شام سخن – علی پور چٹھہ –!!! تحریر قمر ریاض

Sham Sokhan - Alipur Chatha - !!! Written by Qamar Riaz

0 24

محبت خوشبو کی طرح ہوتی ہے ہمیشہ پھیلتی چلی جاتی ہے آپ لوگوں سے محبت کریں لوگ آپ سے محبت کرنا شروع کر دیں گے اسی طرح اپنا شہر اپنی عزت ہوتی ہے

 

آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں آپ جس مٹی پر پیدا ہوئے ہوں اس کا حق ادا نہیں کریں گے تو وہی مٹی آپکو فراموش کر دے گی اس مٹی سے جڑے لوگ آپکو پہچاننے سے انکار کر دیں گے

 

اور اگر آپ اپنی مٹی سے جڑے لوگوں سے محبت کریں گے تو وہی لوگ آپکو اپنے سر کا تاج بنا لیں گے میں اللہ تعالی کا صد شکر بجا لاتا ہوں کہ میں اپنے وطن اور اپنے شہر کی مٹی سے جڑا ہوں یہی وجہ ہے

 

کہ اللہ تعالی نے جس قدر عزت و احترام سے نوازا ہے اس کا شکرانہ ادا کرنا بھی میری اوقات سے باہر ہے البتہ اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز ہوں کہ وہ اس وقار اور عزت کو کسی بھی کم ظرف سے محفوظ رکھے –

 

Sham Sokhan – Alipur Chatha – !!! Written by Qamar Riaz

چوہدری اکمل سیف چٹھہ ہمارے علی پور چٹھہ کے سابقہ ایم پی اے اور پارلیمانی سیکرٹری رہے اور جہاں تک ممکن ہوا مسلم لیگ ن کے دور میں ترقیاتی فنڈ اس علاقے کے لئے لے کر آئے

 

اور کام بھی کروائے جبکہ علم و فن کے فروغ کے لئے بھی ہمیشہ پیش پیش رہے گزشتہ انتخابات میں پارٹی تعلقات میں سرد مہری کے باعث الیکشن سے دور رہے مگر اپنی وفاداری نہیں بدلی –

 

آجکل ہوم اسکولز علی پور چٹھہ کے نام سے ایک بڑے اور معیاری اسکول کی سرپرستی کر رہے ہیں جسے اسکول کے روح رواں پرنسپل جناب بابر بلال بہت احسن طریقے سے چلا رہے ہیں اور دن بدن طلباء کی تعداد میں اضافہ بھی ہو رہا ہے –

 

میں اس بار پاکستان آیا تو میرے محبی ڈاکڑ سلیمان عبداللہ ڈار نے بتایا کہ اکمل سیف چٹھہ چاہتے ہیں کہ ان کے اسکول میں میرے آنے پر کوئی ادبی پروگرام منعقد کیا جائے تو آج شام کافی ان کی ساتھ پیئیں گے

 

ساتھ کسی ادبی محفل کے انتظام کو ترتیب دیں گے اس طرح ادبی تنظیم دھنک کے سالہا سال سے فعال صدر ثاقب تبسم ثاقب اور دھنک سے وابستہ پروفیسر کاشف مصطفی ہمراہ ہو لئے ارادہ تو مختصر مگر پھر کسی جامع ادبی نشست کا تھا مگر میرے لئے مشکل تھا کہ میں اپنے شہر میں کسی کو دعوت دوں اور پھر اس میں میرے تمام دوست شریک نہ ہوں

 

اور دوست بھی ایسے جو ادبی دنیا میں عالمی شہرت رکھتے ہیں جیسا کہ اہلیان علی پور چٹھہ نے دیکھا کہ کم و بیش 15 سے 16 لوگ اک مختصر سے وقت میں ترتیب دی گئی شام سخن میں شریک ہوئے – بس مجھے دکھ ہے

 

