جنوبی پنجاب کا مقدمہ ! تحریر : سجاد وریاہ

جنوبی پنجاب کے عوام کے مطالبے،ان کی محرومیوں کے ازالے اور حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ایک نیا صوبہ بنانا چاہئے۔

0 191

پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے،اسکے چھتیس اضلاع ہیں۔آبادی بھی لگ بھگ بارہ کروڑ ہے۔اتنے بڑے صوبے کو انتظامی اُمور کے حوالے سے سنبھالنا بھی ایک کٹھن کام ہے،اسلئے دانشور،سیاسی حلقوں کی جانب سے پورے ملک اور پنجاب میں بھی انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کے حوالے سے آوازیں اُٹھتی رہی ہیں۔چیف ایڈیٹر خبریں جناب ضیا شاہد صاحب نے جنوبی پنجاب کے حق میں ہمیشہ آواز اُٹھائی،روزنامہ خبریں تو باقاعدہ محروم سرائیکی خطے کا ترجمان بنا رہا۔ضیا صاحب تو اپنے ادارے کی سرگرمیوں اور ترجیحات کے حوالے سے ہمیشہ سرائیکی علاقوں کو ایک انتظامی یونٹ کے طور پر ہی دیکھتے،الگ تقریبات،مشاعرے اور کسان میلے،غرضیکہ لاہور سے باہر ایک الگ انتظامی یونٹ کی ضرورت کا پیغام اپنے قول و عمل سے دیتے رہے۔جنوبی پنجاب کے لکھاریوں،شاعروں اور سیاستدانوں کو بھر پور موقع اور پلیٹ فارم مہیا کیا کہ وہ اپنے حقوق کی آواز بلند کر سکیں۔

۱۱ مئی ۹۱۰۲ کو خبریں کے ادارتی صفحے پر میرا کالم ”صوبہ جنوبی پنجاب،دارالحکومت بہاولپور“ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔میں نے صوبہ جنوبی پنجاب کا مقدمہ پیش کیا،استدلال قائم کیا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کے مطالبے،ان کی محرومیوں کے ازالے اور حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ایک نیا صوبہ بنانا چاہئے۔میرے خیال میں صرف پنجاب میں ہی نہیں،پورے پاکستان میں نئے صوبے بنانے چاہئیں۔یہ صوبے انتظامی بنیادوں پر قائم ہونے چاہئیں،لیکن اس میں لسانی پہلو بھی شامل ہو جائے تو کوئی قباحت نہیں اور نہ ہی اس سے زمینی حقائق بدل جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں حالات و خیالات بدل رہے ہیں،لوگ نئی سوچ اور نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپنا انداز ِ فکر ترتیب دیتے ہیں اور طرز معاشرت اپناتے ہیں۔نئی نسل ایک دوسرے کے قریب آچکی ہے،تعلیم کا رجحان اور معاشی مسائل نے نوجوان نسل کے سوچنے کے انداز کو قریب تر کر دیا ہے۔

 

جنوبی پنجاب کے سرائیکی عوام خوبصورت،وسیع سوچ کے مالک ہیں،اب اس خطے میں بسنے والے پنجابی،سرائیکی محبت و اعتماد کے مضبوط رشتے میں بندھ چکے ہیں۔ان میں رشتے داریاں ہونے لگی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جنوبی پنجاب کو توجہ کا مرکز بنایا جائے،کھلی زمینیں،سستی لیبر،صنعتکاروں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے۔جنوبی پنجاب صوبہ بن جائے،اس کے معاملات یہاں کے نمائندوں کو سونپ دیے جائیں،ترقی و خوشحالی اس خطے کا مقدر بن سکتی ہے۔جیسا کہ میں نے مقدمہ پیش کیا کہ صوبہ جنوبی پنجاب بننا چاہئے تو دارالحکومت بہاولپور بن جائے۔میری اس رائے کے پیچھے کوئی خاص ایجنڈا،خواہش یا مفاد وابستہ نہیں،بلکہ میں نے ایک ممکنہ حل پیش کرنے کی کوشش کی۔اس وقت دو صوبوں کے قیام کے مطالبات سامنے آرہے تھے،ایک سرائیکستان یا جنوبی پنجاب اور دوسرا صوبہ بہاولپور۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت پنجاب میں بیک وقت دو نئے صوبوں کا قیام ممکن نہیں،نہ حالات سازگار ہیں نہ ہی مطلوبہ وسائل دستیاب ہیں۔

 

میں نے ان دو نئے صوبوں کے مطالبات کو ایک تجویز کی شکل میں پیش کردیا۔میں نے اپنی ناقص رائے میں یہ تجویز پیش کی کہ جنوبی پنجاب کے اضلاع کو ملا کر صوبہ جنوبی پنجاب بنالیں،اس کا نام بیشک سرائیکستان رکھ دیں جبکہ صوبہ بہاولپور کا مطالبہ کرنے والوں کو دارالحکومت بنادیں۔اسطرح دونوں مطالبات کوکسی حد تک مطمئن کیا جاسکے گا۔مستقبل میں اگر کبھی نئے صوبے پاکستان میں بنائے گئے تو وہاں پنجاب میں نئے صوبوں کے مطالبے کو پھر سے دیکھا جا سکتا ہے۔میری اس رائے میں جنوبی پنجاب کی سیاسی قیادت کو بھی مشورہ دیا گیا تھا کہ اپنے سیاسی مفادات اور جماعتی وابستگی کو پس پشت ڈال کر نئے صوبے کے حوالے سے ملکرکام کریں۔اس حوالے سے آخری فیصلہ اور رائے سیاسی قیادت اور عوام کی ہی ہو گی،قلم کار اپنی تجاویز کا اپنی تحریر میں اظہار کرتے رہتے ہیں۔

