رحمت الٰہی کی تلاش میں خود کو بدلنا ہو گا ! تحریر:شاہد ندیم احمد

ہم حقوق اللہ کی ادائیگی میں کوتاہی پر معافی مانگیں اور آئندہ نماز، روزے‘ حج‘ زکوٰۃ کی پابندی کا عہد کریں

0 187

کورونا وائرس نے دنیا کی سیاست، معیشت، ثقافت اور معاشرت پرایسے اثرات مرتّب کیے ہیں جو اِس سے پہلے کم ہی دیکھے گئے ہیں۔کرونا وائرس بظاہر ایک لاعلاج بیماری ہے،مگر اس نے پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ انسان کی سوچ،انداز گفتگو‘ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے،ملنے جلنے،رہنے،سہنے،پہننے اوڑھنے کے معمولات میں نمایاں فرق کا مشاہدہ ہر ذی شعورکر رہا ہے،انسانی ترجیحات بدل چکی ہیں اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہے۔ایک دم سے زندگی میں ایسی تبدیلی آئی ہے کہ جس میں ماں باپ اپنے پیارے بچوں کا منہ چومنے کو ترسنے لگے ہیں سکیں،

 

اس نا گہانی اَفت کے بعد تو میاں بیوی کو بھی ایک بستر پر مل بیٹھنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی اہل خانہ عزیز واکارب سے میل جول رکھ سکتے ہیں،اس بیماری سے موت ایسی کہ کوئی قریبی عزیز رشتے دار غسل دے سکے، نہ کفن پہنانے کے قابل اور اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارنے کی بھی سخت ممانعت ہے،یہ بیماری کی شکل میں کیسی سزا ہے کہ جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہو ئے بھی ایک دوسرے سے دور رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں،یہ دراصل صرف بیماری نہیں،اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔ اگر ہم نے آزمائش کی گھڑی میں اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لئے توبہ و استغفار اورعبادت،سخاوت اور رحمدلی کو شعار نہ بنایا اوربدستور نافرمانی، کمینگی و سنگدلی کی دیرینہ عادت میں مبتلا رہے تو ذلت و رسوائی کے ساتھ ازیت ناک موت کے سواکچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

 

یہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نہیں،توبہ استغفار کا وقت ہے،لیکن توبہ صرف ایسے نہیں کہ ہم حقوق اللہ کی ادائیگی میں کوتاہی پر معافی مانگیں اور آئندہ نماز، روزے‘ حج‘ زکوٰۃ کی پابندی کا عہد کریں،بلکہ جھوٹ،مکروفریب،بدعہدی،بددیانتی،ملاوٹ،ذخیرہ اندوزی،گراں فروشی،جعلی ادویات کی تیاری و منافع خوری،دوسروں کی حق تلفی سے مکمل احتراز اور اللہ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا عہد اور تلافی مافات حقیقی توبہ ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو صرف اعتراف جرم اور نیک چلنی کی یقین دہانی کے ساتھ معاف فرما دیتا ہے، لیکن حقوق العباد کی معافی اس وقت تک ممکن نہیں کہ جب تک حق تلفی کا ازالہ نہ ہوجائے۔یہ اپنے ہی بھائی بندوں کو ملاوٹ،گراں فروشی،ذخیرہ اندوزی سے نقصان پہچانے والا شخص آخر کس کس سے معافی کا طلب گار ہو گااور کس طرح حق تلفی کا ازالہ کر سکتا ہے،اس کے متعلق ہم سب کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

 

یہ امر واضح ہے کہ جب کسی نا گہانی وبا کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مظہر قرار دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ خالق و مالک اپنے بندوں کی مکروہ حرکتوں اور مردم بیزار اعمال سے رنجیدہ ہے اور بھولے بھٹکے انسانوں کو احساس دلانے پر مائل ہے کہ وہ اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کی جان پر ظلم کرنے سے باز آجائیں اور قوانین فطرت کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے رویوں کو درست کریں۔اس کرہ ئارضی کو انسان نما وحشی درندوں کی آماجگاہ نہ بنائیں،جو آہستہ آہستہ بنتی جا رہی ہے۔ یہ سائنس و ٹیکنالوجی اور مذہب کے مابین مقابلے نہیں،یہ سائنس و ٹیکنالوجی کے بتوں کی پوجا چھوڑ کر ایک معبود حقیقی اللہ تعالی کے سامنے سر جھکانے کا وقت ہے جس نے تدبیر، دعا اور توکل کا راستہ دکھا کر انسان کو آزمایا کہ وہ کس راستے پر چلتا ہے۔ہم نے احتیاطی تدابیر کے نام پر اللہ اور اس کے رسولﷺکے معتبر مقامات کو بھی بند کرکے دیکھ لیا ہے،

