خاتون کو واٹس ایپ پر نازیبا میسجز کرنے پر 270000درہم جرمانہ

دبئی کے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت بھاری جرمانہ یا جیل کی ہوا بھی کھانا پڑ سکتی ہے

0 9

ٹیکنالوجی نے جہاں سب کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں وہاں کئی مسائل بھی پیدا کر دیے ہیں۔موبائل فون اور سوشل نیٹ ورک کی بدولت جہاں ہم سات سمندر پار اپنے جاننے والوں اور اجنبیوں کے ساتھ بات چیت کر لیتے ہیں وہاں اس سے کئی ایسی پیچیدگیاں بھی جنم لے رہی ہیں جو لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

اسی انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دبئی کے ایک نوجوان کو ہزاروں درہم کا جرمانہ کروا دیا۔ایک نوجوان کو واٹس ایپ کے ذریعے انجان خاتون کو نازیبا میسجز بھیجنے پر 250000درہم متاثرہ خاتون کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ 20000درہم وہ قانونی جرمانے کے طور پر ادا کرنے کا پابند ہے۔دبئی میں ایک عرب خاتون نے پولیس کے پاس ایک نوجوان کے خلاف کمپلین لکھوائی ا ور واٹس ایپ میسجز بھی دکھائے تھے۔

یہ کیس جب عدالت میں پہنچا تو عدالت نے بھاری جرمانہ عائد کر دیا۔نوجوان پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا کیس دائر کیاگیااور اس کی تفتیش پولیس نے مکمل کرتے ہوئے کیس کو عدالت بھیج دیا تھا۔

خاتون نے کیس میں لکھا تھا کہ نوجوان کے نازیبا میسجز کی وجہ سے اسے اخلاقی طور پر نقصان پہنچا ہے اس بیان پر عدالت نے کیس کا آغاز ہوتے ہی نوجوان کو بیس ہزار درہم کا جرمانہ عائد کر دیا تھا۔

تاہم اب کیس کے اختتام پر نوجوان کل ملا کر 270000درہم جرمانہ ادا کرنا ہے۔یو اے ای کے قانون کے مطابق کسی کو غلط میسج سینڈ کرنا،آن لائن کمنٹ کرنا یا پھر پوسٹ کرنا سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے

اور ایسے کیس کی کم سے کم سزا 250000درہم اور زیادہ سے زیادہ 500000درہم مقرر کی گئی ہے۔جرمانہ کے علاوہ ایسے کیسز میں جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے اور کیس کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.