ہمارے جاسوس رہا کیے جائیں،بھارت کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست

کلبھوشن کے علاوہ بھی کئی جاسوس پاکستانی جیلوں میں قید ہیں

0 6

کلبھوشن کا کیس ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔ملٹری کورٹس نے تو سزادے دی تھی لیکن بھارت عالمی عدالت چلا گیااور وہاں سے پاکستان کی سول عدالتوں میں کیس آ گیا۔

مگر بھارت نہ تو پہلے سازشیں اور جاسوسی کرنے سے باز آیا تھااور نہ ہی اب آ رہا ہے۔اس وقت درجن بھر سے زائد بھارتی جاسوس پاکستانی جیلوں میں اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں جنہیں جیلوں سے نکالنے کے لیے بھارت سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔

اس وقت کرمنل موسٹ وانٹڈ کی طرح کلبھوشن کو پاکستان سے لے جانا بھارت کی سب سے پہلی خواہش ہے مگر اس کے علاوہ کچھ اور جاسوس بھی ایسے ہیں جنہیں واپس لے جانے کے لیے بھارت دن رات محنت کر رہا ہے۔

فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے بھارتی جاسوسوں کی رہائی کیلئے بھارتی ہائی کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے، جس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی کریں گے۔

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بیرسٹر ملک شاہ نواز نون نے بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے

جس میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 4 بھارتی جاسوسوں ستیش بھگ، بنگ کمار، سونو سنگھ اور برجو کی رہائی کیلئے درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پاکستان میں گرفتار ہونے والے 4 بھارتی جاسوس جن میں سے 3 مجرم لاہور جبکہ ایک کراچی کی جیل میں قید ہیں پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کی کارروائی پر گرفتار کیے گئے، یہ چاروں مجرم جیل میں قید ہیں اور اپنی سزا پوری کرچکے ہیں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ قانونی طور پر اب ان چاروں مجرمان کے جیل میں قید رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔

آئین پاکستان بھی سزا پوری ہونے کے بعد مجرمان کو جیل میں قید رکھنے کے خلاف ہے، عدالت فی الفور ان چاروں بھارتی شہریوں کی رہائی کا حکم دے اور ان کے واپس اپنے ملک جانے کیلئے ضرور ی انتظامات کرنے کی بھی ہدایات کرے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.