 

اس ناگہانی اَفت کو تدبیروں سے نہیں،بلکہ اپنے اعمال کو درست کرنے کی عہد سازی سے ہی دور کیا جاسکتا ہے،ہمیں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے گھروں کو کھول کر اجتماعی توبہ استغفار کرنا ہو گی،مساجد کو بند کرنے کی ترغیب دینے کی بجائے اجتماعی آذان و دعاؤں کی تلقین کر نا ہو گی،کیو نکہ اب ا للہ تعالی کی راضا مندی میں ہی سب کی بقا ء پو شیدہ ہے، ہمیں دنیا کی بجائے اللہ کی رضا کیلئے خود کو بدلنا ہو گا،یہ ہم جتنی جلد جان کر مان لیں گے،اتنا ہی جلد سُرخرو ہوجائیں گے،ورنہ پھر توبہ استغفار کرنے کا موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔

 

یہ امر قابل تحسین ہے کہ وزیر اعظم نے مولا نا طارق جمیل سے اللہ تعالی کے حضور دُعا کر نے کی استدعا کی اور انہوں نے بھی دردل کے ساتھ میڈیا پراجتماعی دُعا کروائی ہے،اللہ تعالی نیک لوگوں کی دعاؤں کے صدقے دنیا ئے عالم کو تمام آفات سے نجات عطاء فر مائے،آمین۔حکومت کو مولا نا طارق جمیل کی دُعا کے قبول ہو نے کا انتظار کرنے کی بجائے اپنی کار کرکردگی پر بھی تو جہ دینے کی ضرورت ہے، وزیر اعظم عمران خان کے امدادی پیکیج کے اعلانات خوش آئند،مگر اس لاک ڈاؤن صورت حال میں تمام اعلانات اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہیں۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کا کڑوا گھونٹ بھر لیاہے، مگر ذخیرہ اندوزی‘ ناجائز منافع خوری اور گراں فروشی کے خاتمے کی مہم زبانی کلامی دعوؤں تک محدود ہے۔

 

انتظامیہ کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سست روی بڑے خطرے کو جنم دے رہی ہے، کہیں یہ عوام دشمن مافیا غریب عوام کو بھوکوں مرنے پر مجبور نہ کر دے،جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی اپنے حلقہ انتخاب میں ضرورت مندوں کی خدمت کرنے کے بجائے اپنے دیرینہ مشاغل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
اس وقت وزیر اعظم عمران خان سمیت دیگر سیاسی قائدین کو چاہئے کہ وہ اپنے ارکان پارلیمنٹ کو حق نمائندگی ادا کرنے کی ترغیب دیں،اس وقت عوامی نمائندگان کو غریب عوام کے پاس پہنچ کر ان کی دادرسی کرنی چاہئے،یہ وقت ایک دوسرے کی کو تاہیوں پر سیاسی پوئنٹ سکورنگ کا نہیں،بلکہ باہمی مشاورت سے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے کا ہے،اس نازک موقع پر غریب ضرورت مندوں کو اشیائے خورو نوش گھروں تک پہنچانے کے لئے رضا کاروں کی بھرتی میں مزید تاخیر نقصان دہ ہے،

 

کیو نکہ غریبوں کے چولہے ٹھنڈے ہونے لگے ہیں،اگر بھوک ناچنے لگی توبھوکوں کے بڑھتے غول در غول روکنا مشکل ہو جائیں گے۔ حکومت کیلئے اعلانات کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کو یقینی بنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کرونا کے مریض مسلسل دہائی دے رہے ہیں کہ وہ مخصوص مراکز میں بدسلوکی کا شکار ہیں اور جو لوگ گھروں میں سیلف آئسولیشن کے ذریعے اپنا علاج کرنے کے قابل ہیں انہیں بھی پولیس اہلکار زبردستی بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر ان مراکز میں لے جارہی ہے، جہاں پر سہولتوں کا فقدان اور مرض بڑھنے کا خطرہ ہے۔وزیر اعظم عمران خان اوردیگر صوبائی وزراء اعلیٰ کو عوامی شکائت کا فوری ازالہ کرنا چاہئے، تاکہ قرنطینہ مراکز اور ہسپتال عوام کے لئے باعث سہولت رہیں، عقوبت کدے اور اذیت خانے نہ بنیں،کورونا وائرس نے دنیا بدل کررکھ دی ہے،ہمیں رضائے الٰہی کی تلاش میں خود کو بدلنا ہو گا،اسی میں کا میابی اور انسانی بقاپوشیدہ ہے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.