خواتین کے حقوق کا تحفظ تحریر : مہرین فاطمہ ۔مظفر گڑھ

Protection of Women's Rights By: Mehreen Fatima Muzaffargarh

0 8

( Sexual Harassment) انگریزی کے دو الفاظ کا ترجمہ ہے۔ ہراس فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب خوف اور ڈر کے ہیں۔ یہ اسم ہے اور اس کا فعل ہراساں کرنا اور ہراساں ہونا ہے۔

دنیا بھر میں ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
جنسی ہراسگی کسی خاص علاقے، معاشرے،ملک کے ساتھ مخصوص نہیں۔دنیا کے سارے براعظموں اور معاشروں میں یہ وبا موجود ہے۔کہیں کم اور کہیں زیادہ۔۔۔

یعنی یہ دنیا بھر کا مسئلہ بن چکا ہے ہمہیں یہ سمجھنا ہے کہ جنسی ہراسگی ہے کیا؟
” جنسی ہراسگی یا ہراسمنٹ”کیا ہے؟

پاکستان کے قانون اور عالمی اخلاقیات کے حساب سے دیکھیں تو

* کسی بھی خاتون کو اس کی مرضی کے خلاف چھونا

*اخلاق سے گری گفتگو کرنا

* علیحدگی میں ملنے پر مجبور کرنا

* امتحان میں کامیابی یا انڑویو میں پاس کرنے کے لیے جنسی ہراسگی کی شرط رکھنا

*کام کی جگہ پر اپنی پوزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے کسی کو جنسی تعلقات پر مجبور کرنا

جنسی طور پر ہراساں کرنا کہلاتا ہے۔

لیکن ہمہیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جنسی طور پر ہراساں کرنا بہت ہی پیچیدہ موضوع ہے۔اج کے جدید اور تیزی سے بدلتے اس دور میں واضح حدود مقرر کرنا بہت مشکل ہے۔

لیکن پھر بھی سماجی علوم کے ماہرینِ

*کسی کو دیکھ کر مسکرانا

*کسی کی خوبصورتی کی تعریف کرنا

*کسی کو شادی کی پیشکش کرنا

جیسے معاملات کو جنسی طور پر ہراساں کرنا نہیں سمجھتے۔

پاکستان میں جب بھی جنسی ہراسگی کا کوئی بھی کیس آتا ہے تو "مغرب زدگان” مغرب کی جنسی تعلیم کو اس مسئلے کا علاج باور کرواتے ہیں۔

اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مغرب کے سیکولر اور لبرل ممالک ناں صرف اس درندگی سے پاک ہیں بلکہ انہوں نے جنسی تعلیم کے ذریعے خود کو اس حوالے سے "جنت”بنا لیا ہے۔جبکہ پاکستان جیسا مذہبی ملک اس کی آماجگاہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ان کے جیسا لبرل اور سیکولر ملک نہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے؟

یورپ کے دس ممالک میں جنسی ہراسگی کے واقعات بہت رونما ہوتے ہیں یہ سارے مسلم ممالک نہیں بلکہ عیسائی ممالک ہیں:

* دسویں نمبر پر ایتھوپیا ہے جس کی ساٹھ فیصد خواتین کو جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اور ہر سترہ میں سے ایک خاتون جنسی ہراسگی کا شکار ہوتی ہے۔

*جنسی ہراسگی کا نواں بڑا ملک سری لنکا ہے۔

*خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور بے حرمتی کے حوالےسے آٹھواں بڑا ملک کینیڈا ہے۔جہاں 2،516918 جنسی ہراسگی کے 2001ء سے اب تک رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔وہاں کے سرکاری محکموں کا یہ ماننا ہے کہ یہ رجسٹرڈ کیسز ٹوٹل کا چھ فیصد بھی نہیں ہیں۔یاد رہے کہ یہ بھی کوئی مسلم ملک نہیں بلکہ ایک لبرل اور آزادی پسند ملک ہے جہاں حقوق اور سماجی انصاف کی صورتحال سب ممالک سے بہتر قرار دی جاتی ہے۔

* ساتویں نمبر فحاشی اور عریانی، جسے لوگ آزادی اور حقوق بھی کہتے ہیں، کے لحاظ سے سرفہرست فرانس کو قرار دیا جاتا ہے۔1980ء سے پہلے تک یہاں جنسی ہراسگی کو کوئی جرم نہیں سمجھا جاتا تھا۔بلکہ اس کے سدباب کے لیے کوئی قانون سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ عورت پر جنسی اور جسمانی تشدد کا قانون 1992ء میں بنایا گیا ۔اب فرانس جیسے لبرل ملک میں سالانہ 75000 جنسی ہراسگی کے کیس رجسٹرڈ کیے جاتے ہیں۔

