کہانی مقابلے اور لکھاری تحریر : عاطف حسین شاہ

Story Competition and Writer: Atif Hussain Shah

0 77

نئے لکھاری مقابلوں میں یہ سوچ کر شریک ہوتے ہیں کہ اس سے وہ میدان میں اترنے کا خواب پورا کر سکیں گے۔ یعنی مقابلہ لکھنے کے حوالے سے ان کی ہمت بڑھاتا ہے۔

 

پہلے سے لکھنے والوں کے دو بنیادی گروہ ہیں۔ پہلا وہ جو رائٹنگ بلاک یا سستی کا شکار ہوتا ہے، وہ اپنے قلم کو پھر سے رواں کرنے کے لیے مقابلے میں کود پڑتا ہے۔

 

دوسرا گروہ مشق اور حوصلہ افزائی کی نیت سے شرکت کرتا ہے۔ مشہور اور پرانے قلم کار مقابلوں (بالخصوص سوشل میڈیا پر ہونے والے مقابلوں) میں کم ہی حصہ لیتے ہیں۔ وہ اسے اپنے شایان شان نہیں سمجھتے یا ان کا مقصود نئے لکھاریوں کو موقع دینا ہوتا ہے۔

 

"حصہ لینا” کہہ دینے کی حد تک تو آسان ہے مگر اس میں لکھاری اپنی بھرپور جان مارتا ہے۔ اتنی جان شاید وہ رسائل کے لیے نہ مارتا ہو کیوں کہ یہاں اس کی نظریں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے پر ٹکی ہوتی ہیں۔

 

حصہ لینے والا لکھاری مقابلے کی شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے طور پر شاہکار تحریر کرتا ہے پھر فیصلہ منصفین پر چھوڑ دیتا ہے۔

 

منصفین منصفانہ طور پر فیصلہ کرتے ہیں، یہ الگ مگر بے کار بحث ہے۔ بہت کم یہ فیصلہ دی گئی شرائط کی روشنی میں کیا جاتا ہے اور بہت کم لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جسے دوسرے الفاظ میں عزت کرنا کہتے ہیں۔

 

اکثر اوقات جب دعوے پورے کرنے کا وقت آن پہنچتا ہے، جو دراصل منتظم و مہتمم (منتظمین و مہتممین) کی جان کنی کا وقت ہوتا ہے تو بعض ناظمین ان نتائج کو کئی سالوں تک کھینچ کر لے جاتے ہیں،لکھاری اپنی عزت کی پروا کیے بغیر دستک دیتا رہتا ہے کہ کب ہماری جھولی میں خیر ڈالی جائے گی؟

 

بات ہو رہی تھی دعووں کی، دعوے کرتے وقت تو زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے جاتے ہیں مگر عمل کے وقت بجائے اپنی اصل حیثیت اور تنگ دستی و تنگ نظری ظاہر کرنے کے، سارا ملبہ لکھاریوں پر ڈال دیا جاتا ہے کہ آپ سب کو تو لکھنا ہی نہیں آتا۔ تحریریں غیر معیاری تھیں۔

 

تحریر بکنے کا وقت نہیں رہا اب، زمانہ بدل چکا ہے۔ اب تحریر کے بِکنے سے بَکنے کی اہمیت زیادہ ہے۔ ساتھ ہی وہ لکھاری سے بھیک میں تحریر بھی مانگ لیتا ہے۔ لحاظ اور مروت کا مارا لکھاری اپنے آنسو پینے لگتا ہے۔

 

بحیثیت ایک معمولی اور ادنیٰ سا لکھاری، میں تمام لکھاری دوستوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ احساسات کے بہترین ترجمان ہونے کے باوجود آپ اپنی بے عزتی کیوں محسوس نہیں کرتے؟

 

کیا توقیرِ ذات آپ کے لیے نہیں ہے؟ اگر ہے تو ایسے بے مروت منتظمین و مہتممین کو کھل کر بتانا شروع کیجیے کہ ہمارے لکھے کی قدر ہے۔ زمانہ جیسا بھی آ جائے، تحریر کا ہمیشہ محتاج رہے گا۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.