نسلوں کے حالات بڑوں کے کردار پر ہیں تحریر۔ظفر اقبال ظفر لاہور پاکستان

The conditions of generations are on the role of elders

0 16

یہ ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جیسے اپنوں نے توڑا تھا اور غیروں نے جوڑا تھاغیروں سے اپنوں جیسا اور اپنوں سے غیروں جیسا سلوک اسے تلخ کیفیت میں تقسیم کیے ہوئے تھاخوشی اور غم میں کھل کر جینے سے محروم انسان اپنی بنیادیں رکھنے والے بڑوں سے شکوے میں ماضی کی ناانصافیوں کا صلہ تو نہیں حاصل کر سکا

 

مگر اپنی محرومیوں کا تزکرہ زمانے کے سامنے اس انداز میں پیش کرنا چاہتا ہے کہ آج کے نوجوان جب کل کو بڑوں کے مقام پر پہنچیں تو اپنی اگلی نسل کو وہ بزرگ نہ دیں جو انہیں ملے

 

جنہوں نے اپنی نسلوں میں اُلجھنیں پیدا کر دیں جنہوں نے اولاد میں ناانصافی کرکے اپنی ہی نسل سے جڑے رشتوں میں دراڈیں ڈال دیں وراثت میں ایک کو زیادہ تو دوسرے کو کم دینے والے بڑوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بڑوں کا ترازو برابر تولتا ہے جھول وہی مارتے ہیں جن کی عمریں تو بڑھی ہوں مگر سوچ چھوٹی ہی رہ گئی ہو

 

جس طرح جسمانی بانجھ پن انسان اولاد پیدا نہیں کر سکتا اسی طرح دماغی طور پر بانجھ پن کا شکار بڑے اپنی نسلوں کو مل کر چلنے کی بجائے جدا رستوں پر ڈال کرزندگی بھر کے لیے اکیلا کر دیتے ہیں اس طرح کے تنہا سرپرستوں کو اپنی اولاد کو جوڑ کر رکھنے کا سبق زندگی سے نہیں رشتوں سے ملتا ہے

 

اپنے گمنام بڑوں کے رویعوں سے متاثر خود کو شخصیت کے اعتبار سے پہچان کی راہ پر گامزن کرنے والا ایک بندہ بتاتا ہے کہ وہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوا جو میرے مزاج اور سوچ کے حساب سے کسی صورت نہیں ملتا تھا شاید خدا اس خاندان کا نظریہ جہالت میرے زریعے بدلنا چاہتا تھامجھے اعلیٰ ظرف خاندانی طرز عمل کا میسر نا ہونا بدقسمتی کا احساس دے رہا تھا

 

غربت کی موجودگی اور تعلیم کی غیر موجودگی سے بھرپور رشتوں کی طرف سے ناانصافی کا شکار ہوکر مزید غربت کی گہرائیوں میں ڈوبنے والا میں کبھی اپنے بڑوں کو معاف نہیں کر پایااور ہمیشہ احساس کمتری میں ڈوبا نوازے گئے

 

لوگوں کا محتاج ہی رہااور کوئی امیر انسان اپنی نسلوں کے استعمال سے بھی زیادہ کا مالک ہو اورضرورت مندکی مدد کی بجائے اس سے اس کی مجبوری خرید رہا ہو توپھر آسمان کی طرف دل اور نگاہ شکوہ بن کرمتوجہ تو ہوتے ہیں اور گمان بھی پیدا ہوتا ہے

 

کہ اس طرح کے غریبوں سے رب کا حساب کرنا نہیں بلکہ معاف کرناہی بنتا ہے اپنی اولاد کی زریعے غربت دور کرنے والے باپ کی سختی مار پیٹ اک معمول بن جائے تو ماں اپنے آپ کو بیوی کی جگہ پر رکھ کر خاوند کو اکساتی ہے شکاتیں لگاتی ہیں اپنے خاوند کے غلط نظریے کی ساتھی بننا اپنا فرض سمجھنے لگتی ہے

 

تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی غلط عمل کے زریعے صیح کرنے کی کوشش کی جائے باپ دنیا میں اولاد سے پہلے اس لیے بھی آتا ہے کہ وہ دنیا کے حساب کتاب کو سمجھ کر اپنے بچوں کے لیے ایک راستہ بنائے جو تربیت کی روشنی میں نظر آسکے اپنے ہی بچوں کا ناکام مستقبل تخلیق کرنے والے بڑے نا صرف اپنے بلکہ اپنے بچوں کے بھی مجرم ہوتے ہیں جو شکوہ کرتے ہیں