کہ اکمل سیف چٹھہ بھائی دل کی انجیو گرافی کے باعث علی پور چٹھہ میں ہوتے ہوئے اس میں شریک نہ ہو سکے البتہ ان کے والد گرامی اور نامور سیاسی شخصیت چوہدری سیف علی چٹھہ خصوصی طور پر تشریف لائے اور وجیہہ نظامی ، شبہیہ سین ، عمار یاسر اور ضبیہہ سین کو بے حد داد دیتے رہے-

 


وجیہہ نظامی محبت کا استعارہ ہے جب ستار کے تار چھیڑتا ہے تو دلوں کے تار چھیڑ دیتا ہے اس بار زیادہ سننے کا موقع تو نہ ملا مگر جتنا ملا اس نے سماں باندھ دیا راگ پیلوں اور بردہ شریف کے علاوہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی دھن نے محفل سماع کو چار چاند لگا دئیے وجیہہ نظامی اور شبہیہ سین اپنی مصروفیات کے باوجود وقت نکال کر اس محفل مشاعرہ میں اسلام آباد سے شریک ہوئے –

 

ہوم اسکولز کے خوبصورت سبزہ زار انتظام انصرام کا دن بھر بابر بلال جائزہ لیتے رہے اور جو بھی چیز ہم وہاں پہنچاتے اس کو خوبصورتی سے اسٹیج پر اور گراونڈ میں لگوا دیتے سید مستجاب زیدی ، کاشف مصطفی اور ثاقب تبسم ثاقب ، ہر دلعزیز اخلاق حیدر چٹھہ کے علاوہ ابراہیم شہزاد بھی انتظامات کا جائزہ لینے وقتا فوقتا تشریف لاتے رہے

 

ثاقب تبسم اور کاشف مصطفی کا ایک پاوں اپنے گھر اور ایک ہوم اسکولز میں تھا میرے ذمہ لائٹینگ سے لے کر اسٹیج اور تمام چیزوں کو وہاں دستیاب کرنا تھا اور الحمد اللہ بکثرت دستیابی سے انتظام و انصرام بہت خوبصورت رہے

 

آتش بازی اور بینڈ باجے کا انتظام مزمل ثناء اللہ کے ذمہ تھے جو انہوں نے بخوبی نبھایا مزمل ثناء اللہ بھی اپنی ہی ترنگ کے نمائندہ نوجوان ہیں جو دلوں میں گھر کرنا جانتے ہیں –

 

ڈھول کی تھاپ اور پھولوں کی پتیوں سے میرے گھر پر مہمانوں کا استقبال کیا گیا اور مشاعرہ گاہ میں باقاعدہ شادی کا سماع بندھ گیا جب بینڈ باجے کی دھنوں میں آتش بازی کرتے ہم نے تمام مہمانوں کا پنڈال میں استقبال کیا –

 

وہ دوست جنہوں نے پل پل مشاعرہ کے انتظام کو دیکھا دوستوں یہ سب میرے وہ دوست ہیں جو کاروباری لحاظ سے اپنے بہترین کاروبار چلا رہے

 

اور کئی اعلی عہدوں پر فائز ہیں مگر محسوس ایسا ہوتا تھا کہ میرا پورا شہر اس دن میزبان ہے اور یہی میرے علی پور چٹھہ کی خاص بات ہے یہ میرے والد گرامی چوہدری ریاض احمد چشتی کا شہر ہے جہاں ہم نے ان کی زیر نگرانی انجمن طلباء اسلام کو بنتے دیکھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کئی تنظیموں کے بانی بننے کے علاوہ کئی

 

 

Sham Sokhan – Alipur Chatha – !!! Written by Qamar Riaz

مساجد کی تعمیر کی بنیاد انہوں نے رکھی جنازہ گاہ جہاں دن میں جاتے ہوئے ڈر لگتا تھا اس کی اس طرح صفائی کروائی کے رات کو لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر چراغاں کرنے لگے اللہ تعالی انہیں جوار رحمت میں جگہ دے – آمین

 