چند دن قبل ایسی خبر آئی ہے جسکو صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کی طرف پہلا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔اس خبر کے مطابق صوبہ جنوبی پنجاب کا بل اسمبلی میں لانے کی تیاری کی جا رہی ہے اور ابتدائی اقدام کے طور پر بہاولپورمیں اس نئے صوبے کاسیکریٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے۔بہاولپور کو ایک طرح کا صوبائی سیکریٹریٹ کا درجہ حاصل ہو گا،ایڈیشنل سیکرٹری اور آئی جی الگ سے تعینات کیے جائیں گے۔اس خبر کے بعد جنوبی پنجاب میں خوشی کی بجائے اختلاف کی خبریں زیادہ آنا شروع ہو گئی ہیں۔ملتان والوں کو بہاولپور سیکرٹریٹ پر اعتراض ہے،بلکہ میانوالی،بھکر،لیہ اور خوشاب والے اس پر کسی حد تک درست موقف بھی رکھتے ہیں کہ انہیں بہاولپور کی نسبت لاہور کا سفر کم اور بہتر لگتا ہے۔لاہور کی جانب روڈز اچھی بنی ہیں اور ٹرانسپورٹ بھی اچھی چلتی ہے۔اس لئے بہاولپور میں سیکرٹریٹ بننا ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دے گا۔

 

میر ی نظر میں اب زیادہ ذمہ داری مقامی سیاسی قیادت کی ہے۔پیپلز پارٹی،ن لیگ اور مقامی سیاسی جماعتوں کو مثبت کردار ادا کرنا ہو گا،مجھے لگتا ہے کہ قومی اپوزیشن جماعتیں اب ذہنی اُلجھن کا شکار ہیں۔اگر صوبے کی حمایت کرتی ہیں تو کریڈٹ تحریک انصاف کو جاتا ہے،اگر حمایت نہیں کرتیں تو جنوبی پنجاب کے عوام کے سامنے ایکسپوز ہو جائیں گے۔پیپلز پارٹی نے تو باقاعدہ اپنے دور اقتدار میں صوبہ بنانے کا اعلان کر دیا تھا،جو کہ اس وقت بھی ان کی سیاسی چال ہی لگ رہی تھی۔اب یہ موقع ہے کہ ان کی سنجیدگی کا اظہار ہو سکے۔جنوبی پنجاب میں تمام سیاسی جماعتوں کے معتبر ترین،محترم اور سنجیدہ سیاستدانوں کی ایک کمیٹی قائم کر دی جائے اور انہیں با اختیار بنا دیا جائے کہ وہ صوبے کا نام،صدرمقام اور انتظامی معاملات کے طریقہ کار تجویز کریں۔ان میں جناب ریاض حسین پیر زادہ،شاہ محمود قریشی،رفیق رجوانہ،جہانگیر ترین،احمد علی اولکھ،یوسف رضا گیلانی سمیت اور کئی بڑے اور محترم نام ہیں جو جنوبی پنجاب کی اندرونی سیاست کو کوئی سمت دے سکتے ہیں۔

 

میری رائے میں تحریک انصاف نے بال اب مقامی سیاستدانوں کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔اگر اس موقع کا فائدہ نہ اُٹھایا گیا،تو تحریک انصاف اس کو آئندہ انتخابات میں بھر پور طریقے سے اپوزیشن کے خلاف استعمال کرے گی۔دوسرا یہ کہ صوبہ بنانے کا یہ موقع تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ قومی سیاسی جماعتوں کی سیاست کو نہ دیکھیں،جنوبی پنجاب کے معتبرو محترم سیاستدان اپنی ذمہ داری سمجھتے ہو ئے اپنے عوام اور خطے سے وفا داری نبھائیں۔اگر تحریک انصاف صرف سیاسی چال چل رہی ہے تو بھی حکمت سے ایکسپوز کردیں،اپنا تعاون و تجاویز پیش کریں،پہلے سیکرٹریٹ بعد میں صوبے کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

 

میانوالی خوبصورت،مخلص،محبت شعار لوگوں کا شہر ہے،ان کی نمائندگی میرے ممدوح،میرے فیورٹ ڈاکٹر شیر افگن مرحوم کے صاحبزادے امجد علی خان اور محترم عبید اللہ شادی خیل بھی کر سکتے ہیں۔میں نے چند بڑی سیاسی جماعتوں کے چند نام محض مثال کے طور پر ذکر کیے ہیں،حتمی ناموں کافیصلہ ان کی جماعتیں یا مقامی عوام کر سکتے ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں کیسیاسی قیادت اس موقع کو کسی سازش کا شکار نہ ہو نے دے،نہ ہی کسی سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں پڑیں،بس اپنے مقصد پر نظر رکھیں۔جنوبی پنجاب صوبہ کا مقدمہ جو گذشتہ کئی سالوں سے عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا رہا ہے،اب اس مقدمے کی تکمیل کا فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔جھنگ،خوشاب،میانوالی خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔ملتان اور بہاولپور کی لڑائی میں ان اضلاع کو نظر انداز نہ کیا جائے،وہاں بڑے ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے جائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.