 

کہ اولاد اچھی نہیں نکلی جبکہ انہوں نے اولاد کو اچھا تراشہ ہی نہیں ہوتا قدرت امیر اور غریب کو جسمانی اعتبار سے پورے اعضا رکھنے والے بچے دیتی ہے اگر مذہب نے اولاد کو پابند کیا ہے کہ والدین برے بھی ہوں تو تم نے انہیں اچھا ہی سمجھنا ہے اسی مذہب نے ماں باپ کو بھی ضرور پابند کیا ہوگا کہ اولاد جیسی بھی تم نے انہیں اچھا ہی سمجھنا ہے

 

قدرت بھلا رشتوں میں محبت اور قدر کا حق کیسے مار سکتی ہے۔ کہیں دونوں طرف سے اچھائی کا معیار برابر و برقرار نا رکھنے کا نام فاصلے تو نہیں۔بڑے اپنے بچوں کو امیر انسان بنانے کی بجائے اچھا انسان بنانے پر کیوں وہ سختیاں نہیں کرتے جو امیر بنانے پر کرتے ہوئے غریب سے غریب تر ہوتے جاتے ہیں

 

بھلا انسانیت سے بڑی کون سی دولت ہے جو رشتوں اور معاشرے میں حسن سلوک کی خوشبو مہکاتی ہے۔آپ نے کبھی جگنو کو غور سے دیکھا ہے اس کی روشنی اس کے پچھلے حصے پر ہوتی ہے جگنو کو تخلیق کرنے والی قدرت کا یہ فیصلہ اس بات کا پتا دیتا ہے کہ روشنی کی حامل تمام مخلوقوں کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے

 

کہ اس روشنی پر صرف پیچھے والوں کا حق ہے اس کے برعکس اپنا گھر روشن کرنے والوں کا مقدر اندھیرے ہوتے ہیں اور دوسروں کی زندگیوں میں روشنی مہیا کرنے والوں کی قبروں پر بھی اندھیرے نہیں ہوتے امیر انسان بنانا اور بات ہے مگر بات بنانے والا انسان بنانا اور بات ہوتی ہے۔

 

اگر بڑے بچپنا نہ کریں تو اولاد کا بچپن بھی عمر سے بڑی باتیں سیکھنے میں گزرتا ہے جن کو جوانی میں دیکھ کر ہر بندہ ان کے بڑوں کو شاباش دیتا ہے یعنی اولاد کا کردار بڑوں کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہ ہر گھر یا ہر بڑے کی کہانی نہیں ہے بہت سے ایسے بھی لوگ ہیں

 

جنہوں نے اپنی زندگی ایسی گزاری کہ ان پر کتابیں لکھی گئیں اور اولادیں ایسی نکلیں کہ کبھی دل کا صندوق کسی کو کھول کے بھی نہیں دکھا سکے کہ کتنے دکھ جمع کر رکھے ہیں اور کئی ایسی نسلیں بھی ہیں جنہوں نے اپنے بڑوں کے عیبوں پر پردہ ڈالے رکھامگر پھر بھی ہماری زندگی میں ہمارے بڑوں کا اچھا یا براکردار ہم سے زیادہ ہوتا ہے۔

 

جس طرح معاشرہ اپنے بچوں کو دنیاوی ترقی مقام عہدہ دلانے کی تعلیم دلاتے ہیں اسی طرح معاشرے کو اچھا انسان دینے کے لیے تربیت انسانیت دلانا بھی بہت اہم ہے۔

 

بچے اپنے بڑوں کو تو نہیں بدل سکتے مگر خود اچھے بزرگ بننے کی راہ پر زندگی گزارتے ہوئے درست فیصلوں سے اپنی نسلوں کی زندگی میں اتفاق اتحاد پیار محبت اور آسانیاں پیدا کرنے والی تقسیم سے معاشرے کے دکھ کم کر سکتے ہیں۔

 

کامیاب خاندان وہی ہے جو خوشحال خاندان ہے۔بچپن جوانی کی طرف اور جوانی بڑھاپے کی طرف سفر کرتی ہے عمر کے ہر کردار کو مثالی بنائیں

 

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.