شام سخن مشاعرہ کیا تھا ایک تاریخ تھی جو علی پور چٹھہ میں رقم ہو رہی تھی خوبصورت شامیانوں میں روشنیوں اور شہنائیوں سے بھری شام دوستوں کا اکٹھ تھا ایک شاعر کی طرف سے دوسرے شاعروں کا استقبال تھا بنیادی وجہ یہ بتانا بھی مقصود تھا

 

کہ کسی لابی کے بغیر بھی مشاعرے کامیاب ہو سکتے ہیں ایک دوسرے کے لئے دلوں میں اتنی جگہ پیدا کی جائے کہ ادبی دنیا میں ہر نئے آنےوالے کے لئے دلوں میں وسعت پیدا کی جا سکے –

 

 

شہر لاہور سے میرے محبی و مہربان و محبتی ہمہ جہت لیونگ لیجنڈ عطا الحق قاسمی گھٹنوں کی سرجری کے باوجود بھی شریک ہوئے ان کے جملے اب بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں ” قمر یار ہے تو تکلیف لیکن میں آواں ای آواں ” اور وہ آئے اور چھا گئے جتنی دیر بیٹھے رہے لوگوں کی توجہ اور محبت کا مرکز بنے رہے

 

عطا الحق قاسمی صاحب کا یہ بڑا پن اور اعلی ظرف ہے کہ وہ جس سے محبت کرتے ہیں اس پر نچھاور ہو جاتے ہیں مجھے وہ اپنے بیٹوں کی طرح سمجھتے ہیں اور ہمیشہ زندگی میں ترقی کے لئے مفید مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں –

 

قاسمی صاحب کی صدارت میں شام سخن لوگوں کو مدتوں یاد رہے گی کہ جہاں عطا الحق قاسمی موجود ہوں وہاں ہر چہرے پر مسکراہٹ کا ہونا فطری ہے – اس عہد حاضر میں سب سے بڑے مزاح نگار جناب عطا الحق قاسمی ہمارا اثاثہ ہیں –

 

 

عباس تابش خیال و خواب کا ایک خوبصورت روپ ہیں جن کے اندر وہ شعری آبشار ہے جس دیکھنے کے بعد موجودہ شعری منظر نامہ بے حد خوبصورت دکھائی دیتا ہے ہمیشہ جب بھی میں نے یاد کیا بہت محبت سے نوازا اور جہاں بلایا تشریف لائے چھوٹے بچوں کی طرح شفقت فرمائی ایک برے وقت میں عباس تابش نے میرا بے حد ساتھ دیا تھا

 

وہ دن اور آج کا دن میں ہمیشہ ان کا احسان مند رہا ہوں مشاعرہ گاہ میں ان کی موجودگی ہی مشاعرے کے وقار میں اضافہ کر دیتی ہے –

قمر رضا شہزاد کیا وضع دار شخصیت ہیں کہ ملتان سے خود ڈرائیو کر کے تشریف لائے ہمیں بے حد محبت سے نوازا کئی لوگ قمر رضا شہزاد سے ملنا چاہتے تھے قریب سے دیکھنا چاہتے تھے

 

Sham Sokhan – Alipur Chatha – !!! Written by Qamar Riaz

انہیں سننا چاہتے تھے موجودہ شعر و سخن کے منظر نامے میں قمر رضا شہزاد کا مقام اپنی جداگانہ حیثیت اختیار کر چکا ہے جہاں ہجر و وصال کے درمیان کے فاصلے بھی باہم ہو جاتے ہیں

 

یوسف خالد میرے کالج کے استاد ہیں جنہوں نے مجھے بولنا سکھایا تمیز سکھائی اخلاق سکھایا ایسے شاعر کے ان کی نظمیں ان کے قطعات ان کی غزلیں شعری منظر نامے میں بالکل الگ تھلگ اور باوقار ہیں کسی شاگرد کے لئے اس سے بڑھ کر اعزاز بھلا اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کا استاد اپنی کتاب اپنے شاگرد کے نام انتساب کر دے

 