*چھٹے نمبر پرٹیکنالوجی کے بادشاہ جرمنی کا نمبر آتا ہے۔ جہاں اب تک 6505468 کیس رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔
* پانچواں نمبر انگلینڈ کا آتا ہے جہاں 16 سے 56 سال کی عمر کی ہر پانچ میں سے ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ سالانہ چار لاکھ خواتین جنسی ہراسگی کا نشانہ بنتی ہیں۔

* چوتھا نمبر پر بھارت آتا ہے جہاں ہر بائیس منٹ کے بعد ایک کیس رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔ جرائم کے اعداد وشمار کو اکٹھا کرنے والے سرکاری ادارہ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کے مطابق بھارت میں سال 2018ء میں اوسطاً ہر روز 91 خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کی شکایت درج کرائی گئی۔

دو سال بعد جاری کی گئی رپورٹ کے یہ اعداد وشمار بھارت کی خواتین کی سلامتی کے حوالے سے تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔2012ء میں ایک بس میں پیرامیڈیکل طالبہ نربھیا کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور مجرموں کے لیے سخت قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لیکن قانون سازی ہونے کے باوجود خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں کمی نہیں ہو رہی۔

این سی بی آر کی رپورٹ کے مطابق2018ء میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے 33356 معاملات درج کرائے گئے۔ جب کہ خواتین کے خلاف جرائم کے مجموعی طور پر تین لاکھ 78 ہزار 277 معاملات درج کیے گئے۔ قصورواروں کو سزا دینے کی شرح محض ستائیں فیصد رہی۔

* اور آخر میں امریکہ جو سیکولرازم اور لبرل ازم کہ جنت ہے ، دنیا کی سب سے مضبوط”جمہوریت”،جس کا تعلیمی نظام بہترین،انسانی حقوق کا "علم بردار”جس کا عدالتی نظام بے مثال اور پولیس لاجواب،اور اس کی معیشت شاندار ہے، مگر امریکہ جنسی درندگی کا شکار ہونے والی خواتین اور بچوں کے لیے جہنم نظر آتا ہے۔

یہاں کیس بھی عجیب و غریب واقع ہوئے ہیں کہ یہاں پھر ہر چھ میں سے ایک خاتون جنسی ہراس کا شکار ہوتی ہے، مگر پر 33 میں سے ایک مرد بھی عورتوں کے ہاتھوں جنسی ہراس کا شکار ہوتا ہے19.3% عورتیں اور 3۔8% امریکی مرد کم سے کم ایک بار جنسی ہراس کا لازمی شکار ہو چکے ہیں۔

"Rape,Abuse,and Incest National Networking” یا RINN

کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں1998 ء سے اب تک جنسی ہراسگی کے ایک کروڑ 77 لاکھ کیس رپورٹ ہوئے۔ ان میں 99 فیصد ذمہ داروں کو سزا نہیں دی جا سکی۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر سال 3 لاکھ 21 ہزار 500 کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔

امریکہ کی ایک معروف ویب سائٹ Huffington Post ہے۔اس ویب سائٹ کی خواتین امور کے متعلق ایڈیٹر Alanna Vagianos کے ایک مضمون "Alarming statistics that show the reality of 30 sexual violence” کے مطابق امریکہ میں ہر 98 سکینڈ میں کسی نہ کسی پر ایک "جنسی حملہ”ہوتا ہے۔ اس مضمون کے مطابق امریکہ میں روزانہ 570 افراد پر جنسی حملہ ہوتا ہے۔

امریکی فوج امریکہ کی اصل طاقت ہے۔اور ان کی تربیت مثالی ہے۔ اور اس کے نظم و ضبط کا حوالہ دیا جاتا ہے۔28 مئی 2014ء کے نیویارک ٹائمز کے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں امریکہ کے محکمہ دفاع نے انکشاف کیا ہےکہ صرف 2012 ء میں امریکی فوج میں 26000 ہزار خواتین پر جنسی حملے کئے ۔

اب بات کرتے ہیں وطن عزیز پاکستان کی”ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر دو گھنٹے میں زیادتی کا ایک کیس اور ہر آٹھ گھنٹے بعد اجتماعی زیادتی کا ایک کیس سامنے آتا ہے۔ عمر اور جنس کی کوئی حد نہیں بچہ ، بوڑھا،مرد عورت ،زندہ یہ مردہ ہو سکتا ہے۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ محض 9 فیصد کیس درج شدہ ہیں اور 91 فیصد کیسز کبھی درج بھی نہیں ہوئے .ان کی وجوہات کی طرف جائیں تو قانونی پیچیدگی،وسائل کا ناں ہونا، معاشرتی دباؤ اور مختلف عوامل شامل ہوتے ہیں۔

