 30 پیسے کا ہوگیا ہے۔ بجلی کی قیمت میں اضافے سے صارفین پر 200 ارب کا مالی بوجھ بڑھ جائے گا۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ پچھلی حکومت ہمارے لیے بارودی سرنگیں کھود کرگئی تھی، کیپسٹی پیمنٹ ہمارے لیے ورثے میں چھوڑ کرگئی، یہ استعمال کریں یا نہ کریں ادائیگی کرنی ہی ہوتی ہے، 2019ء تک 227 ارب چھوڑ کر گئے، اگر اس حساب سے بجلی کی قیمت بڑھاتے تو2 روپے 61 پیسے فی یونٹ بنتا، ہم نے صرف 23 پیسے اضافہ کیا، 2روپے 38پیسے کی سبسڈی دی گئی، جو کہ 247ارب روپے بنتے ہیں۔
2013ء کیپسٹی پیمنٹ 185 ارب ، 2018ء میں 468 ارب اور 2019ء میں 642 ارب، 2020ء میں 860 ارب اور 2023ء تک 1455 ارب ہوجائے گی۔ یہ بھی بارودی سرنگ ہے جو مسلم لیگ ن کی حکومت نے بدنیتی کے ساتھ کارخانے لگائے، ان کارخانوں سے 45 فیصد بجلی درآمد شدہ فیول سے بنتی ہے، اس کی وجہ سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے بجلی کی فی یونٹ قیمت ایک روپے 95 پیسے اضافہ کردیا، بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر200 ارب کا بوجھ بڑھے گا،ن لیگ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بجلی مہنگی کرنا پڑرہی ہے۔ ہم کورونا کے دوران 473 ارب کی سبسڈی فراہم کی ہے، یہ سبسڈی صرف پاورسیکٹر میں دی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.