اس مشاعرہ میں ان کی نئی کتاب ” قوس خیال ” کی تصویری رونمائی بھی کی گئی جس کو انہوں نے میرے نام انتساب کیا ہے اور یہ میرے لیے میرا سرمایہ حیات ہے – آپکو لوگوں نے بہت محبت سے سنا – آپ بھی سرگودھا سے خود ڈرائیو کر کے علی پور چٹھہ تشریف لائے اور یہاں کے لوگوں سے بے پناہ محبت پائی –

 

 

 

سعد اللہ شاہ کے لئے یہ شعری منظر نامہ نیا نہیں ہے وہ داد و تحسین اور واہ واہ کی پکاریں آج سے کئی سال پہلے سے سمیٹتے چلے آ رہے مجھے یاد ہے کہ کالج لائف میں سعد اللہ شاہ کی غزل

 

” جہاں پھولوں کو کھلنا تھا وہیں کھلتے تو اچھا تھا
تمہیں کو ہم نے چاہا تھا تمہیں ملتے تو اچھا تھا "

 

چھپی تو ہر طرف دھوم مچ گئی علی پور چٹھہ میں بھی آپکو بے حد داد و تحسین سے نوازا گیا آپ نے 92 اخبار میں مشاعرے کے حوالے سے خوبصورت کالم بھی تحریر کیا جس کے لئے ان کا الگ سے شکریہ

 

جناب ادریس قریشی منڈی بہاوالدین سے خصوصی طور پر تشریف لائے اور مشاعرہ گاہ میں ایسا آغاز کیا کہ ہر طرف سے داد و تحسین اور واہ واہ ملنے لگی لوگوں نے آپکی مزاحیہ شاعری کو بے حد پسند کیا ادریس قریشی عرصہ دراز سے طنزو مزاح کے شعری منظر نامے پر بہت خوبصورتی سے اپنی جگہ قائم کر چکے ہیں

 

علی پور چٹھہ کے مشاعرے میں ایک منفرد نام اکرام عارفی کا بھی تھا اکرام عارفی نہ صرف تحت اللفظ میں پڑھتے ہیں بلکہ ان کے منفرد ترنم کا بھی جواب نہیں انڈیا کے شاعروں کے مقابلے میں ترنم سے بھرپور شاعر اگر کوئی پاکستان کی طرف سے پیش کیا جا سکتا ہے

 

تو وہ اکرام عارفی ہے جو اپنے فکر و فن میں مضبوط شعری سخن کے مالک ہیں ان کی محبت کے میرے شہر تشریف لائے-

علی زریون کی شہرت سے کون واقف نہیں میرا یہ جگری دوست اس عہد کے شعری منظر نامے پر شہرت کی بلندیوں پر براجمان ہے اور یہ شہرت ان کے فن اور مسلسل شعری ریاضت کا ثمر ہے علی زریون نہ صرف ایک مقبول شاعر ہیں

 

Sham Sokhan – Alipur Chatha – !!! Written by Qamar Riaz

بلکہ انسانی رویوں کے حوالے سے بڑا آدمی ہے ہر کسی کا احترام اور ہر کسی سے عاجزی سے ملنا ہی لوگوں کی محبت حاصل کرنے کے لئے کافی ہے علی زریون نے علی پور چٹھہ کا مشاعرہ کیا پڑھا ہر ذی محفل کا دل جیت لیا لوگوں نے بہت محبت سے سنا اور لوگوں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ علی زریون کو سنتے رہے مگر وقت کی کمی حائل رہی –

 

 

تہذیب حافی آجکل لاہور میں ہوتے ہیں وہاں سے میری دعوت پر خصوصی طور پر تشریف لائے نوجوان نسل کے نمائندہ شاعر کے طور پر ہر طرف ان کی دھوم مچی ہوئی ہے میرا نہیں خیال کہ اس وقت کوئی بھی شعری ذوق رکھنے والا فرد تہذیب حافی کے نام سے ناواقف ہو اگر ایسا کہا جائے

 