پاکستان میں "می ٹو مہم”کا آغاز اپریل 2018ء میں اداکارہ وگلوکار میشا شفیع کی ایک ٹویٹ سے ہوا جنہوں نے اپنے ساتھی گلوکار و اداکار علی ظفر پر انہیں جنسی ہراسگی کا الزام لگایا۔

علی ظفر نے اس الزام کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف دعویٰ کر دیا۔جواب میں میشا شفیع نے علی ظفر پر دو ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کر دیا۔اس معاملے کو تقریباً ڈیرھ سال گزر چکا ہے لیکن اس قانونی جنگ کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

2019 ء کی بات کرتے ہیں تو کل ملا کر خواتین کے ساتھ 3881 کیسز رپورٹ ہوئے،بچوں کے ساتھ جسمانی اور جنسی زیادتی 2687 کیس رپورٹ ہوئے۔

صورتحال 2020ء میں بھی نہیں بدلی پہلے تین مہینوں کی بات کی جائے تو کل 500 سے زائد کیس رپورٹ ہوئے۔جس میں اجتماعی زیادتی کے 27 اور وفاقی دارالحکومت میں 22 دنوں میں 20 کیس رپورٹ ہوئے

"پاکستان میں جنسی ہراسمنٹ کا مسئلہ کتنا بڑا ہے؟”

2014ء میں پاکستان کے دفاتر میں ہونے والے جنسی ہراس سے متعلق قانون بنوانے والے اور قوانین کے نفاذ پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم،”مہر گڑھ”کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں خواتین نے تقریباً تین ہزار سے زائد کیس درج کروائے۔ 2014ء سرکاری محتسب کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2011 سے،اپریل 2014 تک،173 کیس درج ہوئے،جن میں 77 فیصد کا تعلق سرکاری دفاتر سے تھا۔

” پاکستان میں جنسی ہراس کے خلاف قوانین”

پاکستان بھر جنسی ہراس کے سلسلے میں دو قسم کے قوانین لاگو ہوتے ہیں:

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 509 اور 2010ء میں عورتوں کو دفاتر میں ہراساں کیے جانے کے خلاف متعارف کروائے گئے قوانین۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 509 کے تحت عوامی مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنا قانوناً جرم ہے۔جنسی زیادتی کرنے پر زیادہ سے زیادہ تین سال قید یا پانچ لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

اس قانون کے تحت تمام سرکاری، اور غیر سرکاری اداروں میں ہراسانی کی شکایات سننےکے لیے ادارہ جاتی کمیٹیاں لازم قرار دیا گیا ۔ابھی تک اس قانونی تقاضے پر عمل درآمد نہیں ہوا لیکن اس جیسی بہت سی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ صرف کمیٹیاں بنانے سے مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جاسکتا جب تک اس پر مکمل عمل درآمد نہ ہو۔ طاقتور کے ساتھ عموماً انتظامیہ گٹھ جوڑ کر لیتی ہے اور خواتین کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں کہ وہ خود ہی صلح صفائی پر راضی ہو جاتی ہیں۔

اس قانون کو بنے تقریباً 10 سال ہوچکے ہیں۔ اس کے لیے اہم ہے کہ اس قانون کی راہ میں حائل تکنیکی مسائل کو دور کیا جائے اور پتہ لگایا جائے کہ اس قانون کی ایسی کون سی خرابی ہے ،جس کو دور کر کے اس قانون کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ایسے افراد جو ان اداروں میں کام کرتے ہیں ان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

اور ان کو غیر جانبدار بنایا جائے۔حکومت وقت کو چاہیئے کہ اس گناہ میں شامل ذمہ داروں کو شرعی طور پر جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں،ان کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے۔اور اپنے معاشرے کو اس سنگین مسئلے سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

قانون سازی اپنی جگہ ایک درست عمل ہے مگر ہمارے معاشرے کو ذہنی تربیت اور کردار سازی کی بھی اشد ضرورت ہے کیونکہ جب تک مرد اور خواتین کو اپنے اداروں میں احساس و تحفظ نہیں ہو گا وہ یوں ہی چپ چاپ اور خوف کے عالم میں زندگی گزاریں گے۔

اور مہذب قومیں اپنی عورتوں کے حقوق اور عزت کا تحفظ کرتی ہیں۔ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہم سب کو مل کر اپنی ماؤں،بہنوں اور بیٹیوں کی عزت نفس کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کرنے چاہیئے ۔یہ نئے وقت کا تقاضا بھی ہے اور ضرورت بھی۔ بلاشبہ نئے اور بدلتے حالات میں پاکستانی مرد اور عورتیں مل کر ہی اپنی قوم کے شاندار مستقبل کی ضمانت ہیں۔۔۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.