مُعَلِّم٬اُستاد٬ٹیچر اور گرُو معنوی لحاظ سے یہ چاروں الفاظ تقریباََ ایک سے ہیں.کاشف جانباز

Teacher, Teacher and Guru, these four words are almost identical in meaning. Kashif Janbaz

0 73

مُعَلِّم٬اُستاد٬ٹیچر اور گرُو معنوی لحاظ سے یہ چاروں الفاظ تقریباََ ایک سے ہیں………

مُعَلِّم جو جہالت کے بے آب و گیاہ ویرانے میں بیج بونے کے بعد اس میں علم و دانش کا پانی چھوڑ کر اذہان کی بنجر زمینیں سرسبز و شاداب کرتا ہے………

اُستاد جو دور افتادہ بڑی بڑی منزلوں کو جاتی چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں پر چلنے کا سلیقہ سکھاتا ہے جس کے بعد بمشکل پیر رکھنے کی وسعت رکھنے والی پگڈنڈیاں کُشادہ راہوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں……..

ٹیچر وہ ہے جو سمجھ کو سمجھ سے آشنا کرتا ہے………

اور گُرو وہ ہوتا ہے جو زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے کے نہ صرف گُر سکھاتا ہے٬بلکہ جنہیں پڑھا ہوتا ہے اُنکے پڑنے پر ان سے نبرد آزمائی کا حوصلہ بھی دیتا ہے…………………

جن سے میں نے سیکھا٬شاید سیکھنا کہنا نامناسب ہوگا جن کے زیرِ سایہ رہنے کا شرف حاصل ہوا انکی اک لمبی فہرست ہے٬کچھ کے نام وقت کی تھپیڑوں نے ذہن سے مٹا دئیے اور کچھ ایسی نفاست سے درج ہیں کہ کل کی ہی بات معلوم ہوتی ہے……

لیکن یہ میری بلند بختی ہی ہے کہ میں نے ان کے ساتھ اک بہترین وقت گزارا جو زندگی کو واقعتاً زندگی بنانے کا موجب ثابت ہوۓ پھر وہ بھول گئے یا یاد ہیں………

البتہ اگر میں یادداشت کے کینوس پر اُترے استادوں کا ذکر کرنا شروع کروں تو یقینا پوری کتاب لکھی جاۓ….
اسلئے یہاں صرف انکا ذکر کرنے لگا ہوں جنکا "کردار” کردار سازی میں پیش پیش رہا……

سب سے پہلے قاری بشیر حفظہ اللہ جن سے حفظ کیا٬انکی اصلاحات جیسے میرے دل پہ نقش ہیں وہ جو اَن مٹ ہیں٬گوکہ میں اچھا شاگرد نہ تھا لیکن وہ بہت ہی اچھے استاد ثابت ہوۓ…..

وہ سبق کچا ہونے پر تو کم ہی سزا دیتے تھے البتہ سبقی اور منزل پر ان کا لمبا کر کے کمر پہ ڈنڈے برسانا بڑا دلچسپ مرحلہ ہوا کرتا تھا کہ جب دو لڑکے ہاتھ اور پیروں سے پکڑ کر مجرم کو ہوا میں مُعَلَّق کر دیتے تھے اور استاد جی ڈنڈوں سے ٹکور کیا کرتے تھے جسے ہماری کلاس آپریش کہا کرتی تھی……

میں چونکہ وہی غبی شاگرد تھا مگر اُن چار پانچ سالوں میں مجھے ایک بار ہی یہ سوغات ملی جس نے مجھے کافی حد تک سیدھا کردیا اب سوچتا ہوں کہ دو تین آپریشن اور ہو جاتے میں مکمل سیدھا ہو جاتا…….

اِسکے بعد انٹر کے اک استاد سر اوصاف حسین جو ہمیں انگلش پڑھایا کرتے تھے جنکا ذکر میں نے اپنی پہلی کتاب میں بھی کیا تھا ان سے زندگی کا اصل مفہوم سمجھا انکی باتوں کے تو کیا ہی کہنے

انہی باتوں میں سے اک بات کہ اللہ تعالی نے عورت ذات میں ایسا ڈٹیکٹر نصب کر رکھا ہے جو ہر مرد کی قلعی کھول کے رکھ دیتا ہے کہ آیا وہ "اصل” ہے کہ "کمینہ” یہ بات بھلاۓ نہیں بھولتی٬آج جب بھی باپ کی گڑیوں کو خوشی خوشی کسی لُچَّے اور اوباش کا کھلونا بنتے دیکھتا ہوں تو دل بُھنا جاتا ہے…..

اِن دو عظیم اساتذہ کے بعد یونیورسٹی کے ٹیچرز کی باری آتی ہے جہاں سر بہ سر "سروں” سے واسطہ پڑا……

اور اُستادوں کی جتنی ورائٹی مجھے یونورسٹی میں ملی وہ بھی اپنے آپ میں اک عجوبہ اور ریکارڈ ہی ہے………

کیونکہ ہر دوسرا "سر” پہلے سے بڑا٬البتہ خصوصیات میں تفاوت برقرار رہا……..

بی بی اے کے چار سالوں میں جو جو قِسمیں ملیں وہ پیشِ خدمت ہیں………………….

‬‎کسی سر کی سِرے سے سمجھ ہی نہ آئی لیکن رزلٹ
اچھاخاصہ قابلِ سمجھ رہا کیونکہ نمبر انتہائی خوش کُن رہے…………………

اور کسی کے لیکچرز ایسے کہ نہ سمجھنے پر بھی ایسے سمجھ آۓ کہ بندہ کسی کو بھی سمجھا دے…………………..

جبکہ کسی نے ایک لفظ کے معنی میں ہی پورا سمسٹر گزار دیا……..

کسی نے سبجیکٹ کچھ لیا اور کہانیاں کچھ سنائیں……

جہاں کسی کسی کو نہ سمجھ کر بھی با آسانی پاس ہوتے رہے وہیں کسی کو سمجھ سمجھ کر بھی پیپر ہاتھ میں آتے ہی کچھ سمجھ نہ آنے کی کیفیت سے بھی بار بار دوچار رہا گیا………

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.