کہ آج کے شعری منظر نامے پر میرے دوست تہذیب حافی کا ڈنکا بج رہا ہے تو بے جا نہیں ہو گا انہیں سننے کے لئے وفاقی وزیر شہر یار خان آفریدی کے بھائی شکیل خان آفریدی خاص طور پر تشریف لائے اور محفل کی جان بنے رہے شکیل خان آفریدی اپنی ذات میں ایک الگ ادب دوست کی حیثیت سے شناخت قائم کر چکے ہیں

 

انہوں نے ہر اچھے شعر پر داد دی اور ہمارے مشاعرہ کے مہمان بنے میں ان کا شکرگزار ہوں – تہذیب حافی سے دوستوں کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کے نعرے پنڈال میں گونجتےرہے حافی نے بے حد داد سمیٹی –

 

ابرار ندیم چونکہ مزاح نگار بھی ہیں اس لیے اپنے مخصوص انداز میں بولے گئے جملوں سے ہر کسی کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھیر گئے پھر پنجابی شاعری پیش کی جس پر انہیں بے حد داد ملی
نبیل نجم کم گو مگر پنجابی شاعری میں بلند شعری آہنگ رکھنے والا یہ شاعر مشاعروں میں بھی کم سناتا ہے

 

مگر جتنا سناتا ہے اس پر تالیوں کی گونج کم نہیں ہوتی علی پور چٹھہ سے نبیل نجم کی شناسائی پرانی ہے اور یہ شناسائی محبت ہے

 

اسد رضوی رسولنگر سے تشریف لائے اور گلہ کیا کہ شائد انتظامیہ جلد اسٹیج پر انہیں بلانا بھول گئی ہے اور انہیں نظر انداز کیا گیا ہے

 

حالانکہ انہیں ان کے مقام پر پڑھنے کا موقع دیا گیا لوگوں نے انہیں محبت سے سنا اور داد و تحسین پیش کی –

 

خرم آفاق ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر ہیں اور اچھا لکھ رہے ہیں علی پور چٹھہ کے مشاعرہ میں مشاعرہ پڑھا تو گویا ان کی شعری پرتیں ہم پر کھلتی چلی گئیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

 

میرے دوست وقاص عزیز کے بارے میں یار دوستوں نے بہت الٹی سیدھی باتیں مشہور کر رکھی ہیں جن میں سب سے اول یہ کہ وقاص عزیز کسی کا لحاظ نہیں کرتا اور ہر وقت ادبی لڑائیوں میں گھرا رہتا ہے

 

مگر ہم سب نے دیکھا کہ مختلف الخیال شاعروں کی محفل کو جتنی خوبصورتی سے وقاص عزیز نے چلایا ایسا کرنا بہت مشکل تھا وقاص عزیز نے زندگی کے کئی رنگ دیکھ لئے اب اس کا رجحان تخلیق اور صرف تخلیق کی طرف ہے صحافی ہونے کی حیثیت سے بھی وقاص اپنے دبنگ انداز گفتگو سے بغیر لگی لپٹی رکھے سچ کی صحافت کو فروغ دے رہے ہیں –

 

علی پور چٹھہ سے انہیں بے تحاشا محبت ملی اور لوگ انہیں یاد رکھیں گے –

 

سید سلمان گیلانی کو کون نہیں جانتا جناب انور مسعود کے بعد بلا شک و شبہ مزاحیہ شاعری کے امام کے طور پر ان کا نام لیا جا سکتا ہے سید سلمان گیلانی خوبصورت لحن کے مالک ہیں اور جب یہ مشاعرہ پڑھیں

 

تو ان کے بعد شاعروں کے لئے مشاعرہ پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے علی پور چٹھہ میں آپ دن میں تشریف لائے پہلےعصر میں ایک مقامی مسجد میں محفل نعت پڑھی اور پھر رات کو ہمارے مشاعرے پر تشریف لائے اور خوب داد سمیٹی-

 

