کورونا وائرس نے عالمی دنیا کو 200ٹریلین ڈالر قرض کے شکنجے میں جکڑ دیا

ہر ملک کی معیشت تباہ ہو چکی،آمدہ سال بھی معیشت بحال ہوتی دکھائی نہیں دیتی

0 29

رواں برس سال کے آغاز سے ہی دنیا بھر میں تہلکہ مچانے والے کورونا وائرس کی انٹری کے ساتھ ہی دنیا بھر میں لاک ڈاﺅن ہو گیا۔

کورونا وائرس نے عالمی دنیا کو 200ٹریلین ڈالر قرض کے شکنجے میں جکڑ دیا
لاک ڈاﺅن کے نتیجے میں جہاں لوگوں کا گھروں سے نکلنا بند ہو گیا وہاں کاروبار بھی بندش کا شکار ہو گیا۔یوں کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی جمع پونجی کی طرف توجہ کرنا پڑی اور جب جمع پونجی بھی ختم ہو گئی تو قرض لے کر سرکل چلانا پڑا۔

 

درمیان میں وبا کا زور ٹوٹا اور معیشت ابھی راہ پر آنے ہی لگی تھی کی وبا کی دوسری لہر آ گئی اور دنیا کے کئی ممالک نے ایک بار پھر لاک ڈاﺅن کر دیا۔

 

کسی ملک میں سخت تو کسی میں جزوی لاک ڈاﺅن کیا گیا ہے مگر پھر بھی یہ معیشت کو سنبھلنے نہیں دے رہا۔یوں عالمی معیشت میں ابتری کی صورت حال کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک کی قرض لینے کی شرح میں اضافہ ہو گیا ہوا ہے۔

 

حال ہی میں یوکے سے تعلق رکھنے والی ایک معاشی انڈیکیٹر فرم ایس ای پی نے تحقیق کی ہے کہ سال2020کا آخری مہینہ جب ختم ہو گا

 

اس دن دنیا بھر کے ممالک کا قرض ملا کر 200ٹریلن ڈالر تک پہنچ چکا ہو گا۔ اس وبا میں لگنے والے لاک ڈاﺅن کے دوران انفرادی اور خاندانی سطح کے علاوہ ملکوں کی حکومتوں نے بھی اپنا سسٹم چلانے کے لیے قرضہ لیا ہے

 

جس وجہ سے عالمی معیشت میں خرابی آنے کے علاوہ دنیا بھر میں امارت اور غربت کی ایک اور واضح لکیر پیدا ہو گئی ہے۔

کیونکہ وبا اور اس کے نتیجے میں لگنے والے لاک ڈاﺅن کے دوران دنیا کے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جن کی معیشت نے بڑی تیزی سے ترقی کی ہے

 

اور وہاں کے افراد کھربوں پتی ہو گئے ہیں۔جبکہ چند ممالک کے کچھ نئے ارب پتی افراد بھی سامنے آئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کورونا وائرس نے جہاں دنیا کی معیشت کو دھچکا پہنچایا ہے

 

وہاں یہ کسی کے لیے آسانی کا سبب بھی بنی ہے۔تاہم اگر مجموعی سطح پر دیکھا جائے تو عالمی دنیا قرضوں کے شکنجے میں آ چکی ہوئی ہے اور آمدہ برس یعنی2021میں بھی دنیا کے اکثر ممالک قرض کے اس شکنجے سے باہر نکلتے نظر نہیں آتے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.