قلم کا گیت ( شاعر ) محمد ادریس قریشی

قلم نے سب رقم کیا نہیں رکھا حجاب میں خدا نے خود کہا ہے ن والقلم کتاب میں

0 62

قلم نے آدمی کو علم سے سبھی ہنر دیے
قلم نے کس قدر ہمیں عظیم نامہ بر دیے
قلم نے رنگ پیار کے معاشرے میں بھردیے
قلم کی خوب صورتی عیاں ہرایک باب میں
خدا نے خود کہا ہے ن والقلم کتاب میں

 

قلم نے صبر کے رضا کے لکھ دیے معاملے
قلم نے جور کے جفا کے کردیے محاسبے
قلم سے خیروشر کے طے ہوئے ہیں سارے ضابطے
قلم کی عظمتوں کا ہو بیان کس حساب میں
خدا نے خود کہا ہے ن والقلم کتاب میں

 

قلم نے زور علم سے شبِ سیہ دبوچ لی
قلم نے نفرتوں کی جڑ دماغ و دل سے نوچ لی
قلم سے آدمی نے اک نئی نویلی سوچ لی
قلم کی روشنی ہے آفتاب و ماہتاب میں
خدا نے خود کہا ہے ن والقلم کتاب میں

 

قلم کی دست رس ہے شاہ کے بلند تاج تک
قلم کی زد سے بچ نہیں سکا کوئی مزاج تک
رقم ہیں کرب کے بلا کے سب مناظر آج تک
قلم کی جراتوں کی داستاں ہے ہر نصاب میں
خدا نے خود کہا ہے ن والقلم کتاب میں

 

قلم نے سب قصص لکھے عروج کے زوال کے
قلم کے پاس راز ہیں ہر ایک ماہ و سال کے
قلم نے گیت گائے ہیں یہ ہجر کے وصال کے
قلم نے سب رقم کیا نہیں رکھا حجاب میں
خدا نے خود کہا ہے ن والقلم کتاب میں

 

قلم تو لوح پر ازل سے تا ابد لکیر ہے
قلم تو لازوال ہے قلم تو بے نظیر ہے
قلم کا پاسباں ہے جو وہ امن کا سفیر ہے
قلم کی نکہتیں چمن کے ہیں ہراک گلاب میں
خدا نے خود کہا ہے ن والقلم کتاب میں

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.