کاشف مصطفی پروفیسر ہیں مگر علم والے پروفیسر ہیں آغاز کی نقابت ان کے ذمہ تھی مگر انہوں نے نقابت کے ساتھ ساتھ پنڈال کے دیگر انتظامات بھی سنبھال رکھے تھے بہت شگفتہ طبعیت کے مالک ہونے کے علاوہ دوستوں کی محفل کا رنگ جمانے میں کاشف مصطفی کی باتیں خوشبو بکھیرتی رہتی ہیں

 

میرے دوست اور بھائی ثاقب تبسم ثاقب نے مشاعرہ پڑھا اور بے حد محبت سمیٹی لوگوں نے ثاقب کو اس کامیاب مشاعرے اور محفل سماع پر بے حد مبارکباد سے بھی نوازا اور میں سمجھتا ہوں یہ ثاقب کا حق ہے

 

اس نے ادبی تنظیم دھنک کو اتنے سالوں سے اپنے پیروں پر کھڑا کر رکھا ہے اللہ انہیں صحت و تندرستی دے کہ ایسی محافل ان کی سربراہی میں سجتی رہیں – ثاقب تم وفاداری اور محبت کا استعارہ ہو

یونس تحسین بلاشبہ علی پور چٹھہ کا بہت اچھا شاعر ہے اور شعری دنیا میں اپنا نام بنا چکا ہے اور اللہ تعالی اسے مزید ترقی بھی دے رہا ہے

 

اس مشاعرے میں لوگوں نے یونس کو بہت داد دی مشاعرہ شروع ہونے سے لے کر آخری مہمان کے میرے گھر سے واپس چلے جانے تک یونس تحسین ہمارے ساتھ رہے اور ہر تصویر نگاری میں بھی شامل رہے جس کی مجھے خوشی ہے

 

لیکن سوشل میڈیا پر ان کی طرف سے کوئی تحریر اس مشاعرے کے حوالے سے دیکھنے میں نہیں آئی حالانکہ وہ کسی چھوٹے سے مشاعرے سے بھی ہو کر تشریف لائیں تو اس کا احوال ضرور بتاتے ہیں اس بات کی سمجھ نہیں آئی –

 

میرے رفیق ، دوست اور محبی ڈاکڑ سلیمان عبداللہ ڈار کے لئے تو ہمارے اہل علاقہ ویسے ہی اپنا دل فرش راہ کئے بیٹھے ہوتے ہیں اور منتظر رہتے ہیں

 

کہ سلیمان عبداللہ ان سے کوئی بات کریں مشاعرہ میں آپ اپنی الگ ترنگ میں نظر آئے سلیمان عبداللہ ڈار اس وقت تک نثری اور شعری کم و بیش 12 سے زائد کتابیں تخلیق کر چکے اور میں سمجھتا ہوں کسی نے حقیقی اور سچا صوفی دیکھنا ہو تو وہ ڈاکڑ سلیمان عبداللہ ڈار سے مل لے مجسم حلیمی کا پیکر یہ شخص میرے شہر کا اور اردو ادب کا بڑا ادیب ہے اس تاریخی شام سخن کی انہیں میری طرف سے دلی مبارکباد

 

بابر بلال اور میرے بھائی اکمل سیف چٹھہ بے حد مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جن کے ارادے پر اس شام سخن کا اہتمام کیا گیا اور بابر بلال اور ہوم اسکولز بھی اس بڑی تقریب کی میزبانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اس اسکول کی یہ بڑی ایک بہت بڑی تقریب تھی جہاں شہر بھر سے لوگ اس میں شریک ہوئے وہیں

 

اسکول ٹیچرز سے لے کر بچوں کے والدین بھی بہت شوق اور انہماک سے آخر تک مشاعرے میں شریک رہے بابر بلال کی صلاحیتوں کے اکمل سیف چٹھہ تو قائل ہیں ہی ہم بھی قائل ہو گئے البتہ اگر اسکول کی کنٹین پر کھانے کی اشیاء کے ساتھ چائے کے انتظامات بھی ہو جاتا تو بہت سارے دوستوں کا گلہ دور ہو جاتا – اللہ تعالی ہوم اسکولز کو مزید ترقی دے –

 

Sham Sokhan – Alipur Chatha – !!! Written by Qamar Riaz

مجھے علم ہے کہ تحریر بہت لمبی ہو چکی ہے مگر مجھے سب دوستوں کا بطور میزبان شکریہ ادا کرنا تھا اور حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا سید مستجاب زیدی کا میں دن بدن گرویدہ ہوتا جا رہا ہوں انتظامی اور صحافتی صلاحیتوں سے بھرپور ہمارے علاقے کی نامور کاروباری شخصیت جو جس بھی تقریب میں موجود ہوں

 

یا اس کے انتظامی معاملات میں انہیں جگہ دی جائے ان کے مشوروں سے اور اقدامات سے معمولی غلطیاں بھی درست ہو جاتی ہیں شاہ جی سلامت رہیں آپکے دم قدم سے علی پور چٹھہ میں رونقیں آباد ہیں

 

وسیم شیخ ، ناصر کٹرا ، سرفراز احمد ، عبدالکریم چوہدری، طارق چوہدری ، رفاقت جنید مرزا اور مظفر زیدی کئی سالوں سے علی پور چٹھہ میں صحافتی رپورٹنگ کر رہے ہیں اور کئی مسائل کے ساتھ یہاں کی تقاریب کو پاکستان بھر کے میڈیا پر لے کر آنے میں ان کا بڑا کردار ہے جس سے علی پور چٹھہ کا نام بھرپور طریقے سے متعارف ہو رہا ہے –

 

سب سے زیادہ جو ہمارے مہمانوں کا گلہ رہا وہ اس شہر کو آتی ہوئی سڑکیں تھی جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں بس ہماری کسمپرسی دیکھیئے کہ سیاسی حکومتیں ہونے کے باوجود کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا اخلاق حیدر چٹھہ ہمارے علی پور چٹھہ کا وہ سپوت ہے

 

جس نے حال ہی میں تحصیل بناو تحریک سیمینار کا انعقاد کیا اور لوگوں کو احساس دلایا کہ وہ اپنے حق کے لئے آواز بلند کریں یہ سیمینار بہت کامیاب رہا اور ان شاء اللہ جلد یا بدیر اگر علی پور چٹھہ کو تحصیل کا درجہ دے دیا جاتا ہے تو اس سے جڑے کئی مسائل حل ہونے کی امید ہے

 

اور ہو سکتا اگلے چند سالوں میں ہم کسی بڑےمشاعرے کا انعقاد کریں تو یہاں کی سڑکیں بن چکی ہوں-

 

رانا رضوان اختر ، پروفیسر ارشد ، ڈاکٹر جاوید اقبال تبسم ، ڈاکٹر عاصم عاطف ، تبسم اورنگ زیب چٹھہ ، جاوید تابی ، ناصر ادیب شائق ، ڈاکٹر نبی احمد ، نوید یعقوب ، تبریز اکرم ، شفیق احمد خاں اور محسن منیر کے علاوہ کئی علم و ادب سے بے حد رغبت رکھنے والی شخصیات بھی اس شام سخن میں آخر تک موجود رہیں – محسن منیر نے ہمیشہ کی طرح انتظامات میں بہت ساتھ دیا –

 

آخر میں بتاتا چلوں کہ کھانے کی لذت جس کا سب دوستوں نے ذکر کیا اس کا سہرہ میرے چھوٹے بھائی اسد ریاض اور کزن چوہدری افضال کے سر ہے

 

جنہوں نے بہترین انتظامات کر رکھے تھے –

اس مشاعرہ میں خصوصی نعت جناب سید لیاقت الحسن گیلانی نے پیش کی جن کی خوبصورت آواز اور ادائیگی کو بہت سراہا گیا –

 

اس علی پور چٹھہ کے یادگار اور تاریخی مشاعرے کو مدتوں یاد رکھا جائے گا –

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.